قومی زبان

اپنے انجام سے ڈرتا ہوں میں

اپنے انجام سے ڈرتا ہوں میں دل دھڑکتا ہے کہ سچا ہوں میں میرا ساقی ہے بڑا دریا دل پھر بھی پیاسا ہوں کہ صحرا ہوں میں اور کس کو ہو مرے زہر کی تاب اپنے ہی آپ کو ڈستا ہوں میں کیوں کروں پیروی گوتم و قیس جب بھرے گھر میں بھی تنہا ہوں میں تھا وہ کچھ ہم سے زیادہ ہی مریض جس کا دعویٰ تھا ...

مزید پڑھیے

رنگینی ہوس کا وفا نام رکھ دیا

رنگینی ہوس کا وفا نام رکھ دیا خودداری وفا کا جفا نام رکھ دیا انسان کی جو بات سمجھ میں نہ آ سکی انساں نے اس کا حق کی رضا نام رکھ دیا خود غرضیوں کے سائے میں پاتی ہے پرورش الفت کو جس کا صدق و صفا نام رکھ دیا بے مہری حبیب کا مشکل تھا اعتراف یاروں نے اس کا ناز و ادا نام رکھ دیا فطرت ...

مزید پڑھیے

کس کو ہے حسن خداداد کا دعویٰ دیکھیں

کس کو ہے حسن خداداد کا دعویٰ دیکھیں کس کا چہرہ نہیں منت کش غازہ دیکھیں جو مقدر ہے وہ انجام تمنا دیکھیں دل وحشت زدہ چل آج اسے جا دیکھیں دل یہ کہتا ہے کہ حسن اس کا جہاں تاب بھی ہو اور پھر یہ بھی ہے کہ ہم ہی اسے تنہا دیکھیں آؤ کچھ جشن شہادت ہی میں شرکت ہو جائے اپنی کھڑکی ہی سے مقتل ...

مزید پڑھیے

شکوہ اب گردش ایام کا کرتے کیوں ہو

شکوہ اب گردش ایام کا کرتے کیوں ہو خواب دیکھے تھے تو تعبیر سے ڈرتے کیوں ہو خوف پاداش کا لفظوں میں کہیں چھپتا ہے ذکر اتنا رسن و دار کا کرتے کیوں ہو تم بھی تھے زود یقینی کے تو مجرم شاید سارا الزام اسی شخص پہ دھرتے کیوں ہو عافیت کوش اگر ہو تو برا کیا ہے مگر راہ پر خار محبت سے گزرتے ...

مزید پڑھیے

اک چھیڑ تھی جفاؤں کا تیری گلہ نہ تھا

اک چھیڑ تھی جفاؤں کا تیری گلہ نہ تھا ترک تعلقات مرا مدعا نہ تھا ناصح وہ شوخ دشمن ایماں تھا واقعی اور پھر مرا مزاج بھی کچھ عاشقانہ تھا ٹوٹا ہے اپنے زعم وفا کا طلسم آج محسوس ہو رہا ہے کہ تو بے وفا نہ تھا ہم خود بھی ترک راہ وفا پر ہیں منفعل پر کیا کریں کہ اور کوئی راستہ نہ تھا جب ...

مزید پڑھیے

عشق فانی نہ حسن فانی ہے

عشق فانی نہ حسن فانی ہے ان کا ہر لمحہ جاودانی ہے دیکھ رندوں پہ اتنا طعن نہ کر دیکھ رت کس قدر سہانی ہے شیخ فانی سہی یہ دھر مگر تیری جنت فقط کہانی ہے ایک بے کیف سا تسلسل ہے کوئی غم ہے نہ شادمانی ہے

مزید پڑھیے

تیری آنکھوں میں جو نشہ ہے پذیرائی کا

تیری آنکھوں میں جو نشہ ہے پذیرائی کا رنگ بھر دے نہ مری زیست میں رسوائی کا تجھ کو افسون محبت کی ضرورت کیا تھی سحر کچھ کم تو نہیں تھا تری رعنائی کا دل تو کیا چیز ہے جاں اس پہ تصدق کر دوں یہ اگر عربدہ بھی ہو کسی ہرجائی کا سوچتا ہوں دل بیتاب پہ کیا گزرے گی سامنا ہو گیا گر پھر شب ...

مزید پڑھیے

بہت واقف ہیں لب آہ و فغاں سے

بہت واقف ہیں لب آہ و فغاں سے تبسم ہے کہاں لاؤں کہاں سے تصور بھول جاتا ہے خدا کو یہ ٹکرایا ہے جب آہ و فغاں سے یقیں ہونے کو ہے مایوسیوں پر توقع اٹھ رہی ہے آسماں سے مقفل ہو زباں جس بے نوا کی وہ کیوں کر کیا کہے اپنی زباں سے کہے کچھ بھی مگر پر سوز ہوگا ہمیں امید ہے اپنی زباں سے الٰہی ...

مزید پڑھیے

گلا کیا کروں اے فلک بتا مرے حق میں جب یہ جہاں نہیں

گلا کیا کروں اے فلک بتا مرے حق میں جب یہ جہاں نہیں کہوں کیسے حال دل ان سے میں مری ہلتی تک یہ زباں نہیں یہ بھنور ہیں بہر حیات کے میں ہوں خستہ حال و شکستہ دل مری ڈگمگاتی ہے ناؤ اب کہیں ملتا مجھ کو کراں نہیں تجھے ڈھونڈوں بھی تو کہاں کہ جب ہوں میں خود ہی ظلمت یاس میں مجھے بزم ہستی میں ...

مزید پڑھیے

شکوہ گلہ مطالبہ فریاد کچھ تو ہو

شکوہ گلہ مطالبہ فریاد کچھ تو ہو جینا اگر ہے اے دل برباد کچھ تو ہو شیرین و دل نواز کوئی خواب ہی سہی آخر تسلیٔ دل ناشاد کچھ تو ہو خوش آ سکی نہ لذت تحسین نا شناس تعریف بھی اگر ہو تو بنیاد کچھ تو ہو ہاں مسکراؤ کھل کے سر دار دوستو دل کش تمہارے قتل کی روداد کچھ تو ہو آؤ نا گائیں نغمۂ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4079 سے 6203