قومی زبان

مقابلہ ہے غم و الم کا تو سامنا رنج و بے کسی کا

مقابلہ ہے غم و الم کا تو سامنا رنج و بے کسی کا رہ محبت میں ہر قدم پر نشان ملتا ہے زندگی کا اسی محبت میں ہم پہ گزرا اک ایسا عالم بھی تیرگی کا بنا لیا آفتاب ہم نے ملا جو ذرہ بھی روشنی کا یکایک اک ہوک دل میں اٹھی پلٹ گیا رنگ زندگی کا بخیر یادش مرے لبوں پر ابھی ابھی نام تھا کسی ...

مزید پڑھیے

دل سے دل کے واسطے پیغام کیسے آ گیا

دل سے دل کے واسطے پیغام کیسے آ گیا میرے ہونٹوں پر تمہارا نام کیسے آ گیا ان کی محفل میں ہمارا نام کیسے آ گیا آج ذکر گردش آیام کیسے آ گیا دل سی شے نے کیسے رسم آرزو کر لی قبول طائر افلاک زیر دام کیسے آ گیا لوگ کہتے ہیں مسرت زندگی کا نام ہے پھر یہ مجھ پر زیست کا الزام کیسے آ گیا عشرت ...

مزید پڑھیے

زمیں سے دور رہے آسماں سے دور رہے

زمیں سے دور رہے آسماں سے دور رہے جو تم تھے پاس تو سارے جہاں سے دور رہے جو اشک غم مژۂ خوں فشاں سے دور رہے فسانہ بن گئے لفظ و بیاں سے دور رہے وہ کیا بتائیں بہاروں کی حشر سامانی جو طائران قفس گلستاں سے دور رہے ستم ظریفیٔ فطرت وہ میر منزل ہیں وہی جو گرد رہ کارواں سے دور رہے گھٹا ...

مزید پڑھیے

بے سبب عشق کب اداس رہا

بے سبب عشق کب اداس رہا وہ تمہارا ادا شناس رہا زندگی بھر خودی کا پاس رہا عشق کب محو التماس رہا ہر فسانہ جو کہہ چکی دنیا میرے غم کا ہی اقتباس رہا جامہ زیبی بقدر ذوق رہی عشق ہر شخص کا لباس رہا تم سے جب قربتیں میسر تھیں دل تو اس وقت بھی اداس رہا غم کا پیمانہ خود بتا دے گا کون کتنا ...

مزید پڑھیے

کیا یہی اس کا مداوا نہ ہوا

کیا یہی اس کا مداوا نہ ہوا ایک بیمار جو اچھا نہ ہوا چار تنکے ہی سہی جل تو گئے کیا مرے دم سے اجالا نہ ہوا ان کی قربت ہی سہی حاصل زیست یہ تو انداز تمنا نہ ہوا ہے تمنائے طلوع خورشید اور اگر پھر بھی سویرا نہ ہوا پرسش غم تو ہوئی تھی لیکن ہم سے اظہار تمنا نہ ہوا لذت درد محبت کے سبب ہم ...

مزید پڑھیے

ہاں مجھے گوارا ہے عشق کا سفر تنہا

ہاں مجھے گوارا ہے عشق کا سفر تنہا اس نے مجھ کو چھوڑا ہے کچھ تو سوچ کر تنہا زیست ہے مگر سونی عشق ہے مگر تنہا چشم سربسر ویراں قلب سربسر تنہا وہ جمال کی تابش جیسے نور کی بارش حسن یار کی یورش اور مری نظر تنہا دل کی ایک اک حسرت چھوڑ کر ہوئی رخصت ہائے رے یہ سناٹا ہائے رے یہ گھر ...

مزید پڑھیے

منور ہو کے کتنی داستان عاشقی آئی

منور ہو کے کتنی داستان عاشقی آئی جہاں تک ذکر غم آیا نظر میں روشنی آئی تری اک اک نظر لے کر پیام زندگی آئی مری جانب سے لیکن کب محبت میں کمی آئی جبین شوق میں جب کوئی شان کافری آئی تو استقبال کرنے ہر قدم پر بندگی آئی یہ جان عاشقی ہے اس کو کس دل سے جدا کر دوں نہ جانے کتنے غم سہہ کر تو ...

مزید پڑھیے

کوئی طوفاں تو نہیں کوئی تلاطم تو نہیں

کوئی طوفاں تو نہیں کوئی تلاطم تو نہیں زندگی نام ہے جس کا وہ کہیں تم تو نہیں اور کیا کہیے گا آئینۂ حیرت کے سوا ان کی محفل میں مجھے اذن تکلم تو نہیں جس طرف دیکھیے اک نور تجلی پیدا آپ کی بزم میں شامل مہ و انجم تو نہیں اور کیا دل کی تباہی پہ توجہ دیتا آپ دیکھیں مرے ہونٹوں پہ تبسم تو ...

مزید پڑھیے

سوز آواز میں لہجے میں کھنک ہے ساقی

سوز آواز میں لہجے میں کھنک ہے ساقی عشق کا تیرے یقیں تو نہیں شک ہے ساقی میں نے کب تجھ سے کہا ہے مجھے شک ہے ساقی تیرے ماتھے پہ ستاروں کی چمک ہے ساقی کیا تری شوخئ گفتار کی تشریح کروں کتنی شیرینی ہے اور کیسا نمک ہے ساقی عشق کے سوز نے نغمات کو گرمی بخشی اب ترے ساز میں شعلوں کی لپک ہے ...

مزید پڑھیے

الم کی حد ہے کہاں بے کسی کہاں تک ہے

الم کی حد ہے کہاں بے کسی کہاں تک ہے ہمارے غم میں تمہاری خوشی کہاں تک ہے بجا کہ پھول کی دو روزہ زندگی ہوگی کلی سے کوئی یہ پوچھے کلی کہاں تک ہے فرشتے سجدۂ تعظیم پر ہوئے مجبور مرا نیاز مری بندگی کہاں تک ہے نظر کا قصد ہی کب تھا ترے جمال کی دید یہ دیکھنا تھا فقط روشنی کہاں تک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4437 سے 6203