قومی زبان

کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے

کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے ہم اور جاتے بزم عدو میں مگر گئے یہ تو خبر نہیں کہ کہاں اور کدھر گئے لیکن یہاں سے دور کچھ اہل سفر گئے ارماں جو ہم نے جمع کئے تھے شباب میں پیری میں وہ خدا کو خبر ہے کدھر گئے رتبہ بلند ہے مرے داغوں کا اس قدر میں ہوں زمیں پہ داغ مرے تا قمر ...

مزید پڑھیے

جو ہونی تھی وہ ہم نشیں ہو چکی

جو ہونی تھی وہ ہم نشیں ہو چکی مرے مدعا پر نہیں ہو چکی برا ہو مری ناتوانی ترا نگاہ دم واپسیں ہو چکی امید کرم کچھ نہ ساقی سے رکھ کہ اب وہ مے ساتگیں ہو چکی سناؤں اگر تا قیامت تو کیا کہانی مری دل نشیں ہو چکی کروں کس طرح اب میں عرض نیاز کہ باقی ہے در اور جبیں ہو چکی تراوش کہاں زخم دل ...

مزید پڑھیے

چرچا ہمارا عشق نے کیوں جا بجا کیا

چرچا ہمارا عشق نے کیوں جا بجا کیا دل اس کو دے دیا تو بھلا کیا برا کیا اب کھولیے کتاب نصیحت کو شیخ پھر شب مے کدہ میں آپ نے جو کچھ کیا کیا وہ خواب ناز میں تھے مرا دیدۂ نیاز دیکھا کیا اور ان کی بلائیں لیا کیا روز ازل سے تا بہ ابد اپنی جیب کا تھا ایک چاک جس کو میں بیٹھا سیا کیا دیکھے ...

مزید پڑھیے

درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا ہو جائے گی

درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا ہو جائے گی موت آئے گی تو اے ہمدم شفا ہو جائے گی ہوگی جب نالوں کی اپنے زیر گردوں بازگشت میرے درد دل کی شہرت جا بجا ہو جائے گی کوئے جاناں میں اسے ہے سجدہ ریزی کا جو شوق میری پیشانی رہین نقش پا ہو جائے گی کاکل پیچاں ہٹا کر رخ سے آؤ سامنے پردہ دار حسن ...

مزید پڑھیے

پھرتا رہتا ہوں میں ہر لحظہ پس جام شراب

پھرتا رہتا ہوں میں ہر لحظہ پس جام شراب مجھ کو بد نام کرے گی ہوس جام شراب قافلہ عیش کا تیار ہے رندوں کے لیے قلقل شیشۂ مے ہے جرس جام شراب جنبش باد سحر سے ہے تموج مے میں قوت جان حزیں ہے نفس جام شراب خم لنڈھا دوں تو نہ چکرائے کبھی سر میرا ایک جرعہ میں گیا بو الہوس جام شراب مجھ سے ...

مزید پڑھیے

کھنڈر جو ہو گیا ایسا مکان کس کا تھا

کھنڈر جو ہو گیا ایسا مکان کس کا تھا ہوا جو سہہ نہ سکا سائبان کس کا تھا زمین کس کی تھی اور آسمان کس کا تھا خیال کس کا تھا دل میں گمان کس کا تھا تھکے ہوئے تھے مسافر کنارے لگ جاتے وہ کشتی ڈوب گئی بادبان کس کا تھا غرور تھا جنہیں اپنی زمین داری کا زمین دوز ہوا خاندان کس کا تھا

مزید پڑھیے

نصیحت

کہنا نہ کسی سے اپنے جی کی ہے بات یہ لاکھ اشرفی کی جو بات کرے کرے سمجھ کر پہچان یہی ہے آدمی کی سن لو جو کرے کوئی نصیحت کڑوی معلوم ہو کہ پھیکی فوراً ہی مانگ لی معافی بھولے سے خطا اگر کبھی کی کھاؤ ترس ان پہ جو ہیں بیکس تکلیف سے خوش نہ ہو کسی کی آئنے کو دل کے صاف رکھو جمنے نہ دو گرد دشمنی ...

مزید پڑھیے

آج یہ سوچنے بیٹھا ہوں کہ کل کیا ہوگا

آج یہ سوچنے بیٹھا ہوں کہ کل کیا ہوگا اس سے بڑھ کر بھی کسی سر میں خلل کیا ہوگا آج کچھ ہے تو سہی حال کسی کا بہتر یہ خدا ہی کو ہے معلوم کہ کل کیا ہوگا کام کی بات ہے کہنے کو تو کہہ دوں لیکن فکر ہی جب نہیں کوئی تو عمل کیا ہوگا ایک دن اس کی محبت میں فنا ہو جانا اور اس عقدۂ دشوار کا حل کیا ...

مزید پڑھیے

حد سے گزری ہے ابتلا میری

حد سے گزری ہے ابتلا میری اب تو سن لے مرا خدا میری آج بیگانہ وہ نگاہیں ہیں تھیں جو مدت سے آشنا میری کون کرتا ہے مجھ غریب پہ رحم کون سنتا ہے التجا میری ہوں وہ بیمار غم کہ مشکل سے کر سکے گا کوئی دوا میری نہ ملا دل کا قدرداں نہ ملا یوں ہی رسوا ہوئی وفا میری کوئی انصاف بھی ہے دنیا ...

مزید پڑھیے

اک تو خود اپنی غمگینی

اک تو خود اپنی غمگینی اس پر ان کی نکتہ چینی اپنی شیرینی بھی تلخی ان کی تلخی بھی شیرینی کھل جائے گا یہ بھی اک دن کس نے کس کی راحت چھینی کافی ہے کیا یہ کہہ دینا سب حالات کی ہے سنگینی کر نہیں سکتی ہم کو قائل صرف عبارت کی رنگینی ہے یہ وفا وہ جرم محبت ہے جس کے پاداش یقینی کیا معلوم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3978 سے 6203