دل پر لگا رہی ہے وہ نیچی نگاہ چوٹ
دل پر لگا رہی ہے وہ نیچی نگاہ چوٹ پھر چوٹ بھی وہ چوٹ جو ہے بے پناہ چوٹ پھوڑا سر اس کے در سے کہ برسے جنوں میں سنگ مجھ کو دلا رہی ہے عجب اشتباہ چوٹ بجلی کا نام سنتے ہی آنکھیں جھپک گئیں روکے گی میری آہ کی کیا یہ نگاہ چوٹ لالچ اثر کا ہو نہ کہیں باعث ضرر ٹکرا کے سر فلک سے نہ کھا جائے آہ ...