قومی زبان

کتاب زیست سے کچھ اقتباس تصویریں

کتاب زیست سے کچھ اقتباس تصویریں خوشی کے لمحوں میں دیتیں مٹھاس تصویریں اکیلے پن بھی ہمارا یہ دور کرتی ہے کہ رکھ کے دیکھو ذرا اپنے پاس تصویریں کچھ ایسے رنگ بھرو جو سمے سے اترے نہیں یہ مو قلم سے کریں التماس تصویریں خدا کے پاس گئے جب سے والدین مرے مری حیات کی ہے بس اساس ...

مزید پڑھیے

وہ قلندروں میں شمار ہے

وہ قلندروں میں شمار ہے غم زیست سے اسے پیار ہے مرے باغ دل کے نصیب میں فقط انتظار بہار ہے غم عاشقی سے جو پوچھئے یہ جہاں بھی اجڑا دیار ہے جسے تاج کہتا ہے یہ جہاں وہ حقیقتاً تو مزار ہے یہ عجب نہیں کہ جنون عشق سر دار تھا سر دار ہے میں جو حق حلال کی رہ پہ ہوں مجھے خواب میں بھی قرار ...

مزید پڑھیے

غم جدائی کا نہ شاید مجھے اتنا ہوتا

غم جدائی کا نہ شاید مجھے اتنا ہوتا تم نے اے کاش جو مجھ کو کبھی سمجھا ہوتا ابن آدم نہ کبھی اس طرح تشنہ ہوتا ریت پہ اس کو جو پانی کا نہ دھوکا ہوتا عین ممکن ہے کہ ضد چھوڑ کے وہ رک جاتا جانے والے نے جو مڑ کر مجھے دیکھا ہوتا کیا عجب ہے کہ وہ گندم کو نہ چھوتا ہرگز مرد اول نہ اگر بخت کا ...

مزید پڑھیے

ذکر ماضی سے شب و روز ستاتے ہیں مجھے

ذکر ماضی سے شب و روز ستاتے ہیں مجھے میرے احباب ہی دیوانہ بناتے ہیں مجھے میں تو اک جملۂ با معنی و با مطلب ہوں اور وہ حرف غلط کہہ کے مٹاتے ہیں مجھے ایک بے ربط تعلق کا سہارا لے کر لوگ کیا عشق کے انداز سکھاتے ہیں مجھے جو تھے اپنے ہی خد و خال سے غافل کل تک آج وہ لوگ بھی آئینہ دکھاتے ...

مزید پڑھیے

میری بربادی کا عالم دیکھ لو

میری بربادی کا عالم دیکھ لو کر رہا ہوں اپنا ماتم دیکھ لو صبح سے پہلے چراغ زیست کی لو ہوئی جاتی ہے مدھم دیکھ لو حادثات زندگی کے فیض سے ہو گئے ہیں کیا سے کیا ہم دیکھ لو جان لو گے میرے دل کی کیفیت آئنے میں زلف برہم دیکھ لو سوچ لینا محو گریہ ہے نریشؔ جب کسی کی چشم پر نم دیکھ لو

مزید پڑھیے

رفیق سے ہی لگے ہیں نہ اب عدو سے ہم

رفیق سے ہی لگے ہیں نہ اب عدو سے ہم نکل گئے ہیں بہت دور رنگ و بو سے ہم تری تلاش میں گم کر دیں اپنی ہستی کو یہ آرزو ہے گزر جائیں آرزو سے ہم سوائے اپنے کسے دیں گناہ کا الزام کفن بہ دوش کھڑے ہیں لہو لہو سے ہم زبان شیریں دلوں میں فساد و فتنہ و شر کہ باز آئے محبت کی گفتگو سے ہم نئی بلا ...

مزید پڑھیے

دل سی نایاب چیز کھو بیٹھے

دل سی نایاب چیز کھو بیٹھے کیسی دولت سے ہاتھ دھو بیٹھے عہد ماضی کا ذکر کیا ہمدم عہد ماضی کو کب کے رو بیٹھے ہم کو اب غم نہیں جدائی کا اشک غم جام میں سمو بیٹھے وعظ کرنے کو آئے تھے واعظ مے سے دامن مگر بھگو بیٹھے کیا سبب ہے نریشؔ جی آخر کیوں جدا آج سب سے ہو بیٹھے

مزید پڑھیے

مری اجڑی جوانی کا ہے بس اتنا نشاں باقی

مری اجڑی جوانی کا ہے بس اتنا نشاں باقی نشیمن جل گیا لیکن ابھی تک ہے دھواں باقی خدا جانے سزا ہم کو ملی ہے کن گناہوں کی کہ اپنے ملک میں ہی اب نہیں اپنی زباں باقی مکیں جتنے بھی ہیں سب میہماں دو چار دن کے ہیں رہے گا اس زمانے میں فقط وہ لا مکاں باقی حیات و موت کی ہر آزمائش ختم ہے تو ...

مزید پڑھیے

اگر لکھنا منع ہے تو قلم کا کارخانہ کیوں

اگر لکھنا منع ہے تو قلم کا کارخانہ کیوں اگر پڑھنا منع ہے تو یہاں کاغذ بنانا کیوں اسی دنیا میں بہتر اک نئی دنیا بسانے کو یہاں تک آ گئے ہیں تو یہاں سے لوٹ جانا کیوں وہاں لے کر ہی کیوں آیا جہاں پھسلن ہی پھسلن ہے یہ جنتا ہی نہیں سمجھی تو راجہ ہے تو مانا کیوں کئی برسوں سے اس پر ہی بحث ...

مزید پڑھیے

تیری دعوت میں گر کھانا نہیں تھا

تیری دعوت میں گر کھانا نہیں تھا تجھے تنبو بھی لگوانا نہیں تھا مرا کرتا پرانا ہو گیا ہے مجھے محفل میں یوں آنا نہیں تھا عمارت میں لگا لیتا اسے میں مجھے پتھر سے ٹکرانا نہیں تھا یہ میرا تھا سفر میں نے چنا تھا مجھے کانٹوں سے گھبرانا نہیں تھا سمجھ لیتا میں خود ہی بات اس کی مجھے اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4444 سے 6203