قومی زبان

دیدنی تھی شکستگی دل کی

چاہے جس طور بیاں کیجئے افسانۂ درد جسم کو خوف بہت جان کو اندیشے تھے چاہے جس طور رقم کیجے گراں جانیٔ دل خوں میں ہنگامہ بہت راہ میں ویرانے تھے لاکھ چاہا دل مضطر کی کشاکش سے سوا رقص بے پروہ و بے باک کا آغاز کروں خون دل اشک کروں اشک گہر تاب کروں پس دیوار قفس سینۂ دل چاک کروں لاکھ چاہا ...

مزید پڑھیے

دیوانگی

بہت کچھ چاہتا تھا میں ہمیشہ چاہتا تھا میں کہ دنیا خوب صورت ہو کہ جیسی پیار کرتے وقت ہوتی ہے چاہتا تھا شام ہوتے ہی اتر آئے فلک سے چاند بچوں کی ہتھیلی میں کہ شب تاریک ہو جتنی مگر نم ہو کھنک ہو اور پورب کی ہوائیں سبک رفتار گزریں چھتوں پر اوس ہو اور آنگنوں میں کہکشاں اترے ہمیشہ چاہتا ...

مزید پڑھیے

مرحلہ

نہ اس کے عشق کے کام آ سکا میں نہ اپنی آگ کو بھرما سکا میں نہ شور آرزو نے راہ پائی نہ درد بے خودی تھی نے رسائی زمانہ اپنے محور پر رواں تھا محض ایک آگ تھی جلنے میں کیا تھا خدایا کس طرح سر ہو سکے گی دل و دیدہ کی یہ پر داغ محفل

مزید پڑھیے

ماورا

بیسویں صدی کے آخری برسوں میں ایک گہراتی ہوئی شام کو جب پرندوں اور پتوں کا رنگ سیاہ ہو چکا تھا اور دکھ کا رنگ ہر رنگ پر غالب تھا ماں ٹوٹ چکی تھی محبوبہ روٹھ چکی تھی ہفتہ وار تعطیل کی فراغت سے مطمئن سرشاری کے ایک لمحے کو بے قرار شاعر لکھنے بیٹھا گرد و پیش کی دنیا نہایت آہستگی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4418 سے 6203