قومی زبان

اس لئے تیز بھاگتا ہوں میں

اس لئے تیز بھاگتا ہوں میں اپنے پیچھے پڑا ہوا ہوں میں گھپ اندھیرے میں روشنی کی طرح اس کی آنکھوں سے گر رہا ہوں میں مجھ کو غم تو نہیں جدائی کا یہ مروت میں رو رہا ہوں میں یاد کرنا بھی اس کو چھوڑ دیا آخری چال چل چکا ہوں میں میری باتیں مذاق میں مت لے زندگی تجھ سے کچھ بڑا ہوں میں مجھ ...

مزید پڑھیے

خمار قرب میں اس بات کا خیال نہ تھا

خمار قرب میں اس بات کا خیال نہ تھا ہمارے ذہن میں کچھ اور تھا وصال نہ تھا تری جدائی میں مہتاب دیکھتے ہم کیا ہمارا مسئلہ تو تھا ترا جمال نہ تھا پھر ایک دن اسے سب لوگ دیکھنے پہنچے پلٹ کے آئے تو لب پر کوئی سوال نہ تھا کمال یہ ہے ترے ہجر میں سلامت ہوں ترے فراق میں مرنا کوئی کمال نہ ...

مزید پڑھیے

یہ جو لگتا ہے ضرورت سے بھی کم بولتے ہیں

یہ جو لگتا ہے ضرورت سے بھی کم بولتے ہیں ہم کو وہ شخص بلاتا ہے تو ہم بولتے ہیں کون ہستی کا گزر میرے خرابے سے ہوا کس تفاخر سے یہاں نقش قدم بولتے ہیں دونوں جانب وہ انا تھی کہ یہ نوبت آئی اب ہمیں یار بلاتے ہیں نہ ہم بولتے ہیں یہ جو ہر بات پہ کر دیتے ہیں تقریر شروع ہم تو سنتے تھے کبھی ...

مزید پڑھیے

تم عبث ڈھونڈھتے پھرتے ہو کہاں رستہ تھا

تم عبث ڈھونڈھتے پھرتے ہو کہاں رستہ تھا ہم نے دیوار اٹھا دی ہے جہاں رستہ تھا بس یہی سوچ کے جنگل کی طرف آ نکلے صاحب خواب بتاتا ہے یہاں رستہ تھا ہم ہی تقلید پرستوں سے الگ تھے ورنہ جس جگہ بھیڑ تھی لوگوں کی وہاں رستہ تھا میں ترے شہر تصور سے ابھی لوٹا ہوں پیڑ سرسبز تھے خوشبو تھی جواں ...

مزید پڑھیے

زندگی اور گھر کا نقشہ ایک جیسا ہو رہا ہے

زندگی اور گھر کا نقشہ ایک جیسا ہو رہا ہے کمرے بڑھتے جا رہے ہیں صحن چھوٹا ہو رہا ہے غم نے ہم کو آ لیا تو اتنی حیرت کیوں ہے دل کو میں نے پہلے کہہ دیا تھا اپنا پیچھا ہو رہا ہے لوگ مرتے جا رہے ہیں دو طرف سے اور افسوس زندگی کے نام پر یہ سارا جھگڑا ہو رہا ہے عشق ایسا مختلف بھی تجربہ ...

مزید پڑھیے

جدھر بھی دیکھیے ہر سو ہمیں اغیار ملتے ہیں

جدھر بھی دیکھیے ہر سو ہمیں اغیار ملتے ہیں جہاں پر ہم قدم رکھیں وہیں پر خار ملتے ہیں سناؤں ماجرائے غم کسے اس غم کے عالم میں کہ اس نگری کے باسی جان سے بیزار ملتے ہیں ہزاروں ساتھ دیتے ہیں خوشی کے وقت میں پیہم کہ جب قسمت بگڑتی ہے کہاں پھر یار ملتے ہیں خزاں نے کر دیا پامال یارب گلشن ...

مزید پڑھیے

جانے ایسی ٹھان کر بیٹھا ہے کیا میرے لئے

جانے ایسی ٹھان کر بیٹھا ہے کیا میرے لئے آج مانگے جا رہا ہے وہ دعا میرے لئے مضطرب دل کو مرے آرام آ ہی جائے گا کیجئے تجویز کوئی تو دوا میرے لئے میری قسمت میں تو لکھے ہیں غموں کے سلسلے خوش رہا کر تو نہ اپنا دل دکھا میرے لئے حسن کی تابانیوں کو میں بھی تو دیکھوں ذرا تو رخ زیبا سے یہ ...

مزید پڑھیے

شب وعدہ اندھیرا چھا گیا کیا تم نہ آؤ گے

شب وعدہ اندھیرا چھا گیا کیا تم نہ آؤ گے فلک پر چاند بھی کجلا گیا کیا تم نہ آؤ گے تمہارا ہجر آفت ڈھا گیا کیا تم نہ آؤ گے ہمارا دل بہت گھبرا گیا کیا تم نہ آؤ گے چمن میں ہر طرف گلہائے رنگیں مسکرا اٹھے بہاروں کا زمانہ آ گیا کیا تم نہ آؤ گے ہماری جان پر بن آتی ہے دور محبت میں جنون دل ...

مزید پڑھیے

نام وہ میرا پکارے جا رہا تھا میں کہاں تھا

نام وہ میرا پکارے جا رہا تھا میں کہاں تھا حادثہ یہ خوب صورت کب ہوا تھا میں کہاں تھا ڈھونڈھتا میں پھر رہا تھا جس کو سارے شہر بھر میں وہ تو میرے رو بہ رو بیٹھا ہوا تھا میں کہاں تھا میری بازی کو پلٹنے کے لئے تیار تھے سب سامنے میرے یہ سب کچھ ہو رہا تھا میں کہاں تھا آج وعدے سے مکرتا ...

مزید پڑھیے

حسیں لمحے گزر گئے یارو

حسیں لمحے گزر گئے یارو خواب سارے بکھر گئے یارو میں تو تنہا سا رہ رہا تھا مگر کہ وہ دل میں اتر گئے یارو میری منزل بنا وہی رستہ وہ جدھر سے گزر گئے یارو اب تو جینے سے خوف آتا ہے جانے کیا دل پہ کر گئے یارو وہ ہی گھبرا رہا تھا ملنے سے ہم تو شام و سحر گئے یارو آنسو اعجازؔ کے نہ تھمتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4417 سے 6203