قومی زبان

ورلڈ بینک

چلو آؤ ہم اپنے بینک کے بڑھتے اثاثوں کے تناسب سے نئی بلڈنگ بنائیں اور اس تعمیر میں ہم وہ وسائل کام میں لائیں جو پس ماندہ ممالک کے سبھی نادار جسموں میں ذخیرہ ہیں چلو آؤ ہم ان جسموں کی ساری ہڈیوں کو خوب کوٹیں پھر ان کو پیس کے گارا بنائیں ہم ان کے گوش کے ٹکڑے جلا کر پلستر بھی بنائیں ...

مزید پڑھیے

رضیہ سلطانہ کورنگی، ''کے'' ایریا

اس نے جوں توں پڑھا پاس بھی ہو گئی کچھ دنوں کے لیے ناولوں ہندی فلموں چلتر سہیلی کی باتوں مزے دار سپنوں میں بھی کھو گئی خود بخود اپنے ہر شوق سے آشنا ہو گئی اور پھر ایک اتوار کو اس کے دونوں بڑے بھائیوں بھابیوں نے حساب اور چولھے الگ جب کیے اس نے اماں کو خود اعتمادی سے دیکھا کہ اب اس ...

مزید پڑھیے

عشق کی تقویم میں

مشیرؔ انکل! یہ سب باتیں ادھوری ہیں جو میں نے آپ سے کی تھیں جو مجھ سے آپ نے کی ہیں مگر چلیے ابھی تو جن کی بوتل اور آدھی شام باقی ہے یہ باتیں پھر سے کرتے ہیں مشیرؔ انکل! زمانہ عشق سے بڑھ کر نہیں ہے جو کہے جو کچھ کرے جو بھی دکھائے عشق سے بڑھ کر نہیں ہے عشق تو خود اک زمانہ ہے یہ پورا عہد ...

مزید پڑھیے

مشق کاتب

پنڈت ہری چند اختر صاحب کا ایک دوست انہیں راستہ میں مل گیا اور کہنے لگا: ’’پنڈت جی، آپ کو دعوت نامہ تو مل گیا ہوگا ۔ آئندہ ہفتے کے دن میرے بڑے لڑکے کی شادی ہوررہی ہے ۔ آج اس کے سہرے کی کتابت کروانے کے لئے یہاں آیا تھا ۔ اب اسے چھپوانے کے لئے پریس جارہا ہوں۔‘‘ اختر صاحب ایک دو ...

مزید پڑھیے

کامیاب مشاعرہ؟

مسوری کے مشاعرے سے واپسی پر جگن ناتھ آزاد ، ہری چند اختر،بسمل سعیدی ٹونکی کچھ اور شاعروں کے ساتھ سفر کررہے تھے۔ ہری چند اختر نے بات چیت کے دوران کہا’’مسوری کا مشاعرہ بہت بے کار رہا ہے ۔‘‘ آزاد صاحب اظہار حیرت کرتے ہوئے بولے۔’’اخترؔ صاحب مشاعرہ تو بہت کامیاب تھا ۔‘‘ اس پر ...

مزید پڑھیے

خواجہ دل محمد روڈ

خواجہ دل محمد دل اسلامیہ کالج لاہور میں حساب کے پروفیسر تھے ۔ لاہور میونسپل کارپوریشن نے کالج کے پیچھے والی سڑک کا نام ان کے نام پر’’خواجہ دل محمد روڈ‘‘ رکھ دیا تھا ۔ہری چند اختر ایک دن کچھ دوستوں کے ساتھ گزر رہے تھے۔ ان کی نظر سڑک پر لگے بورڈ پر گئی جس پر’’خواجہ دل محمد ...

مزید پڑھیے

بڑے شعر کی تعریف

چند ادب ذوق حضرات اردو کے ایک شاعر کی مدح سرائی کررہے تھے ۔ ان میں سے ایک نے کہا:’’صاحب ان کی کیا بات ہے ۔ بہت بڑے شاعر ہیں ۔ اب توحکومت کے خرچ پر یورپ بھی ہو آئے ہیں ۔‘‘ ہری چند اخترنے یہ بات سنی تو نہایت متانت سے کہا۔’’جناب اگر کسی دوسرے ملک میں جانے ہی سے کوئی آدمی بڑا شاعر ...

مزید پڑھیے

پنڈت جی کی غلط اردو

ہری چند اخترایک دن جوش صاحب سے ملنے گئے تو جاتے ہی پوچھا۔’’جناب آپ کے مزاج کیسے ہیں ؟ جوش صاحب نے فرمایا۔‘‘ پنڈت جی ، آپ تو غلط اردو بولتے ہیں۔ آپ نے یہ کیسے کہہ دیا کہ آپ کے مزاج کیسے ہیں ۔جبکہ میرا تو صرف ایک ہی مزاج ہے ، نہ کہ بہت سے مزاج۔‘‘ کچھ دن کے بعد اخترکی پھر جوش سے ...

مزید پڑھیے

ازار بند، کمر بند، دل بند اور دیوبند

علی گڑھ کے مشاعرے میں جب علامہ انور صابری دیوبندی کا نام پکارا گیا تو ہری چند اخترفرمانے لگے کہ ازار بند ، کمر بند ، دل بند تو سنا تھا ، یہ دیوبند کیا بلا ہے ۔ پھر خود ہی انور صابری صاحب کے ڈیل ڈول کو دیکھ کر کہنے لگے کہ’’ہاں سمجھ گیا دیوبند کا نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ وہاں پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3952 سے 6203