غم سے کس نے نجات پائی ہے
غم سے کس نے نجات پائی ہے
ہنس کے جی لو تو کیا برائی ہے
بات یہ اب سمجھ میں آئی ہے
خامشی میں بڑی بھلائی ہے
ہم ہیں رونق بڑھانے والوں میں
انجمن آپ نے سجائی ہے
زندگی دور دور ہے ایسے
جیسے اپنی نہیں پرائی ہے
آندھیوں کو کوئی خبر کر دے
ہم نے اک شمع پھر جلائی ہے
اب اسی کو بھلا سمجھ لیجئے
نسبتاً جس میں کم برائی ہے
جب بھی ہم سے نظر ملی ہے نعیمؔ
موت شرما کے مسکرائی ہے