قومی زبان

دن کو نہ گھر سے جائیے لگتا ہے ڈر مجھے

دن کو نہ گھر سے جائیے لگتا ہے ڈر مجھے اس پارۂ سحاب کو سورج نہ دیکھ لے اس ہاتھ کی مہک سے مرے ہاتھ شل ہوئے اس قرب سے ملے مجھے صدیوں کے فاصلے میری لویں بجھا نہ سکیں تیز آندھیاں جھونکوں کی نرم دھار سے کہسار کٹ گئے اپنی صدا کو روک لو کیا اس سے فائدہ ڈھلوان پر بھلا کبھی پتھر ٹھہر ...

مزید پڑھیے

بشارت کے کاسوں میں

ابھی تک اسے ڈھونڈنے کے لئے کوئی نکلا نہیں وہ جسے بھیڑ میں کھو دیا تھا کہیں گنگ الفاظ کی لالٹینوں کو روشن کئے اپنے اپنے دریچوں میں لٹکا دیا اور بجلی کڑکتے دھواں دھار موسم میں بھی اس طرح منتظر ہیں کہ کچھ دیر تک سرمدی سنکھ بجتے ہی چاروں طرف اپنے ہونے کا اظہار کرتا ہوا آپ ہی وہ کہیں ...

مزید پڑھیے

کوئی دود سے بن جاتا ہے وجود

آدھی رات کو فون بجا اور ابھری اک انجانی مغلوب صدا اپنی چیخ کی دہشت سے ابھی ابھی وہ جاگی ہے معلوم ہوا بیضوی چہرہ بے صورت سر پر مڑے تڑے دو سینگ اور سینے کے وسط میں اک پنج کونی آنکھ آنکھ کی پتلی میں میرا ہی عکس مقید آتش فشاں پہاڑ کی گہرائی سے ابھر کر خونی پنجے بھینچ بھینچ کر کھردرے ...

مزید پڑھیے

صبح بھی اپنی شام بھی اپنی

صبح بھی اپنی شام بھی اپنی اور مئے گلفام بھی اپنی پھول سا نازک دل بھی اپنا گردش صبح و شام بھی اپنی وہ بھی اپنے درد بھی اپنا آہ دل ناکام بھی اپنی شکوۂ بیش و کم کیا کیجے بزم شریک جام بھی اپنی حامدؔ کہہ دو اہل کرم سے دیں نہ صلائے عام بھی اپنی

مزید پڑھیے

اک روز جو گلشن میں وہ جان بہار آئے

اک روز جو گلشن میں وہ جان بہار آئے کلیوں پہ شباب آئے پھولوں پہ نکھار آئے نظروں کے تصادم میں تھیں ضبط کی تاکیدیں کیا جانے سمجھ کر گیا ہم دل کو بھی ہار آئے احساس تکبر میں حد سے نہ گزر جائیں شاید اسی مطلب سے پھولوں میں بھی خار آئے توبہ کے تقدس کا قائل تو ہوں میں لیکن پیمانہ بڑھا ...

مزید پڑھیے

فریب دے نہ کہیں عزم مستقل میرا

فریب دے نہ کہیں عزم مستقل میرا ہجوم یاس سے گھبرا نہ جائے دل میرا یہ کس مقام پہ پہنچا دیا محبت نے کہ میرے بس میں نہیں ہے خود آج دل میرا مبارک عیش کا ماحول خوش نصیبوں کو بہت ہے میرے لیے درد مستقل میرا سن اے نگاہ محبت سے روٹھنے والے ترے خیال میں گم ہے سکون دل میرا مرے گناہوں کا ...

مزید پڑھیے

جذبات تیز رو ہیں کہ چشمے ابل پڑے

جذبات تیز رو ہیں کہ چشمے ابل پڑے جب درد تھم سکا نہ تو آنسو نکل پڑے دیوانے سے نہ کیجیئے دیوانگی کی بات کیا جانے کیا زبان سے اس کی نکل پڑے اے دل مزا تو جب ہے کہ ہر زخم کھا کے بھی پیشانیٔ حیات پہ ہرگز نہ بل پڑے تھیں رہ گزار زیست میں دشواریاں مگر ہم رہروان شوق تھے گر کر سنبھل ...

مزید پڑھیے

ہر وفا نا آشنا سے بھی وفا کرنا پڑی

ہر وفا نا آشنا سے بھی وفا کرنا پڑی دل سے دشمن کے لئے اکثر دعا کرنا پڑی میں ہوا رسوا تو میرا غم بھی رسوا ہو گیا زندگی کی کس قدر قیمت ادا کرنا پڑی اے نگاہ محتسب جو چاہے تو کہہ لے مجھے جیتے جی اس دل کے ہاتھوں ہر خطا کرنا پڑی ہے فریب دل بھی شاید وجہ تکمیل وفا آرزوئے دل بھی ہم رنگ حنا ...

مزید پڑھیے

ہر چند دور دور وہ حسن و جمال ہے

ہر چند دور دور وہ حسن و جمال ہے اے وسعت نگاہ ترا کیا خیال ہے دنیائے آب و گل میں مسرت کی آرزو ایسی ہے جیسے آپ کا پانا محال ہے لو صبح انقلاب کا بھی آسرا گیا اب کاروبار زیست ترا کیا خیال ہے ویرانیٔ حیات کو پھر طول دیجئے یہ میری زندگی کا مقدم سوال ہے دنیا نے اس کو جان کے جانا نہیں ...

مزید پڑھیے

آزادی کا منظر اچھا لگتا ہے

آزادی کا منظر اچھا لگتا ہے شیش محل سے چھپر اچھا لگتا ہے تاج امیر شہر مبارک ہو تجھ کو دیوانوں کو پتھر اچھا لگتا ہے بچپن کب کا بیت چکا پھر بھی مجھ کو ماں کے ہاتھ کا بستر اچھا لگتا ہے میرے لہو کو پانی کی اب چاہ کہاں خشک گلے پر خنجر اچھا لگتا ہے تیری یاد کا چاند نکلتا ہے جس دم مجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3980 سے 6203