قومی زبان

اتفاق کے نقصانات

سالانہ امتحان میں مضمون کا موضوع تھا۔’’اتفاق‘‘ استاد نے طلباء کو بتا رکھا تھا کہ جب کسی چیز پر مضمون لکھنا ہو تو تین چیزوں کا خیال رکھو۔ ۱۔ تمہید، یعنی اس چیز کی وضاحت جس پر مضمون لکھنا ہو۔ ۲۔ فوائد ، پھر اس کے فائدے بیان کرو۔ ۳۔ نقصانات،اور آخر میں اس کے نقصانات تحریر ...

مزید پڑھیے

خدا کے دووعدے

ایک محفل میں ایک شاعر نامدار کا ذکر آیا جو ان دنوں آل انڈیا ریڈیو پر اپنے آپ کو پوری طر ح مسلط سمجھتا تھا ۔ پنڈت ہری چند اختر فرمانے لگے ۔ صاحب، کس جاہل مطلق کا نام لے رہے ہو۔ گلزار دہلوی کہنے لگے پنڈت جی انہیں جاہل مطلق کہہ رہے ہیں آپ؟... اس پر پنڈت جی نے بڑی سنجیدگی سے فرمایا میاں ...

مزید پڑھیے

گرا ہوا ’الف‘

پنڈت ہری چند اخترکسی مشاعرے میں غزل پڑھ رہے تھے ۔ سامعین میں سے اچانک ایک حضرت اٹھ کر ان کے مصرعہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہنے لگے۔ ’’اخترصاحب !دوسرے مصرعہ میں الف گرگیا ہے ۔‘‘ ’’تو پکڑ کر کھڑا کردیجئے۔‘‘ اخترصاحب کے اس جواب کو سن کر معترض الف کو کھڑا کرنے کی بجائے خفیف ہوکر خود ...

مزید پڑھیے

ڈرامے پر ڈرامہ

ڈاکٹر محمد دین تاثیرپرنسپل اسلامیہ کالج لاہور کی فرمائش پر پنڈت ہری چند اخترنے اسلامیہ کالج کے طلبا کے لئے ایک ڈرامہ لکھا تھا۔ پنڈت جی نے وہ ڈرامہ بخاری صاحب کو دکھایا۔ بخاری صاحب نے اسے اول سے آخر تک پڑھ ڈالا اور انہیں ایسا پسند آیا کہ پنڈت جی سے کہنے لگے ۔’’اخترتم یہ ڈرامہ ...

مزید پڑھیے

یہ دل ہے ، یہ جگر ہے، یہ کلیجہ

محترمہ بیگم حمیدہ سلطان صاحبہ جنرل سکریٹری انجمن ترقی اردو (دہلی) کے ہاں علی منزل میں ایک شعری نشست میں مرحوم حضرت نوح ناروی غزل سنارہے تھے ۔ ردیف تھی’ کیا کیا‘ نوح صاحب نے اپنی مخصوص تحت اللفظ طرز ادا میں جب یہ مصرعہ پڑھا: یہ دل ہے ، یہ جگر ہے، یہ کلیجہ تو پنڈت ہری چند اختر بے ...

مزید پڑھیے

ردیف کا ستم

اردو کے ایک عظیم الشان مشاعرے میں اردو کے مشہور شاعر مولانا انور صابری کے کلام پڑھنے کے باری آئی تو انہوں نے جو غزل پڑھی اس کی ردیف ’’ہے ساقی‘‘ تھی جس کا مقطع حسب ذیل تھا ۔ تری مستی بھری آنکھوں کو کوئی کچھ نہیں کہتا یہ انورصابری کیوں مفت میں بدنام ہے ساقی مولانا انور صابری ...

مزید پڑھیے

صورت سے وہ بیزار ہے معلوم نہیں کیوں

صورت سے وہ بیزار ہے معلوم نہیں کیوں دل پھر بھی طلب گار ہے معلوم نہیں کیوں ہر شخص کو بخشی گئی تمییز بد و نیک ہر شخص زیاں کار ہے معلوم نہیں کیوں اک چیز کہ سرمایۂ راحت ہے اسے لوگ کہتے ہیں کہ آزار ہے معلوم نہیں کیوں پتا بھی اگر ہلتا ہے تو اس کی رضا سے اور بندہ گنہ گار ہے معلوم نہیں ...

مزید پڑھیے

ابھی تو یہی دیکھنا چاہتا ہوں

ابھی تو یہی دیکھنا چاہتا ہوں نہیں چاہتا ان کو یا چاہتا ہوں وہ کہتے ہیں تم مجھ سے کیا چاہتے ہو یہی کچھ تو میں جاننا چاہتا ہوں مری نیتوں پر نظر رکھنے والو خدارا بتا دو میں کیا چاہتا ہوں نہ سمجھا کوئی جس کو وہ حرف ہوں میں غلط ہو گیا ہوں مٹا چاہتا ہوں وہ پرجوش آنسو وہ خاموش ...

مزید پڑھیے

رمز آشنا ملے کئی اہل نظر ملے

رمز آشنا ملے کئی اہل نظر ملے پھر بھی یہ جستجو رہی کوئی بشر ملے عادل بھی ہو رحیم بھی ہو کارساز بھی سب کچھ تو ہو مگر ذرا ہم سے نظر ملے انکار سجدہ ہے یہاں کس رو سیاہ کو شایان سجدہ بھی تو مگر کوئی در ملے یہ ہے کمال جہل کہ معراج آگہی ہر لمحہ جستجو ہے کچھ اپنی خبر ملے عیش گریز پا کا ...

مزید پڑھیے

شیخ و پنڈت دھرم اور اسلام کی باتیں کریں

شیخ و پنڈت دھرم اور اسلام کی باتیں کریں کچھ خدا کے قہر کچھ انعام کی باتیں کریں یاس و حرمان و غم و آلام کی باتیں کریں آ دل ایذا طلب کچھ کام کی باتیں کریں یہ سنائیں پاک نغمے اولیں الہام کے وہ خدا کے آخری پیغام کی باتیں کریں ہم کھڑے سنتے رہیں اور دل میں یہ کہتے رہیں اب یہ رخصت ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3953 سے 6203