قومی زبان

مجھ سے ملو تم

مجھ سے ملو تم باتوں کی چائے پر کہانی کے پیچ میں بچپن کی شور کرتی ریل میں ماضی کے نکڑ پر افلاطونی عشق کی موج میں فرصت کے بے برکت دن یار کی جدائی والے پہر میں جوانی کی دھوپ میں غالب کے دیوان کی پر بہار سیڑھیوں پر لفظوں کے بازار میں نظموں کے اسرار میں مجھ سے ملو تم مجھ سے ملو تم اجنبی ...

مزید پڑھیے

مالی کو سازشوں پہ یوں اکسا دیا گیا

مالی کو سازشوں پہ یوں اکسا دیا گیا کلیاں بنیں نہ پھول یہ سمجھا دیا گیا سچ بولنے کی جس نے جسارت کی دوستو پھانسی پہ ایک دن اسے لٹکا دیا گیا منزل مرے نصیب میں لکھ دی گئی مگر پر پیچ راستہ مجھے دکھلا دیا گیا خود کو سمجھ رہے ہیں وہی لوگ ہوشیار جن کو خرد کی راہ سے بھٹکا دیا گیا پھر ...

مزید پڑھیے

باقی ہے امید ذرا سی

باقی ہے امید ذرا سی اے پردہ ور دید ذرا سی جن میں ذہانت تھی وہ کرتے کیوں اندھی تقلید ذرا سی میں بیمار دل بچ جاتا کر دیتے تاکید ذرا سی اور بھی تازہ دم کرتی ہے فن کو مرے تنقید ذرا سی دنیا بھر کے کفر پہ تنہا حاوی ہے توحید ذرا سی دل کی سنوں گا لیکن پہلے عقل کرے تائید ذرا سی فیضؔ جو ...

مزید پڑھیے

تولتا کیا مجھ کو کوئی جوہری میزان میں

تولتا کیا مجھ کو کوئی جوہری میزان میں میں تھا میرا اور پڑا تھا کوئلے کی کان میں تم سے تو ہوتا نہیں ہے اعتراف فن مرا چند جملے میں ہی کہتا ہوں تمہاری شان میں برسر پیکار اس کو دیکھ کر سب شاد تھے جا لگا ساحل سے وہ تنکا مگر طوفان میں سج رہی ہیں پھر سیاسی منڈیاں چاروں طرف دیکھنا ...

مزید پڑھیے

شام و سحر یوں چپکے چپکے رونا کیا

شام و سحر یوں چپکے چپکے رونا کیا کسی کی خاطر اتنا پاگل ہونا کیا ہوش گنوا دیتے ہیں تم سے مل کر لوگ کر دیتے ہو تم بھی جادو ٹونا کیا پیار وہ شے ہے جس کا کوئی مول نہیں اس کے آگے چاندی کیا ہے سونا کیا جب جی چاہا تم نے اس کو توڑ دیا جب ہی بولو دل تھا میرا کھلونا کیا فیضؔ یتیم و بیکس سے ...

مزید پڑھیے

قدرت کا سرسبز بچھونا اچھا لگتا ہے

قدرت کا سرسبز بچھونا اچھا لگتا ہے کھلی فضا میں گھاس پہ سونا اچھا لگتا ہے شام ڈھلے جب شاخ پہ چڑیاں نغمے گاتی ہیں مجھ کو تیرے ساتھ میں ہونا اچھا لگتا ہے ہر ایک چیز جو اپنی جگہ پر سجی سجائی ہو خود ہی گھر کا کونا کونا اچھا لگتا ہے تم کیا جانو رہ رہ کیسے پاتے ہیں منزل تم کو تو بس خواب ...

مزید پڑھیے

کڑی تھی دھوپ سر چکرا رہا تھا

کڑی تھی دھوپ سر چکرا رہا تھا میں بھوکا تھا بہت گھبرا رہا تھا تمہارا شہر کیا تھا کیا بتاؤں تماشہ ہر کوئی دکھلا رہا تھا تھے اس کے ہاتھ میں کشکول لیکن وہ مہر و ماہ کو شرما رہا تھا انا کا سانپ میں نے مار ڈالا بہت نقصان یہ پہنچا رہا تھا امیر شہر سے یہ کون پوچھے ستم کیوں مفلسوں پر ...

مزید پڑھیے

کسی آسیب کا سایہ ہے اس پر لوگ کہتے ہیں

کسی آسیب کا سایہ ہے اس پر لوگ کہتے ہیں پڑا رہتا ہے وہ حجرے کے اندر لوگ کہتے ہیں مری بستی میں اک بڑھیا ہے جو سچ مچ کی ڈائن ہے وہ کھا جاتی ہے بچوں کو پکڑ کر لوگ کہتے ہیں ہر اک رشتہ یہاں قائم ہے بس مطلب پرستی پر زمانے میں یہی رائج ہے کلچر لوگ کہتے ہیں معزز شخصیت ہے شہر کا اب نامور ...

مزید پڑھیے

ہنسا تھا دو گھڑی برسوں مگر آنسو بہایا تھا

ہنسا تھا دو گھڑی برسوں مگر آنسو بہایا تھا میں جب چھوٹا تھا اک لڑکی سے میں نے دل لگایا تھا مرے پیروں کے نیچے کی زمیں بنجر تھی کچھ اتنی صبا نے ایک گل کتنے زمانے میں کھلایا تھا سلگتی دھوپ میں سوچو سفر کیسے کٹا ہوگا مری منزل تھی کیا اور تم نے کیا رستہ دکھایا تھا محبت آگ ہے ایسی جو ...

مزید پڑھیے

ہم کسی بات پر نہیں روتے

ہم کسی بات پر نہیں روتے اپنی اوقات پر نہیں روتے تم اگر ہوتے کربلا والے جنگ میں مات پر نہیں روتے صبح کو شام کی نہیں پروا دن بھی اب رات پر نہیں روتے زندگی ان پہ ناز کرتی ہے جو بھی حالات پر نہیں روتے ہجر کا جشن ہم منائیں کیا سرد جذبات پر نہیں روتے ان کا دل دل نہیں ہے پتھر ہے جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4367 سے 6203