چوم کر اس بت کی پیشانی کو پچھتانا پڑا

چوم کر اس بت کی پیشانی کو پچھتانا پڑا
کھنچ گیا میرے لب لعل محبت سے عسل
جس طرح عصیاں شعاروں کی سیہ کاری کے بعد
کھوکھلی ثابت ہوا کرتی ہے تعمیر عمل