اپنے انجام سے ڈرتا ہوں میں
اپنے انجام سے ڈرتا ہوں میں دل دھڑکتا ہے کہ سچا ہوں میں میرا ساقی ہے بڑا دریا دل پھر بھی پیاسا ہوں کہ صحرا ہوں میں اور کس کو ہو مرے زہر کی تاب اپنے ہی آپ کو ڈستا ہوں میں کیوں کروں پیروی گوتم و قیس جب بھرے گھر میں بھی تنہا ہوں میں تھا وہ کچھ ہم سے زیادہ ہی مریض جس کا دعویٰ تھا ...