قومی زبان

کلاہ کج بدل جاتی ہے یا افسر بدلتا ہے

کلاہ کج بدل جاتی ہے یا افسر بدلتا ہے ابھی کھلتا نہیں کیا وقت کا تیور بدلتا ہے یہ دیکھا ہے کہ محور استوا اوپر بدلتا ہے فلک صدیوں پرانی نیلگوں چادر بدلتا ہے دلوں میں سوز غم والے دھوئیں بھی آرزوئیں بھی عجم والا مسلماں ہر صدی میں گھر بدلتا ہے نشاں کردہ گھروں کو چھوڑ بھاگے گھر جو ...

مزید پڑھیے

ہوا مری رازداں نہیں ہے

ہوا مری رازداں نہیں ہے کہ چتر اس کا ہزار سایوں پہ مہرباں ہے کروڑوں لوگوں کے سوز انفاس کا دھواں ہے ہوا فقط اس نحیف لمحے کی داستاں ہے کہ جس کا عالم گزشتنی ہے جو اک نفس کا ہی میہماں ہے ہوا ہی ساری مہک اگلتی ہوئی بہاروں کی ترجماں ہے ہمارے اندر چھپے وجودوں سبک مساموں کی رازداں ہے گزرتے ...

مزید پڑھیے

بے تعبیر

بچپنے کی دنیا تھی جس کے دم سے دم لیتی خوف کی پچھل پائی خواب جس کی زد میں تھے صبح خواب سننے پر سب بزرگ کہہ دیتے خواب کی یہ باتیں ہیں ہم سے دور بیتیں گی دور سے سنیں گے ہم اب جدا سی دنیا ہے ان کہے زمانوں کے جیتے جاگتے لمحے دھیان سے گزرتے ہیں سوچ میں اترتے ہیں پر وہ دن نہیں آئے جس میں ...

مزید پڑھیے

ہوا سے بات کرو

ہوا سے بات کرو کہو کہ اس کی لگائی ہوئی گرہ نہ کھلی وہ دھول تھم نہ سکی دل کے رخ جو اڑتی تھی وہ گرد اٹھی نہیں جو آئنوں پہ بیٹھی تھی صبا سے بات کرو صبا سے بات کرو کیا سوال تھا اس کا وصال جس کا تعین نہ تھا جدائی سے کسے پکار گیا صدا سے بات کرو یہی کہ جن کو سر دشت و بر پکارا گیا وہ سر ...

مزید پڑھیے

احوال

ہمیں کیا چاندنی کی رات کیا راتوں کی تاریکی بس اتنا ہے کہ روشن رات میں گر تیز چلنا ہی ضروری ہو تو چل سکتے ہیں ورنہ چاندنی کی زرد چادر میں چھپے بھیدوں بھرے فتنے سفر کرنے نہیں دیتے اندھیرے میں ہمیں فتنوں کے سر پر پاؤں رکھ کر بڑھتے جانا دشت میں آسان رہتا ہے

مزید پڑھیے

رات کی آنکھ میں نم

سحر کے اگر ایسے لمحات میں جاگتے ہو ستارے بھی جب اونگھ جائیں اگر دودھیا چاندنی کے جواں جسم کی موت دیکھے ہوئے ہو اگر سوچ میں سر کھجاتے درختوں کی ویراں پر اسرار تنہائیوں بیچ پچھلے ستارے کی چھانو تلے گام دو گام سوئی ہوئی ساعتوں میں چلے ہو تو تم ہم سے ہو تم مگر تب کہاں تھے سدھارت نے جب ...

مزید پڑھیے

امکان

خزاں میں اب پھول آنے والے ہیں تم مگر ساتھ ساتھ رہنا کہ ہم صواب و خطا کے قصوں کا ذکر کرکے فضا کو پہلے ہی اتنا بوجھل بنا چکے ہیں کہ خشک پتا بھی گرنے لگ جائے تو ہوا سسکیاں سی لیتی ہے چیختی ہے اداس لمحوں میں روشنی اپنے ساتھ رکھنا تم اپنے ہاتھوں کی اوٹ کرکے چراغ لاؤ تو یاد رکھنا کہ ...

مزید پڑھیے

بحران

جدائی اور کیا ہے میں جسے سہتا نہیں رہتا یہ تم سے روز کا ملنا جدا ہونے سے پہلے دیر تک اک بات سے اک بات تک لفظوں کا لڑھکانا نئے موسم کی باتیں عالمانہ گفتگوئیں ان مناظر کی سیاست جن کا چہرہ کل دکھائے گی ملاقاتیں ہیں اور ایسی ملاقاتیں کہ باہم روز کا ملنا نہ ملنا کوئی بھی ارزش نہیں ...

مزید پڑھیے

آزادی

شہر لا مکاں سے ہوں جس میں اک مکاں میرا خواب سے ابھرتا ہے دودھیا سویرا سا دھیان میں نکھرتا ہے جو حدوں سے عاری ہے انتہا نہیں رکھتا چوکھٹیں دریچے در کیا گمان میں آئیں (صحن آنگن اور دیوار کا خیال ہی بے کار) چار سمت کی دیوار چاہے کتنی پھیلی ہو آپ کا احاطہ ہے آپ کا ہے گھیراؤ کیوں گرفت ...

مزید پڑھیے

آخری لیکچر

یہ تم سب کہ جن کے سروں میں جوانی کا خوں لہلہاتا ہے مجھ سے رسید اپنی محنت کی بھی لیتے جاؤ محبت کے بارے میں جو بھی کسی نے بتایا ہے پوری حقیقت نہیں کیونکہ چاہت روایت نہیں تجربہ ہے حقیقت میں ہر آدمی محترم ہے وہ خود اس کی جب تک نہ تردید کر دے یہ پہلے بھی میں نے کہا تھا تمہارے لبوں سے جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4438 سے 6203