قومی زبان

عشق میں ہر نفس عبادت ہے

عشق میں ہر نفس عبادت ہے مذہب عشق آدمیت ہے اک زمانہ رقیب ہے میرا جب سے حاصل تری رفاقت ہے زندگی نام رنج و غم ہی سہی پھر بھی کس درجہ خوب صورت ہے اک محبت بھری نظر کے سوا اور کیا اہل دل کی قیمت ہے چند مخلص جہاں اکٹھا ہوں وہ جگہ اہل دل کی جنت ہے کون سلجھائے گیسوئے دوراں اپنی الجھن سے ...

مزید پڑھیے

جب تصور میں کوئی ماہ جبیں ہوتا ہے

جب تصور میں کوئی ماہ جبیں ہوتا ہے رات ہوتی ہے مگر دن کا یقیں ہوتا ہے اف وہ بیداد عنایت بھی تصدق جس پر ہائے وہ غم جو مسرت سے حسیں ہوتا ہے ہجر کی رات فسوں کارئ ظلمت مت پوچھ شمع جلتی ہے مگر نور نہیں ہوتا ہے دور تک ہم نے جو دیکھا تو یہ معلوم ہوا کہ وہ انساں کی رگ جاں سے قریں ہوتا ...

مزید پڑھیے

جو نظر سے بیان ہوتی ہے

جو نظر سے بیان ہوتی ہے کیا حسیں داستان ہوتی ہے پتھروں کو نہ ٹھوکریں مارو پتھروں میں بھی جان ہوتی ہے جس کو چھو دو تم اپنے قدموں سے وہ زمیں آسمان ہوتی ہے بے پیے بھی سرور ہوتا ہے جب محبت جوان ہوتی ہے زندگی تو اسی کی ہے جس پر وہ نظر مہربان ہوتی ہے جتنے اونچے خیال ہوتے ہیں اتنی ...

مزید پڑھیے

بھاگتے سایوں کے پیچھے تا بہ کے دوڑا کریں

بھاگتے سایوں کے پیچھے تا بہ کے دوڑا کریں زندگی تو ہی بتا کب تک ترا پیچھا کریں روئے گل ہو چہرۂ مہتاب ہو یا حسن دوست ہر چمکتی چیز کو کچھ دور سے دیکھا کریں بے نیازی خود سراپا التجا بن جائے گی آپ اپنی داستاں میں حسن تو پیدا کریں دل کہ تھا خوش فہم آگاہ حقیقت ہو گیا شکر بھیجیں یا تری ...

مزید پڑھیے

لہو کی مے بنائی دل کا پیمانہ بنا ڈالا

لہو کی مے بنائی دل کا پیمانہ بنا ڈالا جگر داروں نے مقتل کو بھی مے خانہ بنا ڈالا ہمارے جذبۂ تعمیر کی کچھ داد دو یارو کہ ہم نے بجلیوں کو شمع کا شانہ بنا ڈالا ستم ڈھاتے ہو لیکن لطف کا احساس ہوتا ہے اسی انداز نے دنیا کو دیوانہ بنا ڈالا بھری محفل میں ہم نے بات کر لی تھی ان آنکھوں ...

مزید پڑھیے

جو پردوں میں خود کو چھپائے ہوئے ہیں

جو پردوں میں خود کو چھپائے ہوئے ہیں قیامت وہی تو اٹھائے ہوئے ہیں تری انجمن میں جو آئے ہوئے ہیں غم دو جہاں کو بھلائے ہوئے ہیں پہاڑوں سے بھی جو اٹھائے نہ اٹھا وہ بار وفا ہم اٹھائے ہوئے ہیں کوئی شام کے وقت آئے گا لیکن سحر سے ہم آنکھیں بچھائے ہوئے ہیں جہاں بجلیاں خود اماں ڈھونڈتی ...

مزید پڑھیے

آ جاؤ کہ مل کر ہم جینے کی بنا ڈالیں (ردیف .. ا)

آ جاؤ کہ مل کر ہم جینے کی بنا ڈالیں یہ بار حیات اے دوست اٹھنے کا نہیں تنہا دنیا پہ مسلط ہے اوہام کی تاریکی ہم ہیں کہ جلائے ہیں اک شمع یقیں تنہا محتاج توجہ ہیں کچھ اور مسائل بھی کیوں ذہن میں پھرتی ہے اک نان جویں تنہا ہر مرغ خوش الحاں اب پرواز پہ مائل ہے گلشن میں نہ رہ جائے صیاد ...

مزید پڑھیے

وہ تو بیٹھے رہے سر جھکائے ہوئے

وہ تو بیٹھے رہے سر جھکائے ہوئے جادو ان کی نگاہوں کے چلتے رہے مشکلوں نے بہت راہ روکی مگر جن کو منزل کی دھن تھی وہ چلتے رہے میں انہیں بھی گلے سے لگاتا رہا میرے بارے میں جو زہر اگلتے رہے ہم تو قائم رہے اپنی ہر بات پر تم برنگ زمانہ بدلتے رہے یاد کے جگنوؤں سے وہ عالم رہا دیپ بجھتے ...

مزید پڑھیے

اک شگفتہ گلاب جیسا تھا

اک شگفتہ گلاب جیسا تھا وہ بہاروں کے خواب جیسا تھا پڑھ لیا ہم نے حرف حرف اسے اس کا چہرہ کتاب کیسا تھا دور سے کچھ تھا اور قریب سے کچھ ہر سہارا سراب جیسا تھا ہم غریبوں کے واسطے ہر روز ایک روز حساب جیسا تھا کس قدر جلد اڑ گیا یارو وقت رنگ شباب جیسا تھا کیسے گزری ہے عمر کیا ...

مزید پڑھیے

خفا ہے گر یہ خدائی تو فکر ہی کیا ہے

خفا ہے گر یہ خدائی تو فکر ہی کیا ہے تری نگاہ سلامت مجھے کمی کیا ہے بس اک تجلیٔ رنگیں بس اک تبسم ناز ریاض دہر میں پھولوں کی زندگی کیا ہے خدا رسیدہ سہی لاکھ برگزیدہ سہی جو آدمی کو نہ سمجھے وہ آدمی کیا ہے عبث یہ مشق رکوع و سجود ہے یارو اگر پتہ نہیں مفہوم بندگی کیا ہے کہیں یہ لطف و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4002 سے 6203