قومی زبان

نئے شہروں کی جب بنیاد رکھنا

نئے شہروں کی جب بنیاد رکھنا پرانے شہر بھی آباد رکھنا پڑی ہو پاؤں میں زنجیر پھر بھی ہمیشہ ذہن کو آزاد رکھنا کسی کی یاد جب شدت سے آئے بہت مشکل ہے خود کو یاد رکھنا دکھوں نے جڑ پکڑ لی میرے اندر ضروری تھا کوئی ہم زاد رکھنا خدایا شاخ پر کلیاں کھلانا کوئی پودا نہ بے اولاد ...

مزید پڑھیے

حال دل صرف تمہیں ہم نے سنانے کے لیے

حال دل صرف تمہیں ہم نے سنانے کے لیے کتنے الفاظ لکھے سارے زمانے کے لیے کھول رکھے ہیں دریچے اسی امید کے ساتھ لوٹ آئے گی ہوا دیپ جلانے کے لیے اس کا ملنا ہی مقدر میں نہیں تھا ورنہ ہم نے کیا کچھ نہیں کھویا اسے پانے کے لیے جانے کب آئے گا وہ میری محبت کا سفیر میرے ہر خواب کی تعبیر ...

مزید پڑھیے

ہوائیں گیت گاتی ہیں

ہوائیں گیت گاتی ہیں بدلتے موسموں کے انگنت قصے سناتی ہیں شجر سے زرد پتوں کو گرا کر مسکراتی ہیں ہوائیں گیت گاتی ہیں تھکے ہارے مسافر شام ڈھلتے ہی کسی صحرا میں جب اپنا پڑاؤ ڈال دیتے ہیں تو صحرا کی ہوائیں ہر مسافر کا سندیسہ لے کے آتی ہیں انہیں جا کر سناتی ہیں جو اپنے گھر کی چوکھٹ ...

مزید پڑھیے

تو نے کبھی بھی آنسو بہا کر نہیں دیکھا

تو نے کبھی بھی آنسو بہا کر نہیں دیکھا نمناک نگاہوں سے منا کر نہیں دیکھا غیروں نے کبھی ہاتھ ملا کر نہیں دیکھا اپنوں نے بھی سینے سے لگا کر نہیں دیکھا نظروں میں خیالوں میں سمایا تھا بہت وہ ہر چند اسے دل سے لگا کر نہیں دیکھا میں جانتا تھا رہتی نہ ہستیٔ سمندر میں نے دو کناروں کو ملا ...

مزید پڑھیے

حاشیے پر لکھی گئی نظم

مجھے رنگوں سے محبت تھی زندگی کے کینوس پر میں نئے نقش و نگار بنانا چاہتا تھا حسن کی حشر سامانیاں پینٹ کرنے کی خواہش میرے لہو میں سرسراتی تھی الھڑ جسموں کے زاویے میرے مو قلم کو اپنی جانب کھینچتے تھے آنکھوں کی گہرائیوں میں بہتے ہوئے خط مجھے بیتاب کرتے تھے محبت کی نظموں کی تخلیق ...

مزید پڑھیے

ہمارے سانس جھوٹے ہیں

مدار وقت سے اک جرعۂ نایاب لیتے ہیں یوں ہی جیتے چلے جاتے ہیں بس لمحوں کی دھڑکن میں خزاں کا گیت سنتے ہیں بہار زندگانی میں خمار رائیگانی میں ہمارے پاؤں رستے ماپتے ہیں شہر و صحرا کے مگر منزل نہیں ملتی سفر تو جاری رہتا ہے پھر آخر ایک دن جب وقت باگیں کھینچ لیتا ہے تو کھلتا ہے اسی بہتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4366 سے 6203