زخم دیتی رہی ہے ذات نئے
زخم دیتی رہی ہے ذات نئے
گل کھلاتی رہی حیات نئے
دن روایات کا اسیر رہا
خواب دیکھے ہر ایک رات نئے
رہنما کس کو چن لیا تم نے
پیش آئیں گے واقعات نئے
دوستی رسم یا رواج نہیں
آئے دن کیوں تکلفات نئے
آپ کھو بیٹھے اعتبار اپنا
کیا کروں میں یہ کاغذات نئے
آج ہم فیصلوں کو کیوں ٹالیں
کل نیا دن مقدمات نئے
تجھ سے ملنے کے بعد خود سے ملا
مجھ سے میرے تعلقات نئے
تجربے آپ کیجئے صاحب
ہم کریں گے مشاہدات نئے
شاعری آپ کی نعیمؔ ہے کیا
طرز کہنہ مگر نکات نئے