قومی زبان

پیغام عید

اپنی آنکھوں میں خمستان مے ناب لیے اپنے عارض پہ بہار گل شاداب لیے اپنے ماتھے پہ درخشانیٔ مہتاب لئے نکہت و رنگ لیے نور کا سیلاب لیے عید آئی ہے محبت کا نیا باب لیے زلف بکھری ہے کہ رحمت کی گھٹا چھائی ہے جس طرف دیکھیے رعنائی ہی رعنائی ہے رہ گزر کاہکشاں بن کے نکھر آئی ہے ذرہ ذرہ ہے ...

مزید پڑھیے

غزل غم کی اک ہم سنانے لگے ہیں

غزل غم کی اک ہم سنانے لگے ہیں بھری بزم کا دل دکھانے لگے ہیں مرے سارے اپنے حریفوں سے مل کر میرا ضبط پھر آزمانے لگے ہیں محبت کی باتیں جو کرتے تھے مجھ سے مجھے چھوڑ کر اب وہ جانے لگے ہیں تری آس میں ہی چلا جا رہا ہوں وگرنہ یہ رستے تھکانے لگے ہیں تمہیں دل سے ہم نے نکالا نہیں پر سبھی ...

مزید پڑھیے

پہلے لگتا تھا بن تیرے مر جاؤں گا

پہلے لگتا تھا بن تیرے مر جاؤں گا تو نے چھوڑا تو پھر میں کدھر جاؤں گا تو بھی لگتا ہے مجھ کو زمانے سا ہی تیرے دل سے بھی اک دن اتر جاؤں گا تیری عادت نے مجھ کو بگاڑا ہے پر ایک دن دیکھنا میں سدھر جاؤں گا پھر ترے پاس سے دیکھنا کیسے میں تجھ کو دیکھے بنا ہی گزر جاؤں گا آج باتوں میں ہوں ...

مزید پڑھیے

تمہارے بن گزارا ہو رہا ہے

تمہارے بن گزارا ہو رہا ہے مگر یہ دل تمہارا ہو رہا ہے ادھر اس دل کو عادت ہو رہی ہے ادھر ہم سے کنارا ہو رہا ہے تجھے ہر شخص پیارا ہو رہا ہے یہ دل کو کب گوارہ ہو رہا ہے کہ رہ کر دور بھی تجھ سے مری جاں خسارہ تو ہمارا ہو رہا ہے متاع جاں تمہارا خواب تھا جو مری آنکھوں کا تارا ہو رہا ہے

مزید پڑھیے

سسکیوں کو دبا کے رویا ہوں

سسکیوں کو دبا کے رویا ہوں اپنے آنسو چھپا کے رویا ہوں رنج و غم اپنے بے بسی دل کی اپنے رب کو بتا کے رویا ہوں سوچ کر یہ کہ بہہ ہی جائے غم آنسوؤں میں سما کے رویا ہوں جس کو کھونے کا ڈر سا رہتا تھا دیکھو اس کو میں پا کے رویا ہوں اس کی خاطر اسی کو چھوڑا ہے اس کو خوشیاں دلا کے رویا ...

مزید پڑھیے

عشق آزار لگ رہا ہے مجھے

عشق آزار لگ رہا ہے مجھے دل یہ بیمار لگ رہا ہے مجھے چبھ رہی اب ہیں ساری خوشبوئیں پھول بھی خار لگ رہا ہے مجھے غم میں رویا ہے ساتھ میرے سو آسماں یار لگ رہا ہے مجھے خود ہوں بیزار اور ہر اک شخص خود سے بیزار لگ رہا ہے مجھے دل ہے ویران اور جہاں سارا غم کا بازار لگ رہا ہے مجھے

مزید پڑھیے

اپنی پلکوں پہ کچھ نمی لے کر

اپنی پلکوں پہ کچھ نمی لے کر اب وہ آئے ہیں زندگی لے کر راس کچھ آ گیا ہے غم اتنا کیا کروں گا میں سر خوشی لے کر دل کے دروازے بند ہیں سب کے ہم کہاں جائیں دوستی لے کر دن تو گزرا کسی طرح بیتابؔ رات آئی ہے بیکلی لے کر

مزید پڑھیے

جب دشت تمنا میں کوئی پھول کھلا ہے

جب دشت تمنا میں کوئی پھول کھلا ہے شہر دل خاموش سے اک شور اٹھا ہے آنکھوں میں کھنڈر ہونٹوں پہ اک بھولا ہوا نام چاہت میں کسی کی یہ عجب حال ہوا ہے پھر یادوں کی دہلیز پہ جل اٹھی ہیں شمعیں پھر پلکوں پہ بکھرا ہوا اک خواب سجا ہے ہر سانس ہو تلوار سی جیسے رگ جاں پر جینا بھی یہاں نام کسی ...

مزید پڑھیے

مری وفا کا نہ سوچا تھا یہ صلہ دے گا

مری وفا کا نہ سوچا تھا یہ صلہ دے گا سمجھ کے حرف غلط وہ مجھے مٹا دے گا بھلا وہ دے گا بھی مجھ کو تو اور کیا دے گا غموں کی دھوپ میں جینے کی بس سزا دے گا عجیب ضد ہے کہ الٹا ہی سوچتا ہے وہ میں سچ کہوں گا اسے جھوٹ وہ بنا دے گا ستم کا اس کے کچھ انداز ہی نرالا ہے جو موت چاہوں گا جینے کی وہ ...

مزید پڑھیے

گمراہ کہہ کے پہلے جو مجھ سے خفا ہوئے

گمراہ کہہ کے پہلے جو مجھ سے خفا ہوئے آخر وہ میرے نقش قدم پر فدا ہوئے اب تک تو زندگی سے تعارف نہ تھا کوئی تم سے ملے تو زیست سے بھی آشنا ہوئے ایسا نہیں کہ دل ہی مقابل نہیں رہا تیر نگاہ ناز بھی اکثر خطا ہوئے میری نظر نے تم کو جمال آشنا کیا مجھ کو دعائیں دو کہ تم اک آئینہ ہوئے کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4001 سے 6203