قومی زبان

بساط رقص

مجھے لکھنا تھا سرشاری مجھے لکھنا تھا دل داری مجھے لکھنا تھا اپنا حلف نامہ اور بیان استغاثہ بادشاہ وقت کے مغرور ایوان عدالت میں امڈتی خلق کی موجودگی میں واردات قتل خوباں کے حقائق اور بیان خلق برہم میں قاصد تھا غلاموں کا فرستادہ مرے ہونے میں مضمر تھی خرابی جملہ امکانات مہلک اک ...

مزید پڑھیے

دست تہہ سنگ

شرق سے غرب تک عرش سے فرش تک یا کراں تا کراں ایک سناٹا پھیلا ہوا میری بیکل جبیں کے طلسمات سے تیری بے چین بانہوں کے الہام تک تشنہ ہونٹوں سے ہلچل بھرے جام تک ان کی آنکھوں کے روشن دیوں سے مری ارغوانی گھنی شام تک یا کراں تا کراں ایک سناٹا پھیلا ہوا کہکشاں بجھ گئی راستے میں کہیں رنگ ...

مزید پڑھیے

تنہائی کا روگ نہ پال

تنہائی کا روگ نہ پال گھر سے باہر پاؤں نکال جن میں ہو زہریلا پن ایسی باتیں ہنس کر ٹال شہر میں وحشی آئے ہیں چل جنگل میں ڈیرا ڈال اندر سے ہیں بکھرے بکھرے اور باہر سے سب خوش حال آنکھیں سب کی فکر زدہ کیسے بیتے گا یہ سال طالبؔ پیاس بجھے کیسے ایک ندی اور سو گھڑیال

مزید پڑھیے

خود کو جب لگ گئی نظر اپنی

خود کو جب لگ گئی نظر اپنی زندگی بن گئی کھنڈر اپنی جب بھی سورج غروب ہوتا ہے یاد آتی ہے دوپہر اپنی اس کا قصہ بھی اب طویل نہیں ہے کہانی بھی مختصر اپنی ساتھ ہوتا ہے جب بھی غم اس کا مجھ کو ہوتی نہیں خبر اپنی کوئی مبہم سا نقش پا بھی نہیں سونی سونی ہے رہ گزر اپنی ہوں تو اپنوں کی بھیڑ ...

مزید پڑھیے

مدتوں کے بعد جب پہنچا وہ اپنے گاؤں میں

مدتوں کے بعد جب پہنچا وہ اپنے گاؤں میں جھریاں چہرے پہ تھیں اور آبلے تھے پاؤں میں اب تو شاید گر گیا ہوگا وہ پیپل کا درخت بچپنے میں ہم ملا کرتے تھے جس کی چھاؤں میں کون آئے گا مری دہلیز پہ برسوں کے بعد آج ہم پھر کھو گئے کوے کے کاؤں کاؤں میں تاکہ مجھ پہ شہر کی عریانیاں غالب نہ ...

مزید پڑھیے

وصل

سحر کے وقت کنواری زمین شبنم میں نہا کے لیٹی ہے وہ سبز چادر گل تاب عارض مہتاب خمار خواب کا عالم وہ انتظار کا عالم کہ دور دیس سے جیسے کبھی تو آئے گا وہ دور دیس سے سورج کا دیوتا آیا اور اپنی تیز نگاہوں سے گدگدی کرتا وہ جوف الارض کے نصف النہار پر پہنچا زمیں پہ خوف کی اک زرد لہر سی ...

مزید پڑھیے

وقت

یہ ننھی سی گڑیا جسے دو برس ہو گئے ہیں میں جاپان سے لے کر آیا یہ رقاصہ رنگین کپڑوں میں ملبوس اسی ایک انداز سے دو برس سے کھڑی ہے نہ پلو ہی سرکا نہ ہاتھوں سے رومال رنگیں ہی چھوٹا نہ سر سے یہ تاج سرفرازی و کج کلاہی ہٹا اس کا ویسا ہی معصوم چہرہ وہی زیر لب مسکراہٹ وہی قوس ابرو وہی چشم ...

مزید پڑھیے

عورت

تو نے میرے دکھ کی خاطر کتنے رنج سہے اپنی گود میں تو نے مجھ کو اپنے لہو کی چاندنی بخشی میں اک چاند بنا جس نے دھرتی سے یہ گھور بھیانک اندھیاروں کا خوف مٹایا جب تو زینت ھجلہ بنی تو نے اپنے خون کی آتش مجھ کو بخشی میں اک سورج بن کر چمکا جس کی دھوپ میں میری روح کا قیدی شاہیں ناگ کے پھندے ...

مزید پڑھیے

سروش

یہ سمندر موج در موج سلاسل ہلکے گہرے سبز نیلے رنگ جن پر جا بہ جا چاندی کے دھبے اس کنارے پر گلابی رنگ میں ڈوبا ہوا اک گول چہرہ پھیلتے پانی میں اپنے آتشیں ہونٹوں کی سرخی گھولتا جائے میں اک سونے کی کشتی میں سوار ان حسیں رنگوں میں مدہوش اس کنارے کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہوں دور سطح آب پر ...

مزید پڑھیے

گرد پڑنے پہ بھی سرشار ہوا کرتا تھا

گرد پڑنے پہ بھی سرشار ہوا کرتا تھا ایک رستے سے مجھے پیار ہوا کرتا تھا ان دنوں وہ بھی سمجھتا تھا حقیقت مجھ کو ان دنوں میں بھی اداکار ہوا کرتا تھا ان دنوں غم بھی زیادہ نہیں ہوتے تھے مجھے میرا کمرہ بھی ہوا دار ہوا کرتا تھا میں کہ اظہار پہ شرمندہ نہیں تھا جب تک اشک چہرے پہ نمودار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4416 سے 6203