قومی زبان

روز روشن رہیں حالات ضروری تو نہیں

روز روشن رہیں حالات ضروری تو نہیں چاندنی رات ہو ہر رات ضروری تو نہیں برق گر جائے اگر گھر بھی جلا سکتی ہے اس کے پہلو میں ہو برسات ضروری تو نہیں دامن عشق میں رخشاں ہیں ہزاروں خوشیاں غم ہی ہو عشق کی سوغات ضروری تو نہیں مست آنکھوں سے بھی ہم پیاس بجھا سکتے ہیں بخشش‌ میر خرابات ...

مزید پڑھیے

رہ گئی لٹ کر بہار زندگی

رہ گئی لٹ کر بہار زندگی زندگی ہے سوگوار زندگی میری نظروں میں حسیں دھوکا ہے اک جس کو کہتے ہیں بہار زندگی کلفتیں کچھ تلخیاں کچھ حادثے اب یہی ہے یادگار زندگی مٹ رہا ہو جو کسی کے عشق میں پھر کہاں اس کو قرار زندگی تری الفت تیرا غم تیرا خیال کچھ یہی ہے کاروبار زندگی اپنا دل ہی جب ...

مزید پڑھیے

کیا بتاؤں آج وہ مجھ سے جدا کیوں کر ہوا

کیا بتاؤں آج وہ مجھ سے جدا کیوں کر ہوا مدتوں کا آشنا نا آشنا کیوں کر ہوا تیرے ہر نقش قدم پر جس نے سجدہ کر دیا تیری نظروں میں بھلا وہ بے وفا کیوں کر ہوا میری بربادی میں جس کا ہاتھ تھا وہ فتنہ گر پوچھتا ہے اب مجھے یہ حادثہ کیوں کر ہوا جس کے ہاتھوں نے جلایا گلستاں کا گلستاں اس کا ...

مزید پڑھیے

بات اپنوں کی کروں میں کسی بیگانے سے

بات اپنوں کی کروں میں کسی بیگانے سے کیوں بہک جاتے ہو تم غیر کے بہکانے سے راز کی بات ہے پوچھو کسی دیوانے سے عقدۂ عشق کھلا کب کسی فرزانے سے کیا کہے ان سے کوئی دل کی تمنا کیا ہے جان کر بھی جو بنے رہتے ہیں انجانے سے آن کی آن میں جل بجھ کے ہوا خاکستر کیا کہیں کہہ دیا کیا شمع نے پروانے ...

مزید پڑھیے

فصیل جسم کی اونچائی سے اتر جائیں

فصیل جسم کی اونچائی سے اتر جائیں تو اس خرابے سے ہم لوگ پھر کدھر جائیں ہوا بتاتی ہے گزرے گا کارواں کوئی کچھ اور دیر اسی راہ پر ٹھہر جائیں تمام دن تو لہو چاٹتا رہا سورج ہوئی ہے شام چلو اپنے اپنے گھر جائیں کبھی تو کوئی لہو کے دئیے جلائے گا چلو نشان قدم اپنا چھوڑ کر جائیں ابھی صدا ...

مزید پڑھیے

داستان درد دل اہل وفا کہنے لگے

داستان درد دل اہل وفا کہنے لگے یعنی ہر آواز کو تیری صدا کہنے لگے لیجئے پھر توڑ دی یاروں نے زنجیر سکوت لیجئے ہم زندگی کا مرثیہ کہنے لگے یہ بھی اپنی تنگ نظری کی ہے اک واضح دلیل ہم جو ہر چہرے کو اب اک آئنہ کہنے لگے پھر نئی تہذیب کا اک باب روشن ہو گیا لوگ پھر اب داستان ارتقا کہنے ...

مزید پڑھیے

زیست کا خالی کٹورا آپ ہی بھر جائے گا

زیست کا خالی کٹورا آپ ہی بھر جائے گا اپنے ہی جیسا کسی دن وہ مجھے کر جائے گا شہر میں کوئی نہ رہ پائے گا بے نام و نشاں جس طرف شیشے کی یورش ہوگی پتھر جائے گا ندیاں اب بھاگتی پھرتی ہیں صحرا کی طرف اب تو دریا کے تعاقب میں سمندر جائے گا کھو چکے ہیں لوگ اپنے اپنے چہروں کا وقار جو بھی ...

مزید پڑھیے

پھر مجھے جینے کی دعا دی ہے

پھر مجھے جینے کی دعا دی ہے یعنی پھر اک حسیں سزا دی ہے ظلم سہہ کر بھی ہم نے ظالم کے ہاتھ چومے ہیں اور دعا دی ہے کیوں گلہ ہو کہ ہم کو قدرت نے یہ کسی جرم کی سزا دی ہے شکریہ تو نے ایک ٹھوکر سے روح خوابیدہ اک جگا دی ہے حسن کو کیا خبر کہ خود اس نے شعلۂ عشق کو ہوا دی ہے موسم گل نے آ کے ...

مزید پڑھیے

تڑپ تو آج بھی کچھ کم نہیں ہے

تڑپ تو آج بھی کچھ کم نہیں ہے مگر یہ چشم اب پر نم نہیں ہے ہوئے جب فرط غم سے خشک آنسو وہ یہ سمجھے کہ مجھ کو غم نہیں ہے دھواں سا اک اٹھا کرتا ہے دل میں تری یاد آہ اب بھی کم نہیں ہے وہ راہیں بھی کوئی راہیں ہیں یارو کہ جن میں کوئی پیچ و خم نہیں ہے رواں ہوں یوں تو اب بھی سوئے منزل قدم ...

مزید پڑھیے

بات کچھ بھی نہ تھی فسانہ ہوا

بات کچھ بھی نہ تھی فسانہ ہوا میری رسوائی کا بہانہ ہوا تھی یہ خواہش کہیں گے سب کچھ ہم ان کے آگے تو لب بھی وا نہ ہوا روز آتی ہے اک نئی آفت دل مرا جب سے عاشقانہ ہوا کیوں تڑپتا ہے پھر دل مضطر کس بلا کا یہ پھر نشانہ ہوا تو نے چھوڑا ہے ساتھ جب سے ندیم ہائے دشمن مرا زمانہ ہوا مر ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4081 سے 6203