شام اور رستے میں ریوڑ کے گزرنے سے غبار
شام اور رستے میں ریوڑ کے گزرنے سے غبار جھٹپٹے میں ذرہ ذرہ آنکھ جھپکاتا ہوا جنگلوں میں منتظر خاموشیاں چھائی ہوئی جیسے کوئی تھم گیا ہو راگنی گاتا ہوا
شام اور رستے میں ریوڑ کے گزرنے سے غبار جھٹپٹے میں ذرہ ذرہ آنکھ جھپکاتا ہوا جنگلوں میں منتظر خاموشیاں چھائی ہوئی جیسے کوئی تھم گیا ہو راگنی گاتا ہوا
گھوڑا ، گھاس اور مفت کا مشاعرہ احسان دانش سے کسی مشاعرہ کے ممتظ نے التجا کی کہ ہم ایک مشاعرہ کررہے ہیں ، اس میں شامل ہوکر ممنون فرمائیے ۔ احسان نے پوچھا۔ ’’معاوضہ کتنا ملے گا ؟‘‘ منتظم نے نہایت انکساری سے جواب دیا ۔ ’’آپ اس مشاعرہ میں معاوضہ کے بغیر شمولیت فرماکر کمترین کو ...
راولپنڈی کے ایک مشاعرے کے لیے لاہور سے کچھ شعراء کو مدعو کرنے کے لیے منتظمین حضرات احسان دانش سے ملے۔ انہوں نے سوال کیا’’آپ کتنے پیسے دے سکیں گے ؟‘‘ گلزار نے کہا۔’’آپ کو تین سو روپے دیئے جاسکیں گے ۔ یہ زیادہ سے زیادہ معاوضہ ہے ۔اس رقم کو قبول فرماتے ہوئے خان بہادر حفیظ ...
ڈاکٹر تاثیر اور احسان دانش ریل میں اکٹھے سفر کررہے تھے ۔ ایک اسٹیشن پر تاثیر کے ایک دوست اسی ڈبے میں داخل ہوئے ۔ تاثیرنے ان سے احسان دانش کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ آپ ہیں اردو کے مشہور شاعر، مصور فطرت، شاعر مزدور حضرت احسان دانش کاندھلوی ، اس دوست نے پوچھا۔’’وہی جو مزدوروں کے ...
تم سمجھتے ہو زمانے کے لئے آتا تھا میں تمہیں شعر سنانے کے لئے آتا تھا پھر مصنف نے بلا وجہ مجھے مار دیا میں کہانی میں ہنسانے کے لئے آتا تھا رفتہ رفتہ مجھے معلوم ہوا دھیان اس کا سانپ تھا اور خزانے کے لئے آتا تھا میرے بچوں کو یقیں کون دلائے کہ یہاں چاند جھیلوں میں نہانے کے لئے آتا ...
ضرورتوں کے سبب کیا سے کیا بنانے لگا دیا بنا کے میں خود ہی ہوا بنانے لگا میں پہلے پہلے بناتا رہا خیال کا جسم پھر اس کے بعد تو جو بھی بنا بنانے لگا میں اس خیال میں گم تھا کہ کھو گیا ہوں کہیں کہ دست غیب کوئی راستہ بنانے لگا مجھے لگا کہ یہ دنیا نئی نہیں بنتی سو اہتمام سے مصرعہ نیا ...
جو تھکاوٹ پہ مبنی نیند نہیں میں سمجھتا ہوں اچھی نیند نہیں آدھی بستی کو جاگنا ہوگا جتنی آنکھیں ہیں اتنی نیند نہیں موت سے کیوں ڈرا رہے ہو مجھے یہ کوئی میری پہلی نیند نہیں آنکھیں اچھی ہیں اس ستارے پر اس ستارے پہ اچھی نیند نہیں ایک دن اس نے کہہ دیا مجھ سے میں تمہاری ہوں میری نیند ...
وہ پریشانی سر دشت عدم ہے ہم کو باغ رضوان بھی مل جائے تو کم ہے ہم کو اب بھی دل میں ترے ہونے کا گماں باقی ہے ٹوٹتے بنتے ارادوں کی قسم ہے ہم کو اس کو کہتے ہیں میاں زخم کا تازہ ہونا وہ کسی اور سے بچھڑا ہے تو غم ہے ہم کو تجھ سے یوں مانگتے ہیں تیرا بھرم رہ جائے ورنہ ہر چیز محبت میں بہم ...
ہوا کے سیال بازوؤں پر گھٹا کے شب رنگ کارواں ہیں نسیم مستانہ رقص میں ہے فضا میں نشہ سا چھا رہا ہے خنک ترائی کے سنگ پارے اثر میں ڈوبے ہوئے پڑے ہیں کہ جیسے کوئی حسیں نہا کر گھنیری زلفیں سکھا رہا ہے
گرمیاں حبس رات تاریکی اک دیا دور ٹمٹماتا ہے جیسے اک پرخلوص انساں کا مشکلوں میں خیال آتا ہے