قومی زبان

زہر پر زہر چل نہیں سکتا

زہر پر زہر چل نہیں سکتا سانپ بچھو نگل نہیں سکتا تجربہ لاکھ کیجئے اس پر پھر بھی پتھر پگھل نہیں سکتا بھول بیٹھوں گا تجھ کو جیتے جی میں تو اتنا بدل نہیں سکتا غیر کی ٹانگ کھینچ کر بھائی کوئی آگے نکل نہیں سکتا اس کی مرضی اگر نہیں ہوگی گرنے والا سنبھل نہیں سکتا نوچ سکتا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

مسائل سر اٹھائے چل رہے ہیں

مسائل سر اٹھائے چل رہے ہیں بھری برسات میں ہم جل رہے ہیں ہم ایسے سوختہ دل لوگ برسوں کسی کی آنکھ کا کاجل رہے ہیں ہجوم فصل گل ہے پھر بھی ہم لوگ ابھی کانٹوں پہ جیسے چل رہے ہیں نہ جانے کتنے شیشے کے مکاں میں ابھی فرہاد و مجنوں پل رہے ہیں تمناؤں کی منزل تک بہت سے ہماری راہ میں مقتل ...

مزید پڑھیے

یوں تری یاد میں کھو گئے

یوں تری یاد میں کھو گئے ہم تھے کیا اور کیا ہو گئے اک نئی صبح کا خواب ہم دیکھتے دیکھتے سو گئے شہد کی فصل سے کیا گلہ زہر تو آپ ہم بو گئے آخر شب مرے اشک غم داغ قلب و جگر دھو گئے کتنے فاخرؔ مرے سامنے کیا سے کیا کیا سے کیا ہو گئے

مزید پڑھیے

زمانہ روز جسے یوں ہی سنگسار کرے

زمانہ روز جسے یوں ہی سنگسار کرے وہ اپنے زخم کہاں تک بھلا شمار کرے کوئی بتائے کہاں تک کوئی چمن زادہ چمن کو اپنا لہو دے کے لالہ زار کرے وہ جس نے صدیوں بہاروں کے رنگ دیکھے ہوں خزاں سے اپنے کو وہ کیسے ہم کنار کرے جو گھر سے نکلا ہو سچ بولنے کی نیت سے قدم قدم پہ وہ اب انتظار دار ...

مزید پڑھیے

میں کر نہ پایا ضبط زبس چیختا رہا

میں کر نہ پایا ضبط زبس چیختا رہا جب آئی مجھ کو یاد قفس چیختا رہا آزادیوں کا چرچا سر آسمان تھا اور ایک پنچھی زیر قفس چیختا رہا قطرہ بھی تیرے ہونٹوں سے مجھ کو نہیں ملا میں پیاس پیاس پیاس ہی بس چیختا رہا ہے عمر میری بیس برس اور اس میں سے لگ بھگ میں بارہ تیرہ برس چیختا رہا دہشت میں ...

مزید پڑھیے

کہاں لے آئے مجھ کو میں کہاں تھا

کہاں لے آئے مجھ کو میں کہاں تھا کسی مفلس کا شاید آشیاں تھا نہیں پہچان پایا اہل دل کو مبصر کی نظر میں کچھ دھواں تھا نشاں الفت کا واحد تاج ہی ہے گزشتہ دور میں اک شہ جہاں تھا ترا عاشق ترا بالم تھا گھائل تری آنکھوں میں ہی تیر و کماں تھا صنم خانوں میں جلوے عشق کے تھے بتوں کو تیرے ...

مزید پڑھیے

پردہ تمہارے رخ سے ہٹانا پڑا مجھے

پردہ تمہارے رخ سے ہٹانا پڑا مجھے یوں اپنی حسرتوں کو جگانا پڑا مجھے میں نے تو کھیل کھیل میں توڑا تھا اس کا دل پھر ساری عمر اس کو منانا پڑا مجھے جب عشق اک غریب سے مجھ کو ہوا تو پھر دل کا جو مول تھا وہ گھٹانا پڑا مجھے اس نے کہا میں جی نہیں پاؤں گی تیرے بن اس واسطے وہ رشتہ نبھانا پڑا ...

مزید پڑھیے

انتظار اس کا کر بھی سکتے ہو

انتظار اس کا کر بھی سکتے ہو کر کے وعدہ مکر بھی سکتے ہو تم اگر گھر میں آ نہیں سکتے میرے گھر سے گزر بھی سکتے ہو تم نے پتھر سے دل لگایا ہے آئنہ ہو بکھر بھی سکتے ہو مجھے ہر لمحہ کیوں ستاتے ہو دنیا والو سدھر بھی سکتے ہو ملنے جانا ہے تجھ کو کل فیصلؔ آج کی شام مر بھی سکتے ہو

مزید پڑھیے

دنیا کے امتحان میں کیا کیا صلہ ملا

دنیا کے امتحان میں کیا کیا صلہ ملا لمحہ بہ لمحہ ایک نیا حادثہ ملا خود بین و خود شناس ہے وہ اس لیے مجھے وہ شخص جب کبھی ملا غم آشنا ملا لہروں کے سوا کچھ بھی نہ تھا دور دور تک طوفاں میں کنارہ تو نہیں ہاں خدا ملا میں کیا بتاؤں کتنے تعجب کی بات تھی جب بے وفا میں مجھ کو نشان وفا ...

مزید پڑھیے

میں نے دنیا میں فقط دیکھے ہیں جانے والے

میں نے دنیا میں فقط دیکھے ہیں جانے والے میں نے دیکھے ہی نہیں ہیں کبھی آنے والے روتے روتے مرے دل سے جو صدا آتی ہے رونے لگ جاتے ہیں پھر مجھ کو منانے والے جب کوئی چھوڑ کے جاتا ہے تو دل کہتا ہے کیا کبھی لوٹ کے آتے ہیں یہ جانے والے ہم جو بے گھر ہیں ہمیں خوب سمجھ آتا ہے کس نظر سے ہمیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4368 سے 6203