ریت کا ڈھیر عمارت میں بدلنا چاہا
ریت کا ڈھیر عمارت میں بدلنا چاہا
میں نے ہر خواب حقیقت میں بدلنا چاہا
پہلے آئی مری تنہائی کی ساتھی بن کر
پھر تری یاد نے وحشت میں بدلنا چاہا
پیار کی روح سے محروم ہے وہ دل جس نے
اپنی فطرت کو ضرورت میں بدلنا چاہا
دیکھ دیرینہ روایات کا نازک شیشہ
ٹوٹ جائے گا جو عجلت میں بدلنا چاہا
گھر کے بگڑے ہوئے نقشے پہ نہ ماتم کیجئے
فرش کو آپ نے خود چھت میں بدلنا چاہا
آپ رائی کا جو پربت نہ بنائیں تو کہوں
میں نے نفرت کو محبت میں بدلنا چاہا