شبدوں کا گل مہر
کال نے لکھ دیا مجھے شبدوں کے مانند میرے یگ کے چہرے پر چاہتا ہوں فقط شبدوں کا سلگتا گل مہر بطور وصیت اگلے یگ کو سونپا جائے
کال نے لکھ دیا مجھے شبدوں کے مانند میرے یگ کے چہرے پر چاہتا ہوں فقط شبدوں کا سلگتا گل مہر بطور وصیت اگلے یگ کو سونپا جائے
جا رہے تھے دو گدھے ایک راہ سے اپنی نادانی پہ وہ نازاں ہوئے راستہ گم تھا غبار و گرد سے جا رہے تھے گڈریے بھیڑیں لئے سوچتے جاتے تھے کچھ دونوں گدھے راستہ طے کر رہے تھے سوچتے آگے والا دل سے یوں گویا ہوا پیچھے جو آتا ہے میرے یہ گدھا رہنمائی کر رہا ہوں اس کی میں بادشاہی کر رہا ہوں سب کی ...
جس میں عمل کا جوش نہیں وہ شباب کیا مستی تو دل میں چاہیے شغل شراب کیا کیا درد دل محرک خدمت نہیں رہا جنت ٹھہر گئی ہے بنائے ثواب کیا یوں ہی نظر اٹھی تھی ذرا دیر کی طرف ملتا ہے اب یہ دیکھیں حرم سے خطاب کیا اپنوں سے خوف ہے کہ کہیں غیر ہی نہ ہوں ہے اس سے بڑھ کے اور جہاں میں عذاب ...
زبان درازی گوپی ناتھ امن جن دنوں زندگی اور موت کی کشمکش میں بستر پر دراز تھے ڈاکٹر انہیں دیکھنے آیا تو اس نے امن صاحب سے کہا: ’’ذرا زبان نکالئے ‘‘: امن صاحب نے مسکراکر کہا،’’جناب زبان درازی اچھی نہیں ہوتی۔‘‘
اب تو مذہب کوئی ایسا بھی چلایا جائے جس میں انسان کو انسان بنایا جائے جس کی خوشبو سے مہک جائے پڑوسی کا بھی گھر پھول اس قسم کا ہر سمت کھلایا جائے آگ بہتی ہے یہاں گنگا میں جھیلم میں بھی کوئی بتلائے کہاں جا کے نہایا جائے پیار کا خون ہوا کیوں یہ سمجھنے کے لیے ہر اندھیرے کو اجالے میں ...
ہے بہت اندھیار اب سورج نکلنا چاہیے جس طرح سے بھی ہو یہ موسم بدلنا چاہیے روز جو چہرے بدلتے ہیں لباسوں کی طرح اب جنازہ زور سے ان کا نکلنا چاہیے اب بھی کچھ لوگو نے بیچی ہے نہ اپنی آتما یہ پتن کا سلسلہ کچھ اور چلنا چاہیے پھول بن کر جو جیا ہے وہ یہاں مسلا گیا زیست کو فولاد کے سانچے ...
بدن پہ جس کے شرافت کا پیرہن دیکھا وہ آدمی بھی یہاں ہم نے بد چلن دیکھا خریدنے کو جسے کم تھی دولت دنیا کسی کبیر کی مٹھی میں وہ رتن دیکھا مجھے ملا ہے وہاں اپنا ہی بدن زخمی کہیں جو تیر سے گھائل کوئی ہرن دیکھا بڑا نہ چھوٹا کوئی فرق بس نظر کا ہے سبھی پہ چلتے سمے ایک سا کفن دیکھا زباں ...
جب چلے جائیں گے ہم لوٹ کے ساون کی طرح یاد آئیں گے پرتھم پیار کے چمبن کی طرح ذکر جس دم بھی چھڑا ان کی گلی میں میرا جانے شرمائے وہ کیوں گاؤں کی دلہن کی طرح میرے گھر کوئی خوشی آتی تو کیسے آتی عمر بھر ساتھ رہا درد مہاجن کی طرح کوئی کنگھی نہ ملی جس سے سلجھ پاتی وہ زندگی الجھی رہی ...
جتنا کم سامان رہے گا اتنا سفر آسان رہے گا جتنی بھاری گٹھری ہوگی اتنا تو حیران رہے گا اس سے ملنا نا ممکن ہے جب تک خود کا دھیان رہے گا ہاتھ ملیں اور دل نہ ملیں ایسے میں نقصان رہے گا جب تک مندر اور مسجد ہیں مشکل میں انسان رہے گا نیرجؔ تو کل یہاں نہ ہوگا اس کا گیت ودھان رہے گا
دکھ ندی ہے گہری سمرتیوں کی بہتی رہی بے آواز تھکی ٹوٹی اکیلے پن سے پر کہاں ٹھہری