ہلورے گنگناتی بالیوں کے

ہلورے گنگناتی بالیوں کے
بناتے دائرے سرگوشیوں کے


بہت ہیں وار تیکھے بجلیوں کے
کٹیں گے پنکھ چنچل بدلیوں کے


اکیلے آ گئے جانے کہاں ہم
نشاں ملتے نہیں ہیں ساتھیوں کے


افق پہ شام نے پٹکی ہیں بانہیں
بکھیرے کانچ ٹکڑے چوڑیوں کے


ڈبوئیں گے نگر کو ساتھ اپنے
بھنور دل میں بنے ہیں باسیوں کے


چھپا کر لے گئے سورج کی کرنیں
گھنیرے سائے گہری وادیوں کے


کلی دل کی نہ جانے کب کھلے گی
بھرے پھولوں سے بازو ٹہنیوں کے