قومی زبان

خلد میں بھی حسب عادت وعظ فرمائیں گے کیا

خلد میں بھی حسب عادت وعظ فرمائیں گے کیا شیخ حوروں سے حجامت اپنی بنوایں گے کیا واں دھرا ہی کیا ہے ٹیلے اور پہاڑوں کے سوا راکٹوں پر اڑنے والے چاند پر پائیں گے کیا دیکھتے ہی ریشہ خطمی ہو رہے ہیں پیر جی اس مریدن سے بھی اپنا عقد پڑھوائیں گے کیا پوچھ بیٹھے گر کہیں دھوتی پہننے کا ...

مزید پڑھیے

قد موزوں کا شجر یاد آیا

قد موزوں کا شجر یاد آیا اور پھر اس کا ثمر یاد آیا پھر الیکشن کا ہے سر میں سودا پھر انہیں لخت جگر یاد آیا چاند پر جانے کا مژدہ سن کر اپنا بھولا ہوا گھر یاد آیا ٹھیک چوراہے پہ میں جا بیٹھا جب ترا وقت سفر یاد آیا راہ میں مجھ کو وہ تنہا جو ملے جانے کیوں ان کا پدر یاد آیا دیکھ کر ...

مزید پڑھیے

میں وہ نہیں رہا وہ مرا دل نہیں رہا

میں وہ نہیں رہا وہ مرا دل نہیں رہا اب میں کسی سے عشق کے قابل نہیں رہا کل میرے گھر سے میرا مصلیٰ اڑا لیا ملا بھی اعتبار کے قابل نہیں رہا انگلش اگر نہ آ سکی ہندی تو سیکھ لی اس شوخ کی نگاہ میں جاہل نہیں رہا کوے ملہار گائیں کہ الو بھجن سنائیں جب گلستاں میں شور عنادل نہیں رہا جاتا ...

مزید پڑھیے

غم فراق رگوں میں اتر گیا ہوتا

غم فراق رگوں میں اتر گیا ہوتا اگر میں تجھ سے بچھڑتا تو مر گیا ہوتا کبھی لباس کی خوشبو کبھی زبان کا لمس میں جانے کتنی حدوں سے گزر گیا ہوتا دو آنکھیں کب سے ترا انتظار کرتی ہیں تو میکدے سے کبھی اپنے گھر گیا ہوتا حصول علم نے مصروف رکھا ورنہ میں کسی کو عشق میں برباد کر گیا ...

مزید پڑھیے

ترے خیال تری آرزو سے دور رہے

ترے خیال تری آرزو سے دور رہے نواب ہو کے بھی ہم لکھنؤ سے دور رہے بدن کے زخم تو چارہ گروں نے سی ڈالے مگر یہ روح کے چھالے رفو سے دور رہے زمیں پہ ٹپکا تو یہ انقلاب لائے گا اسے بتا دو، وہ میرے لہو سے دور رہے کیا ہے ہم نے تیمم بھی خاک مقتل پر نماز عشق پڑھی اور وضو سے دور رہے مری زبان کا ...

مزید پڑھیے

حادثہ عشق میں درپیش ہوا چاہتا ہے

حادثہ عشق میں درپیش ہوا چاہتا ہے دل شہنشاہ سے درویش ہوا چاہتا ہے عشق کو ضد ہے کہ تعمیر کرے شہر امید حسن کم بخت بد اندیش ہوا چاہتا ہے اس علاقے سے مرا کوئی تعلق بھی نہیں یہ علاقہ کہ مرا دیش ہوا چاہتا ہے میرے اشعار میں غزلوں میں مرے گیتوں میں ایک کا ذکر کم و بیش ہوا چاہتا ہے جاہ ...

مزید پڑھیے

زرد موسم میں بھی اک شاخ ہری رہتی ہے

زرد موسم میں بھی اک شاخ ہری رہتی ہے دل کے گلشن میں کوئی سبز پری رہتی ہے تشنہ لب کون ہے وہ جس کے لئے نہر فرات میری پلکوں کی منڈیروں پہ دھری رہتی ہے مستقل خانہ بدوشی کا کوئی اجر نہیں پاؤں سے لپٹی مرے در بدری رہتی ہے اے مرے دل کے مکیں کچھ نہیں تبدیل ہوا تم جہاں رہتے تھے شوریدہ سری ...

مزید پڑھیے

دشت میں خاک اڑاتے ہیں دعا کرتے ہیں

دشت میں خاک اڑاتے ہیں دعا کرتے ہیں ہم قلندر جہاں جاتے ہیں دعا کرتے ہیں یار تو یار ہیں دشمن بھی سدا دور رہیں عشق سے جان چھڑاتے ہیں دعا کرتے ہیں یہ سلیقہ کہ محبت نے سکھایا ہے ہمیں زخم ہنستے ہوئے کھاتے ہیں دعا کرتے ہیں تیرا دل شاد رہے اور تو آباد رہے ہم تجھے چھوڑ کے جاتے ہیں دعا ...

مزید پڑھیے

زمینوں میں ستارے بو رہا ہوں

زمینوں میں ستارے بو رہا ہوں مجھے ہرگز نہ کہنا رو رہا ہوں گواہی دیں سمندر چاند ساحل اکیلا ہوں کبھی میں دو رہا ہوں اسے لوٹا دیا میں نے یہ کہہ کر ابھی جاؤ ابھی میں سو رہا ہوں محبت کی کہانی بھی عجب ہے جسے پایا نہیں تھا کھو رہا ہوں پرانے پر نئے کچھ زخم کھا کر لہو سے میں لہو کو دھو ...

مزید پڑھیے

چمکتے بجھتے ستاروں کے ساتھ کاٹتے ہیں

چمکتے بجھتے ستاروں کے ساتھ کاٹتے ہیں اس اہتمام سے ہم اپنی رات کاٹتے ہیں مری زبان کی قیمت لگانے والے لوگ مجھے خرید نہ پائے تو بات کاٹتے ہیں ہزاروں سال سے ظلم و ستم کے پروردہ مسافران محبت کے ہاتھ کاٹتے ہیں سوال بیعت آب فرات اٹھتے ہی عصائے تشنہ لبی سے فرات کاٹتے ہیں اسی کا نام ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3911 سے 6203