ہر شجر کے تئیں ہوتا ہے ثمر سے پیوند
ہر شجر کے تئیں ہوتا ہے ثمر سے پیوند آہ کو کیوں نہیں ہوتا ہے اثر سے پیوند دیکھنا زور ہی گانٹھا ہے دل یار سے دل سنگ و شیشے کو کیا ہے میں ہنر سے پیوند مژۂ خون دل آلودہ پہ یہ ہے قطرۂ اشک یوں ہے جیوں شاخ ہو مرجاں کی گہر سے پیوند مل رہا ہے ترے عارض سے خط مورچہ یہ جیسے آئینے کے ...