قومی زبان

اگرچہ عہد جنوں کی حکایتیں ہیں اور

اگرچہ عہد جنوں کی حکایتیں ہیں اور زبان خلق پہ لیکن روایتیں ہیں اور توجہات تو ہیں ان کی دوسری پر بھی ہمارے حال پہ لیکن عنایتیں ہیں اور یہی نہیں کہ اٹھائی نگاہ دیکھ لیا کسی غریب کے دل کی رعایتیں ہیں اور کہاں کا شکر کہاں کا سپاس اے حیرتؔ یہاں تو چارہ گروں سے شکایتیں ہیں اور

مزید پڑھیے

اتر کر دل میں دل پر بار کیوں ہے

اتر کر دل میں دل پر بار کیوں ہے محبت جان کا آزار کیوں ہے روا ہو یا دعا بیکار کیوں ہے یہاں اتنا کوئی ناچار کیوں ہے یہاں دامان شوق و آرزو میں گل تر کیوں نہیں ہے خار کیوں ہے علاج درد دل ہوتے ہوئے بھی دگر گوں حالت بیمار کیوں ہے یہ دل میں درد یہ آنکھوں میں آنسو یہ لب پر آہ آتش بار ...

مزید پڑھیے

ہلاک غمزۂ باطل نہیں ہے

ہلاک غمزۂ باطل نہیں ہے مرے سینے میں ایسا دل نہیں ہے نہیں ہے اک سکون دل نہیں ہے وگرنہ کیا مجھے حاصل نہیں ہے زمانے کی مسیحائی سے حاصل وہی جب چارہ ساز دل نہیں ہے یہی کہتا ہوں دل سے ہر قدم پر ارے ظالم یہی منزل نہیں ہے وہ ایسا کون سا آنسو ہے جس میں مرا خون جگر شامل نہیں ہے محبت سے ...

مزید پڑھیے

دل تونگر کا ہو کہ مفلس کا

دل تونگر کا ہو کہ مفلس کا عشق پر اختیار ہے کس کا رشتے ناطے تو نام کے ہیں بس اس زمانے میں کون ہے کس کا پاؤں اس کے بھی تو زمیں پر ہیں آسماں پر دماغ ہے جس کا قبل از وقت کرتی ہے محسوس تجربہ تیز ہے چھٹی حس کا عیب دیکھیں گے لوگ بولیں گے بند منہ کیجئے گا کس کس کا آنے والا سلام کرتا ...

مزید پڑھیے

میں بدلتے ہوئے حالات پہ اکثر رویا

میں بدلتے ہوئے حالات پہ اکثر رویا دیکھ کر شہر کا بدلا ہوا منظر رویا چپ ہوا رو کے جو پھر رویا مکرر رویا رو کے جب جی نہ بھرا میرا تو جی بھر رویا جیسے تیسے مجھے رونا کبھی آیا ہی نہیں جب بھی رویا میں بہت سوچ سمجھ کر رویا منحصر تھا مرا رونا بھی مری مرضی پر چند لمحے کبھی رویا کبھی دن ...

مزید پڑھیے

یہ لوگ ہیں کیسے کہ جنہیں غم نہیں ہوتا

یہ لوگ ہیں کیسے کہ جنہیں غم نہیں ہوتا مر جائے اگر کوئی تو ماتم نہیں ہوتا ہر درد کی قسمت میں دوا بھی نہیں ہوتی ہر زخم کی تقدیر میں مرہم نہیں ہوتا ہو جاتا ہے شادابیٔ رخسار سے محروم وہ پھول جو آسودۂ شبنم نہیں ہوتا اظہار تمنا کی کوئی رت نہیں ہوتی اقرار وفا کا کوئی موسم نہیں ...

مزید پڑھیے

مجھے بے خانما کر کے پشیماں وہ نہ یوں ہوتا

مجھے بے خانما کر کے پشیماں وہ نہ یوں ہوتا اگر میری تباہی سے اسے حاصل سکوں ہوتا مجھے آسودگی بخشی تھی میری خستہ حالی نے مرے ہونٹوں پہ کیوں کر شکوۂ حال زبوں ہوتا در منعم پہ جھک کر سرفرازی ہوتی جو حاصل میں ایسی سرفرازی کے لئے کیوں سرنگوں ہوتا خرد کے سامنے ہوتی نہ رسوائی کبھی اس ...

مزید پڑھیے

شہرتیں اوروں نے پائیں نام اوروں کو ملا

شہرتیں اوروں نے پائیں نام اوروں کو ملا کام تو ہم نے کیا انعام اوروں کو ملا فصل جو میں نے اگائی کر کے محنت رات دن جب بکی وہ فصل میری دام اوروں کو ملا میرے پرکھوں نے لگائے پیڑ جو میرے لئے ان کی ٹھنڈی چھاؤں میں آرام اوروں کو ملا میرے حصے میں سلگتی دوپہر کی دھوپ تھی زندگی کا لطف صبح ...

مزید پڑھیے

اپنے حصار جسم سے باہر بھی دیکھتے

اپنے حصار جسم سے باہر بھی دیکھتے ہم آئنے کے سامنے ہو کر بھی دیکھتے عکس فلک سے ٹوٹتا کیسے جمود آپ پتھر گرا کے جھیل کے اندر بھی دیکھتے کرتے پلٹ کے اپنے ہی سائے سے گفتگو صحرا میں زرد‌‌ رنگ سمندر بھی دیکھتے دنیا کا خوف تھا تو لگاتے نہ آگ ہی یا موم کا پگھلتا ہوا گھر بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3979 سے 6203