قومی زبان

کبھی کرم کبھی غیظ و غضب تو ہوگا ہی

کبھی کرم کبھی غیظ و غضب تو ہوگا ہی مزاج یار سلامت یہ سب تو ہوگا ہی کسی کے گھر میں بچھی ہو اگر صف ماتم کسی کی بزم میں جشن طرب تو ہوگا ہی تمہاری بات ہو یا ذکر حور و غلماں کا بیان شانہ و رخسار و لب تو ہوگا ہی ادب کے نام پہ ہوگی جو اتنی پابندی تو کوئی واقعہ سوئے ادب تو ہوگا ہی میں ...

مزید پڑھیے

غم ہی غم ہے پوشیدہ ہر خوشی کے پردے میں

غم ہی غم ہے پوشیدہ ہر خوشی کے پردے میں موت ہی نظر آئی زندگی کے پردے میں مسکرا رہے ہیں وہ مجھ سے پھیر کر نظریں کچھ نوازشیں بھی ہیں بے رخی کے پردے میں صفحۂ ادب اس کے نام کو جگہ دے گا جو کہے بڑی باتیں سادگی کے پردے میں مطمئن رہو یارو ہم کبھی کسی سے بھی دشمنی نہیں کرتے دوستی کے پردے ...

مزید پڑھیے

فلک میں اڑوں پاؤں میں زمیں بھی رہے

فلک میں اڑوں پاؤں میں زمیں بھی رہے زباں سے ہاں بھی کہوں ذہن سے نہیں بھی رہے ترے سوا بھی کسی اور کی زمین تھی کیا چمن میں دشت میں صحرا میں یا کہیں بھی رہے مری ہی خاک سر طور ہم کلام بھی ہو مری ہی خاک میں آذر پنہ گزیں بھی رہے وہ جس کے در پہ ہے یہ کائنات سجدہ ریز اسی کے در پہ خمیدہ مری ...

مزید پڑھیے

ہنر سے جائے کسی کے نہ فن سے جاتا ہے

ہنر سے جائے کسی کے نہ فن سے جاتا ہے لہو کا داغ کہیں پیرہن سے جاتا ہے بصد ادا نگہ سیم تن سے جاتا ہے جگر کے پار ہر اک تیر سن سے جاتا ہے نمود تیغ بدن معرکے کا جوہر ہے دکھا کے پیٹھ کہیں کوئی رن سے جاتا ہے رگوں میں سوز غم عشق سے لہو ہے رواں سو وحشی آگے نکل کر ہرن سے جاتا ہے مژہ پہ ہوتا ...

مزید پڑھیے

ایک زمانے میں جب ہم تم دونوں ہی جوشیلے تھے

ایک زمانے میں جب ہم تم دونوں ہی جوشیلے تھے اس دنیا کے سارے موسم ٹھنڈے تھے برفیلے تھے دیکھنے والے مال و زر کیا جان لٹایا کرتے تھے خد و خال بدن کے کتنے مہنگے تھے خرچیلے تھے سامنے اس کے جاتے تھے تو مہر بہ لب رہ جاتے تھے باہر سے ہم شوخ بہت تھے اندر سے شرمیلے تھے قسمت کا یہ کھیل بھی ...

مزید پڑھیے

کیف و سرور و مستی ہم سے خود میں ہیں مے خانہ ہم

کیف و سرور و مستی ہم سے خود میں ہیں مے خانہ ہم شیشہ ساغر ساقی مینا جام و سبو پیمانہ ہم ایک ذرا سی دیر ہوئی کیا اس کی گلی تک جانے میں تنہائی کی شکل میں اب تک بھرتے ہیں جرمانہ ہم جانے کون سا جادو تھا اس جھیل سی گہری آنکھوں میں دل جیسی نایاب سی شے تک دے آئے نذرانہ ہم جس نے چاہا جیسا ...

مزید پڑھیے

غم سے کس نے نجات پائی ہے

غم سے کس نے نجات پائی ہے ہنس کے جی لو تو کیا برائی ہے بات یہ اب سمجھ میں آئی ہے خامشی میں بڑی بھلائی ہے ہم ہیں رونق بڑھانے والوں میں انجمن آپ نے سجائی ہے زندگی دور دور ہے ایسے جیسے اپنی نہیں پرائی ہے آندھیوں کو کوئی خبر کر دے ہم نے اک شمع پھر جلائی ہے اب اسی کو بھلا سمجھ ...

مزید پڑھیے

ریت کا ڈھیر عمارت میں بدلنا چاہا

ریت کا ڈھیر عمارت میں بدلنا چاہا میں نے ہر خواب حقیقت میں بدلنا چاہا پہلے آئی مری تنہائی کی ساتھی بن کر پھر تری یاد نے وحشت میں بدلنا چاہا پیار کی روح سے محروم ہے وہ دل جس نے اپنی فطرت کو ضرورت میں بدلنا چاہا دیکھ دیرینہ روایات کا نازک شیشہ ٹوٹ جائے گا جو عجلت میں بدلنا ...

مزید پڑھیے

سوئے ارمانوں کو جگایا کس کی حسن آرائی نے

سوئے ارمانوں کو جگایا کس کی حسن آرائی نے کس کے پرتو سے روشن ہیں دل کے دھندلے آئینے محفل محفل کیوں نہ تمہارے تیر نظر کا چرچا ہو کتنی دعائیں دیں ہیں دل کے زخموں کی گہرائی نے میں جس جانب بھی مڑتا ہوں ان کو سامنے پاتا ہوں سارے پردے توڑ دئے ہیں اس دل کی بینائی نے دل کے صحرا سے پھر ...

مزید پڑھیے

زخم دیتی رہی ہے ذات نئے

زخم دیتی رہی ہے ذات نئے گل کھلاتی رہی حیات نئے دن روایات کا اسیر رہا خواب دیکھے ہر ایک رات نئے رہنما کس کو چن لیا تم نے پیش آئیں گے واقعات نئے دوستی رسم یا رواج نہیں آئے دن کیوں تکلفات نئے آپ کھو بیٹھے اعتبار اپنا کیا کروں میں یہ کاغذات نئے آج ہم فیصلوں کو کیوں ٹالیں کل نیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4080 سے 6203