قومی زبان

تجھ پہ دونوں نثار ہیں قاتل

تجھ پہ دونوں نثار ہیں قاتل جان مضطر ہو یا دل بسمل قہر ہے قہر عشق کی منزل ہر قدم آگ ہے نئی مشکل ہو گئے دیکھ کر وہ آئینہ اپنی صورت پہ آپ ہی مائل غم سے آزاد کر دیا ہم کو کیوں نہ پیر مغاں کے ہوں قائل کس قدر دل کشا فضا ہوگی آپ جب ہوں گے زینت محفل آدمیت کو ناز تھا جن پر اب وہ دانا رہے ...

مزید پڑھیے

سوچتا ہوں کہ حال کیا ہوگا

سوچتا ہوں کہ حال کیا ہوگا غم ترا دل سے جب جدا ہوگا میرا غم سن کے اور کیا ہوگا فتنہ گر مسکرا دیا ہوگا خوبرو بے وفا بہت دیکھے کوئی تم سا نہ بے وفا ہوگا لے چلا ہے دل ان کی محفل میں نہیں معلوم حشر کیا ہوگا کر بھلائی کو عام دنیا میں کہ بھلائی کا پھل بھلا ہوگا فصل گل کی نہ بات کر اے ...

مزید پڑھیے

وہ جو محفل میں خوب ہنستا تھا

وہ جو محفل میں خوب ہنستا تھا ہائے وہ شخص کتنا تنہا تھا چپ کا یہ تجربہ بھی کیسا تھا سارا گھر سائیں سائیں کرتا تھا تم سے روٹھا تو تھا ضرور مگر خود سے ڈر کر میں گھر سے بھاگا تھا جتنے آنسو تھے میرے اپنے تھے اور ہر قہقہہ پرایا تھا حسن کیا ذہن کی ضرورت تھی عشق کیا جسم کا تقاضا ...

مزید پڑھیے

انہیں مجھ سے گو کچھ شکایت نہیں ہے

انہیں مجھ سے گو کچھ شکایت نہیں ہے غضب ہے کہ پھر بھی عنایت نہیں ہے پلا دے مجھے اپنے ہاتھوں سے ساقی سخاوت میں کوئی ندامت نہیں ہے ستم جاں نثاروں پہ دن رات کرنا محبت نہیں ہے مروت نہیں ہے اف اتنا تکبر خدائی کا دعویٰ بتو تم کو خوف قیامت نہیں ہے کریں آہ و فریاد کیا ہم قفس میں کہ آہ و ...

مزید پڑھیے

چوٹ کھائی ہو جس نے الفت کی

چوٹ کھائی ہو جس نے الفت کی کیا کرے بات وہ مسرت کی چار دن ہنس کے عمر بھر رونا داستاں مختصر ہے الفت کی ایک دھوکا ہے خود فریبی ہے آرزو اس جہاں میں راحت کی آدمی آدمی کا دشمن ہے اف یہ تذلیل آدمیت کی شوخ ایسا بنا دیا تم کو یہ بھی صنعت ہے اک مشیت کی کاش مٹ جائیں کوئے جاناں میں ہم کو ...

مزید پڑھیے

خبر کہاں تھی مجھے پہلے اس خزانے کی

خبر کہاں تھی مجھے پہلے اس خزانے کی غموں نے راہ دکھائی شراب خانے کی چراغ دل نے کی حسرت جو مسکرانے کی تو کھلکھلا کے ہنسیں آندھیاں زمانے کی میں شاعری کا ہنر جانتا نہیں بے شک عجیب دھن ہے مجھے قافیہ ملانے کی وجود اپنا مٹایا کسی کی چاہت میں بس اتنی رام کہانی ہے اس دیوانے کی وہ ...

مزید پڑھیے

اپنے خوابوں کے میکدے میں ہوں

اپنے خوابوں کے میکدے میں ہوں رند ہوں میں ذرا نشے میں ہوں موت ہی میری آخری منزل میں جنم سے ہی قافلے میں ہوں جب اڑوں گا فلک بھی چوموں گا میں ابھی تک تو گھونسلے میں ہوں زندگی بھر رہے گا ساتھ ان کا خوب صورت مغالطے میں ہوں مسکراتا ہوں اب غموں میں بھی دوستو میں بہت مزے میں ہوں حق ...

مزید پڑھیے

بعد مرنے کے بھی دنیا میں ہو چرچا میرا

بعد مرنے کے بھی دنیا میں ہو چرچا میرا ایسی شہرت کی بلندی ہو ٹھکانہ میرا میں ہوں اک پریم پجاری اے مری جان حیات تو ہے مندر تو کلیسا تو ہی کعبہ میرا میرے بیٹے کی نگاہوں میں ہیں کچھ خواب مرے زندگی اس کی ہے جینے کا سہارا میرا موت بھی چین سے آتی ہے کہاں انساں کو ذہن میں گونجتا ہی رہتا ...

مزید پڑھیے

میں اپنے کام اگر وقت پر نہیں کرتا

میں اپنے کام اگر وقت پر نہیں کرتا تو کامیابی کا پربت بھی سر نہیں کرتا حسین خواب اگر دل میں گھر نہیں کرتا طویل رات سے میں در گزر نہیں کرتا سکھا دیا ہے مجھے غم نے زندگی کا ہنر کسی بھی حال میں اب آنکھ تر نہیں کرتا گرے زمین پہ دستار سر کے جھکنے سے میں حکمراں کو سلام اس قدر نہیں ...

مزید پڑھیے

سب کے چہروں پہ جب خوشی ہوگی

سب کے چہروں پہ جب خوشی ہوگی کیا دنیشؔ ایسی صبح بھی ہوگی لوگ نکلے ہیں جو یہ شمع لیے نربھیا پھر کوئی لٹی ہوگی سرد موسم میں بے گھروں کی دشا بے بسی خود بھی رو رہی ہوگی کیا کبھی انقلاب آئے گا ان اندھیروں میں روشنی ہوگی سب کے ہونٹوں پہ یہ سوال ہے اب کب سیاست کو ہتھکڑی ہوگی ابر برسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4443 سے 6203