قومی زبان

یقیں کے واسطے دل میں گماں ہو

یقیں کے واسطے دل میں گماں ہو شرر ہو بعد میں پہلے دھواں ہو محبت کامیاب و کامراں ہیں کوئی بچہ ہمارے درمیاں ہو خموشی رات سے گھیرے ہوئے ہے مری آواز کے پنچھی کہاں ہو پتا پا کر وہی پہنچے گا اس تک جو پہلے آب بے گھر بے نشاں ہو ندی کیوں جھیل میں سستا رہی ہے ملے ساگر سے جو پانی رواں ...

مزید پڑھیے

کاجل بھرا ہے نین میں اور منہ میں پان بھی

کاجل بھرا ہے نین میں اور منہ میں پان بھی ملتا نہیں ہے روپ کا لیکن نشان بھی اب کیا کہیں وہ جھانکنے والے نہیں رہے نٹکھٹ گلی وہی ہے اور بانکا مکان بھی دل کی پرانی بانسری لے کر کہیں چلیں ترکش کے ساتھ توڑ دیں تیر و کمان بھی اس تنگ دل سے شہر میں کیا سوچ کے بسے آنگن گیا تھا ساتھ میں ...

مزید پڑھیے

اندھیرے میں بلا سی

اندھیرے میں بلا سی اداسی ہی اداسی کسی کے تن کی خوشبو پھرے اڑتی ہوا سی محبت کو زباں دی خموشی کی دعا سی وہی انساں درندہ مگر صورت جدا سی یہ بے قابو طبیعت لگے پیاری خطا سی چڑھی امڑی جوانی نئی رت کی گھٹا سی کھلی خواہش کی کونپل بہت کمسن ذرا سی

مزید پڑھیے

آنے والی صدی کے لگتے ہیں

آنے والی صدی کے لگتے ہیں پنکھ اجلے پری کے لگتے ہیں بعد مدت کے شہر کی چھت پر کچھ ستارے خوشی کے لگتے ہیں ڈوبی کشتی کے تیرتے چپو حوصلے زندگی کے لگتے ہیں ہاتھ خونی کسی درندے کے پاؤں تو آدمی کے لگتے ہیں کوئی چہرہ بھی چھو نہیں پاتے عکس سب آرسی کے لگتے ہیں یوں اترتی ہیں دل میں وہ ...

مزید پڑھیے

ہر پرندے کی بات سنتا ہے

ہر پرندے کی بات سنتا ہے بے زباں پیڑ سب سے اچھا ہے جس قدر ہم نے بھید سمجھا ہے کوئی منزل نہ کوئی رستہ ہے ان اندھیروں کو کس لئے کوسیں روشنی بن کے پھول کھلتا ہے چلنے والا نکل گیا آگے قافلہ راستے میں ٹھہرا ہے جس کی خاطر ہیں جاگتے رہے ہم وہ ابھی پالنے میں سوتا ہے ان دنوں میں ہوں ...

مزید پڑھیے

سن رہے ہیں کوئی تارہ سیر کرتا آئے گا

سن رہے ہیں کوئی تارہ سیر کرتا آئے گا جانے کیا پیغام دھرتی کے لئے وہ لائے گا پھول اک دن خواہشوں کا دھوپ میں کمہلائے گا پتیاں بکھریں گی اس کی بیج ہی رہ جائے گا بانٹ کر آئے گا سب کچھ شہر کے بازار میں ہر مہینے خالی جیبیں گھر کو وہ دکھلائے گا تو ہواؤں سا گزر دامن بچا کر راہ سے پھول کا ...

مزید پڑھیے

ہر اک لب پر خموشی کی صدا تھی

ہر اک لب پر خموشی کی صدا تھی دعاؤں میں بدلتی سی ہوا تھی کشادہ پھیلتے آنگن دلوں کے سبھی کے واسطے گھر میں جگہ تھی جسے سمجھے ہوئے تھے روشنی ہم کسی ماں کی پری جیسی دعا تھی جو بچی کھیلتی تھی ننگے پیروں وہ پہلی رت کی ہی جیسے گھٹا تھی رتن جانا تھا جس کو منتھنوں کا گھڑی وہ زندگی بھر کی ...

مزید پڑھیے

آیا کبھی خیال تو دل سے لپٹ گیا

آیا کبھی خیال تو دل سے لپٹ گیا کیسے سما کے پھر کوئی جیون سے ہٹ گیا پروا چلی تھی گانٹھ کو آنچل سے باندھنے دامن گھٹا کا ہاتھ میں آتے ہی پھٹ گیا بیٹھے ہیں شام اوڑھ کے تنہائیوں میں ہم اک ہنس اپنی ڈار سے جیسے ہو کٹ گیا بدلا نگر نے باڑھ کا منہ اپنی سمت سے ندیا میں بہہ کے گاؤں کا چھوٹا ...

مزید پڑھیے

نظر آیا نہ کوئی بھی ادھر دیکھا ادھر دیکھا

نظر آیا نہ کوئی بھی ادھر دیکھا ادھر دیکھا وہاں پہنچے تو اپنے آپ کو بھی بے نظر دیکھا یہ دھوکا تھا نظر کا یا فرشتہ سبز چادر میں کہیں صحرا میں لہراتا ہوا اس نے شجر دیکھا کہیں پہ جسم اور پہچان دونوں راہ میں چھوڑے خود اپنے آپ کو ہم نے نہ اپنا ہم سفر دیکھا بنے کیا آشیاں تازہ ہوا نہ ...

مزید پڑھیے

سلونی شام کے آنگن میں جب دو وقت ملتے ہیں

سلونی شام کے آنگن میں جب دو وقت ملتے ہیں بھٹکتے ہم سے ان سایوں میں کچھ آدھے ادھورے ہیں سمندر ہے ہمارے سامنے مغرور و خود سر سا ہمیں اک پل بنا کر فاصلے سب پار کرنے ہیں اندھیروں سے اجالوں تک اجالوں سے اندھیروں تک سدا گردش ہی گردش ہے کہاں جانے وہ پہنچے ہیں زمیں کے پھول سونے اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4482 سے 6203