قومی زبان

اپنوں نے اجاڑا ہے چمن جان گئے ہیں

اپنوں نے اجاڑا ہے چمن جان گئے ہیں پردوں میں چھپا کون ہے پہچان گئے ہیں تپتی ہوئی سڑکوں پہ سفر ہم نے کیا ہے اب برف جو دیکھی ہے تو اوسان گئے ہیں وشواس کی گرتی ہوئی دیوار کے سائے قدموں سے کچلتے ہوئے ایمان گئے ہیں مانا کہ دیا اس نے ہمیں رتبۂ عالی جنت سے نکالے بھی تو انسان گئے ...

مزید پڑھیے

زندگی اک آگ ہے وہ آگ جلنا چاہئے

زندگی اک آگ ہے وہ آگ جلنا چاہئے بے حسی اک برف ہے اس کو پگھلنا چاہئے موت بھی ہے زندگی اور موت سے ڈرنا فضول موت سے آنکھیں ملا کر مسکرانا چاہئے ولولے طوفان و آندھی برق و باراں زلزلے ان نئے سانچوں میں ہم کو آج ڈھلنا چاہئے بھوک بیکاری کے شکوے ان سے کرنا ہے فضول ان کے آگے تان کر سینہ ...

مزید پڑھیے

سنگ میل

وہ ایک پتھر وہ سخت کالا سیاہ پتھر لہو سے تر جس کی تیرگی ناگ بن کے ڈستی تھی جس کی سختی سے کوہساروں کے دل دہلتے تھے جس کی خوں تشنگی سے کومل شجر فقط ٹہنیوں کی حسرت کے زاویے تھے وہ ایک پتھر جو تو نے پھینکا مرے سمندر میں حرکت لا زوال کا ایک تازیانہ بنا وہ لہریں اٹھیں کہ خاموش چاندنی کی ...

مزید پڑھیے

تنہائی

صبح کا ہنستا ستارہ تنہا کون جانے رات بھر کس کرب سے گزرا ہے ان گھنے پیڑوں سے لمبے تیز دانتوں والے عفریت نکل کر ٹیڑھی ٹانگوں بد نما پیروں سے کومل چاندنی کے فرش پر ناچے کھردرے ہاتھوں سے پھولوں کے جگر چاک کئے اپنی نظروں کی سیاہی سے نکھرتے ہوئے رنگوں کے چراغوں کو بجھایا اپنے نفرت ...

مزید پڑھیے

اجنبی شہر

وہ پیڑ اب کٹ گیا ہے جس کے تلے جوانی کے گرم لمحوں کو ٹھنڈے سائے ملے جو اک موڑ کا نشاں تھا جہاں سے ہم اک نئی جہت کو چلے تھے اب وہ نشان بھی مٹ گیا وہاں کولتار کی اک سڑک ہے جو گرمیوں میں پگھلی ہوئی سی رہتی ہے آدمی بھی پگھل رہا ہے وہاں پر اب موٹروں کا دریا سا بہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے ...

مزید پڑھیے

تکمیل

وہ تیرگی بھی عجیب تھی چاندنی کی ٹھنڈی گداز چادر سے سارا جنگل لپٹ رہا تھا گلوں کے صد رنگ دھندلے دھندلے سے جیسے اک سیم تن کے چہرے کے شوخ غازے پہ آنسوؤں کا غبار ہو پیڑ، منتظر اپنی نرم شاخوں کے ہاتھ پھیلائے اور کبھی کوئی شاخ چٹکی تو سائے نکلے ملوک پھولوں کو چوم کر چاندنی کی چادر پہ ...

مزید پڑھیے

ماں

تیری تربت تیری آوازوں کا گنبد ایک وظیفہ جس سے گنبد کا پوشیدہ در کھل جاتا بھول گیا تھا اس کی خاطر جانے کتنے ویرانے اور کتنے بسیرے میں نے چھانے پر وہ مقدس پاؤں کی مٹی نہ مل سکی جس کو اس مورت پر ملتا تو تیری ہی آواز نکلتی تیری چاند سی آوازوں پر پتھر جیسا بادل برس برس کر گھل جاتا تو ...

مزید پڑھیے

دھڑکنیں

(1) موسم سرما کی ٹھٹھراتی ہوئی شام حزیں چوٹیوں پر برف کی اک لاش سارے پیڑ ننگے ٹنڈ منڈ صحن میں وہ چرمراتے بھورے پتوں کا کفن ایک سناٹا وہ اک ٹہنی تڑخ کر گر پڑی اک سانس ٹوٹا (۲) میں نے کل ہی اپنے بوڑھے باپ کے ٹھنڈے بدن کو غسل دے کے اپنے ہاتھوں کالی دھرتی کے دہانے میں اتارا کہ یہی ہے ...

مزید پڑھیے

میں

میرا جسم یہ نیلا گہرا پھیلتا پانی اس کی لہر لہر سے ابھرا میرے لہو کا چاند اس کے اندر پھوٹے تیرے جسم سے نرم کنول اس کے افق سے نکلا چمکا میرا سوچ کا سورج کون کہے میں خاکی ہوں مٹی تو بوجھل بیٹھ گئی تو بیٹھ گئی میں پانی کا سنگیت میں بہتا دریا لہو کا چاند کنول کا جھولا سوچ کا سورج کیسے ...

مزید پڑھیے

سفر

یہ آگ پانی ہوا یہ مٹی انہیں سے میرا خمیر اٹھا انہیں میں تحلیل ہو نہ جاؤں یہ آگ جو نور کا لہو ہے جو میری رگ رگ میں موجزن ہے اسی کی لو میں یہ میں نے دیکھا مجھے پہاڑوں کی چوٹیوں سے بلند تر نور کی پر اسرار سی اک انگلی بلا رہی تھی میں اپنے بوجھل کثیف کپڑوں کو خون کی آگ میں جلا کر ہوا کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4414 سے 6203