قومی زبان

یوں تو ہے سہل ہر اک کام کا آساں ہونا

یوں تو ہے سہل ہر اک کام کا آساں ہونا مولوی کے لئے دشوار ہے انساں ہونا نیم عریاں جو نظر آتی ہوں چلتے پھرتے کوئی دشوار ہے ان کے لئے عریاں ہونا بیٹھنے کی جو اجازت مجھے ڈیوڑھی پہ ملی بولے احباب مبارک تجھے درباں ہونا مصلحت کا تھا تقاضا جو بڑھا لی داڑھی عقد کی شرط تھی دیں دار مسلماں ...

مزید پڑھیے

یوں تو حاجی بھی تھا ملا بھی تھا وہ پیر بھی تھا

یوں تو حاجی بھی تھا ملا بھی تھا وہ پیر بھی تھا مثل سائیس مگر تیرا عناں گیر بھی تھا سینکڑوں طرح کی چیزیں تھیں ڈنر میں لیکن یہ تو فرمائیں وہاں قیمۂ خنزیر بھی تھا یوں تو مژگاں کے کٹاروں سے مسلح تھے سبھی ماہ وش ان میں کوئی دست بہ شمشیر بھی تھا میری ہی آنکھ کا تنکا نظر آیا سب ...

مزید پڑھیے

یہ گھونگھٹ کیا برقع کیا ردا کیا

یہ گھونگھٹ کیا برقع کیا ردا کیا اٹھا جب آنکھ کا پردہ رہا کیا یہ سچ ہے پیٹ ہی خالی اگر ہو کسی کا غمزہ و ناز و ادا کیا ہوا گر جیل کی کھائے نہ لیڈر اسے کھدر پہننے کا مزا کیا مہذب ہی رہے تعلیم کے بعد تو پھر اسکول میں تم نے پڑھا کیا ہو داخل جب ہوا میں آکسیجن عبث کوئی کرے فکر غذا ...

مزید پڑھیے

زخم کو پھول لہو کو جو حنا کہتے ہیں

زخم کو پھول لہو کو جو حنا کہتے ہیں ان کو شاعر نہیں شاعر کا چچا کہتے ہیں ہم تو پتلی سی چھڑی بھی نہیں کہتے اس کو لوگ اولاد کو پیری کا عصا کہتے ہیں صرف افسر اسے کہنا تو کوئی بات نہیں ہم تو صاحب کو کلرکوں کا خدا کہتے ہیں شادیاں اپنی کیا کرتے ہیں جو لے کے طلاق ان کو سب لوگ گدا ابن گدا ...

مزید پڑھیے

تو نہانے گھاٹ پر آیا تو دریا جل گیا

تو نہانے گھاٹ پر آیا تو دریا جل گیا آتش رخ سے ترے جو کچھ وہاں تھا جل گیا کیا بتاؤں اپنے میں سوز دروں کا ماجرا تھا پہننے کا ارادہ ہی کہ کرتا جل گیا اب تو غم خانے میں اپنے اک چٹائی بھی نہیں آگ اس گھر کو لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا میری آہ آتشیں کی زد میں شیخ آ ہی گئے صرف داڑھی بچ گئی ...

مزید پڑھیے

پھیلا ہے جال بام پہ زلف دراز کا

پھیلا ہے جال بام پہ زلف دراز کا طوطا اڑے نہ ہاتھ سے اہل نیاز کا دیکھی نہیں ہے تم نے ہماری پتنگ ابھی کیا نام لے رہے ہو ہوائی جہاز کا آمد پرنسپل کی ہے ہشیار لڑکیو یہ وقت ہے شگفتن گل ہائے ناز کا گوگل لگا کے آنکھ پہ چلنے لگے حسیں وہ لطف اب کہاں نگہ نیم باز کا پیتے نہیں ہیں دیس کے ...

مزید پڑھیے

جام تھا خم تھا سبو تھا مجمع احباب تھا

جام تھا خم تھا سبو تھا مجمع احباب تھا شیخ کا ان سب میں چہرہ کس قدر شاداب تھا میں نے دیکھا رات میری گود میں مہتاب تھا آپ ہی تعبیر اس کی دیں یہ کیسا خواب تھا قیس دیوانہ ترا اے لیلیٔ محمل نشیں تیری صورت دیکھنے کو کس قدر بیتاب تھا وہ قلی تھا یا تھا کوئی کاٹھ کا الو مرید پیٹھ پر لادے ...

مزید پڑھیے

سوکھے ہوئے درخت کے پتوں کو دیکھنا

سوکھے ہوئے درخت کے پتوں کو دیکھنا پھر چہرۂ حیات کے زخموں کو دیکھنا خوش رنگئ حیات کا پاؤ گے عکس تم پتھر اچھال کر ذرا لہروں کو دیکھنا میری نظر میں یہ بھی عبادت خدا کی ہے شفقت بھری نگاہ سے بچوں کو دیکھنا اس واسطے میں پاس ہی رکھتا ہوں آئنہ مشکل ہے اپنی آنکھ سے جذبوں کو ...

مزید پڑھیے

یوں تو دشوار ہے چھوٹے کا بڑا ہو جانا

یوں تو دشوار ہے چھوٹے کا بڑا ہو جانا ہر بھتیجے کی ہے معراج چچا ہو جانا ہوش تو ہوش لنگوٹی بھی گئی مجنوں کی کتنا مہنگا پڑا لیلیٰ پہ فدا ہو جانا کم سے کم وہ سر بازار تو اچھلے کورے لے کے پگڑی سر واعظ سے ہوا ہو جانا ہم نے دیکھا ہے انہیں آنکھوں سے کچھ بندوں کا چڑھ کے کرسیٔ وزارت پہ خدا ...

مزید پڑھیے

آج کل بھیس میں لیڈر کے ہے شیطاں سمجھا

آج کل بھیس میں لیڈر کے ہے شیطاں سمجھا مگر اس بھید کو ہندو نہ مسلماں سمجھا پیرہن جسم کے ہم رنگ تھا اس کے اتنا کوئی ملبوس اسے سمجھا کوئی عریاں سمجھا گر یہی قدر سخن ہے تو سخن پر لعنت ایک قوال کو تو شاعر دوراں سمجھا بن کے مہماں جو گیا ہو گیا جوتا غائب میزبانی کے نہ اس راز کو مہماں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3910 سے 6203