آبرو الفت میں اگر چاہئے
آبرو الفت میں اگر چاہئے رکھنی سدا چشم کو تر چاہئے دل تو تجھے دے ہی چکے جان بھی لیجئے حاضر ہے اگر چاہئے یار ملے یا نہ ملے صبح و شام کوچۂ جاناں میں گزر چاہئے نام بھی نم کا نہ رہا چشم میں اب تو گریے لخت جگر چاہئے تیر نگہ وہ ہے کہ جس تیر کے سامنے ہونے کو جگر چاہئے اب کی بچے جی تو ...