قومی زبان

لفظ

لفظ تقدیر مری حسن بھی لفظ میں ہے عشق بھی لفظ میں ہے عدل بھی لفظ میں ہے لفظ میں ساز ازل لفظ میں راز ابد لفظ معمورۂ خوشبو لفظ اک قوس قزح لفظ بادل کا خرام لفظ دریا کی روانی لفظ میں رفعت کوہ لفظ میں وسعت صحرا لفظ مٹی کا نمو لفظ میں چاند کا محور لفظ میں مطلع خورشید درخشاں لفظ نیرنگی ...

مزید پڑھیے

تہذیب

یہ آبا کی اقدار کا اک مرقع جسے وقت کی ایک یلغار پیہم مٹاتی رہی اور مرے جد و اب اس میں بد زیب سے رنگ بھرتے رہے اب یہ بد زیب بد رنگ نقشوں کی بھونڈی سی تصویر مجھ کو ملی ہے مجھے یہ سکھایا گیا ہے اسے اپنی آنکھوں پہ رکھوں یہی زینت حجلۂ زیست ہوگی مرے پیڑ کو ابر کی ننھی ننھی پھواروں نے ...

مزید پڑھیے

لمحہ

یہی ایک لمحہ ہے جب میرے پاؤں زمیں پر ہیں میرا وجود ایک سوندھی سی خوشبو لیے ہے یہی ایک لمحہ کہ میں ہوں یہی ایک لمحہ کہ تو ہے ترا خون سیال آتش ترے جسم کو ایک مٹی کے تاریک پتلے کو لو دے رہا ہے یہی ایک لمحہ ہے تخلیق تکرار تخلیق ورنہ بجھ جائے گی تیری آتش نکل جائے گی میری خوشبو

مزید پڑھیے

آنسو

وہ ایک آنسو گرا وہ دل کے اتھاہ ساگر میں اک صدف کا بھی منہ کھلا وہ آسمانوں کا سرمئی رنگ اس کے آنسو میں گھل کے رخسار کے شفق پر بہا کہیں دور جا کے دھرتی کے گہرے پاتال میں گرا ہزاروں آکاش رنگ آنسو ہوا کے تیز اور تند جھونکوں میں منتشر ہو گئے سمندر کی کوہ جیسی مہیب موجوں کے اندھے غاروں ...

مزید پڑھیے

نظر

نظر نظر کا فریب ہر سو اٹھے تو صحرا پہ پھیل جائے جھکے تو اک گہری جھیل بادل صفت یہ برکھا کی ایک رم جھم جو پیار ہو تو یہ چاندنی ہے نظر نظر کا فریب لیکن نظر حقیقت نظر جھپکنے میں تخت بلقیس سامنے ہو نظر کے جادو سے جسم پتھر نظر کے پر تاب نور سے کوہ طور سینا بھی ریزہ ریزہ نظر نظر کا ...

مزید پڑھیے

کتبہ

کل جو قبرستان سے لوٹا تو تنہائی کا اک بوجھ اٹھا کر لایا ایسے لگتا تھا کہ میں بجھتا دیا ہوں اور سب لوگ تماشائی ہیں منتظر ہیں کہ مرے بجھنے کا منظر دیکھیں ایسے لگتا تھا کہ ہر گام پر کھلتے دہانے ہیں مرے جسم کو آغوش میں لینے کے لیے زندگی دور کھڑی ہنستی رہی قہقہوں کا اک سمندر میری جانب ...

مزید پڑھیے

محشر

دل وحشی جنوں کی کون سی منزل تھی کل شب جہاں باہم ہوئے قزاق و دل بر چلے خنجر گلے پر آستیں پر دل و دامن پہ دستار و جبیں پر عجب ایک شور تھا محشر بپا تھا بہت آہ و فغاں اندوہ جانی ہزاروں زخم اور ایک سخت جانی نہ جانے شدت یلغار کیا تھی نہیں معلوم کیا مدت رہی کشت نگاراں کی کھلی جب آنکھ ...

مزید پڑھیے

شہر آشوب

جن دنوں میں اپنی تنہائی کا نوحہ لکھ رہا تھا بستیاں آباد تھیں رونق بھری تھی شام اور جاڑا گلابی تازہ تازہ شہر میں داخل ہوا تھا جن دنوں میں پا پیادہ اور پھر صدا زباں میں سوز ہائے اندروں کے قصۂ پارینہ کی تفصیل میں تعبیر میں الجھا ہوا تھا بھیڑیے آزاد تھے اور ایک قاتل راگ بجاتا جا رہا ...

مزید پڑھیے

المیہ

میری شورش جدا آنکھوں نے مجھ سے یوں کہا کل شب یہ دھیمی آنچ کا جلنا تجھے دیوانہ کر دے گا میں کیا کرتا کہاں جاتا کہ حائل تھا مرے سینہ میں اک محبوس سناٹا تعین کون کرتا ہم کہاں پر خیمہ زن ہیں مسلط ہے سروں پر کون سا منحوس سایا اور ایسے میں تلاطم روز و شب تیری لگن کا جان لیوا ہے بڑے ہی جاں ...

مزید پڑھیے

دل پر خوں

دل بہت دکھتا ہے ہر بات پہ دل دکھتا ہے صبح نوخیز پہ سورج کی جہاں بانی پہ شام دل دوز پہ انجام گل اندامی پہ عکس موجود پہ انوار رخ زیبا پہ نقش موہوم پہ اخف دل فردا پہ بست افلاک پہ افسانۂ رعنائی پہ شرۂ نیرنگیٔ ہستی و زلیخائی پہ رات کے سوز پہ شاموں کے مہک جانے پہ حدت شوق میں کلیوں کے چٹخ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4415 سے 6203