کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے
کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے ہم اور جاتے بزم عدو میں مگر گئے یہ تو خبر نہیں کہ کہاں اور کدھر گئے لیکن یہاں سے دور کچھ اہل سفر گئے ارماں جو ہم نے جمع کئے تھے شباب میں پیری میں وہ خدا کو خبر ہے کدھر گئے رتبہ بلند ہے مرے داغوں کا اس قدر میں ہوں زمیں پہ داغ مرے تا قمر ...