قومی زبان

دل پر لگا رہی ہے وہ نیچی نگاہ چوٹ

دل پر لگا رہی ہے وہ نیچی نگاہ چوٹ پھر چوٹ بھی وہ چوٹ جو ہے بے پناہ چوٹ پھوڑا سر اس کے در سے کہ برسے جنوں میں سنگ مجھ کو دلا رہی ہے عجب اشتباہ چوٹ بجلی کا نام سنتے ہی آنکھیں جھپک گئیں روکے گی میری آہ کی کیا یہ نگاہ چوٹ لالچ اثر کا ہو نہ کہیں باعث ضرر ٹکرا کے سر فلک سے نہ کھا جائے آہ ...

مزید پڑھیے

یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا

یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا محبت میں جو دل مل جائے پھر کیا ہو نہیں سکتا شکایت ہو نہیں سکتی کہ شکوا ہو نہیں سکتا ذرا سا چھیڑ دے کوئی تو پھر کیا ہو نہیں سکتا برائی کا عوض ہرگز بھلائی ہو نہیں سکتی برا کہہ کر کسی کو کوئی اچھا ہو نہیں سکتا ہمارا ان کا قصہ لوگ سنتے ہیں ...

مزید پڑھیے

آغاز محبت میں برسوں یوں ضبط سے ہم نے کام لیا

آغاز محبت میں برسوں یوں ضبط سے ہم نے کام لیا جب ہوک کلیجے میں اٹھی تو ہاتھوں سے دل تھام لیا اس رشک کے ہاتھوں ایک نہ اک ہر روز ہی داغ اٹھاتے رہے ہم چوٹ جگر پر کھا بیٹھے جب غیر نے تیرا نام لیا آنکھیں وہ جھکیں ملتے ملتے رہے ہوش و خرد جاتے جاتے کچھ شرم نے ان کو روک لیا کچھ ضبط نے ہم کو ...

مزید پڑھیے

صبح کو آئے ہو نکلے شام کے

صبح کو آئے ہو نکلے شام کے جاؤ بھی اب تم مرے کس کام کے ہاتھا پائی سے یہی مطلب بھی تھا کوئی منہ چومے کلائی تھام کے تم اگر چاہو تو کچھ مشکل نہیں ڈھنگ سو ہیں نامہ و پیغام کے چھیڑ واعظ ہر گھڑی اچھی نہیں رند بھی ہیں ایک اپنے نام کے قہر ڈھائے گی اسیروں کی تڑپ اور بھی الجھیں گے حلقے دام ...

مزید پڑھیے

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے نہیں مرتے ہیں تو ایذا نہیں جھیلی جاتی اور مرتے ہیں تو پیماں شکنی ہوتی ہے دن کو اک نور برستا ہے مری تربت پر رات کو چادر مہتاب تنی ہوتی ہے تم بچھڑتے ہو جو اب کرب نہ ہو وہ کم ہے دم نکلتا ہے تو اعضا شکنی ہوتی ...

مزید پڑھیے

ساتھ رہتے اتنی مدت ہو گئی

ساتھ رہتے اتنی مدت ہو گئی درد کو دل سے محبت ہو گئی کیا جوانی جلد رخصت ہو گئی اک چھلاوا تھی کہ چمپت ہو گئی دل کی گاہک اچھی صورت ہو گئی آنکھ ملتے ہی محبت ہو گئی فاتحہ پڑھنے وہ آئے آج کیا ٹھوکروں کی نذر تربت ہو گئی لاکھ بیماری ہے اک پرہیز مے جان جوکھوں ترک عادت ہو گئی تفرقہ ڈالا ...

مزید پڑھیے

حدیث تلخئ ایام سے تکلیف ہوتی ہے

حدیث تلخئ ایام سے تکلیف ہوتی ہے سحر والوں کو ذکر شام سے تکلیف ہوتی ہے وہی کافر کہ جس کا نام تسکین دل و جاں تھا ستم ہے اب اسی کے نام سے تکلیف ہوتی ہے مقام ایسا بھی آتا ہے گزر گاہ محبت میں مسافر کو جہاں آرام سے تکلیف ہوتی ہے شکست دل کی منزل سے اگر گزرے تو کیا ہوگا ابھی تم کو شکست ...

مزید پڑھیے

ہمارے عہد کا منظر عجیب منظر ہے

ہمارے عہد کا منظر عجیب منظر ہے بہار چہرے پہ دل میں خزاں کا دفتر ہے نہ ہم سفر نا کوئی نقش پا نا رہبر ہے جنوں کی راہ میں کچھ ہے تو جان کا ڈر ہے ہر ایک لمحہ ہمیں ڈر ہے ٹوٹ جانے کا یہ زندگی ہے کہ بوسیدہ کانچ کا گھر ہے اسی سے لڑتے ہوئے ایک عمر بیت گئی مری انا ہی مرے راستے کا پتھر ...

مزید پڑھیے

مدت کی تشنگی کا انعام چاہتا ہوں

مدت کی تشنگی کا انعام چاہتا ہوں مستی بھری نظر سے اک جام چاہتا ہوں اے گردش زمانہ زحمت تو ہوگی تجھ کو کچھ دیر کے لیے میں آرام چاہتا ہوں کل ہم سے کہہ رہا تھا شہرت طلب زمانہ تم کام چاہتے ہو میں نام چاہتا ہوں صبح حیات لے لے اے زلف یار لیکن میں تجھ سے اس کے بدلے اک شام چاہتا ہوں باد ...

مزید پڑھیے

یہ کیسی ہوائے غم و آزار چلی ہے

یہ کیسی ہوائے غم و آزار چلی ہے خود باد بہاری بھی شرر بار چلی ہے دیکھی ہی نہ تھی جس نے شکست آج تک اپنی وہ چشم فسوں خیز بھی دل ہار چلی ہے اب کوئی حدیث قد و گیسو نہیں سنتا دنیا میں وہ رسم رسن و دار چلی ہے تکتا ہی نہیں کوئی مے و جام کی جانب کیا چال یہ تو نے نگہ یار چلی ہے وہ لوگ کہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4000 سے 6203