بیاں کیا کیجیے سوز دروں کو داستانوں میں
بیاں کیا کیجیے سوز دروں کو داستانوں میں نکل کے تیر کب آتے ہیں واپس پھر کمانوں میں ہماری سوچ کے بادل ہیں اڑتے آسمانوں میں کرے گی یاد یہ دنیا ہمیں آتے زمانوں میں سبھی مل کر بچھڑ جائیں اگر گمنام ہو جائیں مکیں پھر کس لئے بستے ہیں ان اونچے مکانوں میں رہے وحشت زدہ کے ساتھ تو وحشت ...