قومی زبان

محور

قدم مٹی پہ رکھتی ہو کہ عرش اوپر ٹھہرتے ہیں کہ جب تم پاؤں دھرتی ہو تو دھرتی کے جگر کی دھڑکنیں بھی آزماتی ہو بہاروں میں بکھرتیں تو تمہیں بس ڈھونڈتے پھرتے مگر تم رنگ و بو کو اپنا پس منظر بناتی ہو خوش دلی کے قہقہے کی نقرئی گھنٹی کے نغموں کی کھنک کے ساتھ سارے منظروں پر پھیل جاتی ہو وہ ...

مزید پڑھیے

آنکھ ہی درد پہچانتی ہے

آنکھ ہی درد پہچانتی ہے میں اس روٹ پر پہیلی گاڑی کا مہماں تھا بے طرح گھومتی گیند پر اب نفس جتنے انفاس کا اور مہمان ہے ان کی گنتی مری داستاں میں نہیں خاک کی ناف سے خاک کے بطن تک چند ساعات کی روشنی پوشیشیں بتیاں تازہ ماڈل کلب تازہ رخ گاڑی اور بان اور گل چہرہ انٹرپریٹر یہی چار آئنہ ...

مزید پڑھیے

جہان خواب

یہ رنگ و نکہت میں بہتی دنیا یہ حسن صورت یہ جلوہ گاہیں یہ بجلیوں سی لپک ادا کی یہ بدلیوں سی گداز بانہیں یہ نقش سے پھوٹتے کرشمے یہ نکہت و نور کی پناہیں اک آرزو کے ہزار پیکر اک التجا لاکھ بارگاہیں حیات کے سرفرازی چشمے نشہ پلاتی ہوئی نگاہیں جمال کا دل نشیں تصور خیال کی دل پذیر ...

مزید پڑھیے

پھر گلاب کی شاخیں سج گئیں قرینوں سے

پھر گلاب کی شاخیں سج گئیں قرینوں سے آپ بھی اتر آئیں چاندنی کے زینوں سے اپنی پاک بازی کا پھر ثبوت دے لینا تم لہو تو دھو ڈالو پہلے آستینوں سے دشمنوں کے خیموں میں کھل کے جائیے صاحب ہاں مگر بچے رہئے خوش ادا حسینوں سے ان کے عارض و لب کو چاند سے نہ دو تشبیہ پتھروں کو کیا نسبت قیمتی ...

مزید پڑھیے

خواہش بے نام سے واقف نہیں

خواہش بے نام سے واقف نہیں اک نشیلی شام سے واقف نہیں بہہ رہا ہوں میں تو دریا کی طرح فرق خاص و عام سے واقف نہیں فن ترے شعروں میں کیا آئے کہ تو حافظ و خیام سے واقف نہیں ہاں وہی دلکشؔ وہی بے آبرو کون اس بدنام سے واقف نہیں

مزید پڑھیے

وہ حسن ظن سے جائے نہ حسن یقیں سے ہم

وہ حسن ظن سے جائے نہ حسن یقیں سے ہم بیٹھے ہیں شرط باندھ کے ایک مہ جبیں سے ہم ہم نے بساط علم و سیاست تو جیت لی دامن کو سی رہے ہیں مگر آستیں سے ہم لوگوں نے آسماں پہ کمندیں بھی ڈال دیں فارغ نہیں ہیں اب بھی کف صندلیں سے ہم کوئی تو موج آ کے ہمیں بھی اچھال دے کب تک پڑے رہیں صدف تہ نشیں ...

مزید پڑھیے

فصل رسن و دار میں آ ہم نے سنا ہے

فصل رسن و دار میں آ ہم نے سنا ہے پیغام ترا زلف رسا ہم نے سنا ہے رنگیں نظر آتے ہیں ترے کوچہ و بازار گزرا ہے کوئی آبلہ پا ہم نے سنا ہے کیا بات ہے اس کوچۂ دل دار کی یارو پھرتی ہے کئی دن سے صبا ہم نے سنا ہے دیکھی ہے ترے عارض گل رنگ میں بجلی کہتے تری زلفوں کو گھٹا ہم نے سنا ہے یہ رنگ یہ ...

مزید پڑھیے

دوستو تم نے بھی دیکھی ہے وہ صورت وہ شبیہ (ردیف .. ح)

دوستو تم نے بھی دیکھی ہے وہ صورت وہ شبیہ جو نگاہوں میں سما جاتی ہے منظر کی طرح مجھ کو اک قطرۂ بے فیض سمجھ کے نہ گزر پھیل جاؤں گا کسی روز سمندر کی طرح شہر آشوب میں چیزوں کا کوئی قحط نہیں زخم ملتے ہیں دکانوں میں گل تر کی طرح اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں نہیں ہے شاید ہائے وہ زلف جو کھل ...

مزید پڑھیے

آزادئ خیال کی وسعت کو دیکھیے (ردیف .. م)

آزادئ خیال کی وسعت کو دیکھیے رہ کر زمیں پہ کرتے ہیں بات آسماں سے ہم جینے کی کچھ خوشی ہے نہ مرنے کا کوئی خوف آزاد اس طرح ہوئے ہر دو جہاں سے ہم غالب ہے دل پہ جوش و ذوق سخن مرے درجہ میں کم نہیں کسی آتش‌ زباں سے ہم ستر برس کی عمر جوانوں سے بڑھ کے جوش اس راز کو چھپائے ہیں اہل جہاں سے ...

مزید پڑھیے

اذاں سے نعرۂ ناقوس پیدا ہو نہیں سکتا

اذاں سے نعرۂ ناقوس پیدا ہو نہیں سکتا ابھی کچھ روز تک کعبہ کلیسا ہو نہیں سکتا زباں سے جوش قومی دل میں پیدا ہو نہیں سکتا ابلنے سے کنواں وسعت میں دریا ہو نہیں سکتا بہت پنہاں رہی دل میں خلش خار تعصب کی مگر اب امتحاں کے وقت پردہ ہو نہیں سکتا گراں ہے جنس اور نیت خریداروں کی ابتر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4439 سے 6203