قومی زبان

بیاں کیا کیجیے سوز دروں کو داستانوں میں

بیاں کیا کیجیے سوز دروں کو داستانوں میں نکل کے تیر کب آتے ہیں واپس پھر کمانوں میں ہماری سوچ کے بادل ہیں اڑتے آسمانوں میں کرے گی یاد یہ دنیا ہمیں آتے زمانوں میں سبھی مل کر بچھڑ جائیں اگر گمنام ہو جائیں مکیں پھر کس لئے بستے ہیں ان اونچے مکانوں میں رہے وحشت زدہ کے ساتھ تو وحشت ...

مزید پڑھیے

کچھ تو ہمارے درمیاں ہے دل لگی ابھی

کچھ تو ہمارے درمیاں ہے دل لگی ابھی تیری نگاہ ناز میں ہے تشنگی ابھی خاموشیاں عجیب ہیں اس سرد شہر کی برفیلی اس ہوا میں ہے دیوانگی ابھی سوغات مل رہی ہے تری یاد کی مجھے اس ہجر نے سکھائی بہت شاعری ابھی وہ بیت ہی گئی جو اماوس کی رات تھی پھیلی ہے میرے چاروں طرف چاندنی ابھی جانے وہ ...

مزید پڑھیے

تیرے گلزار کی خوشبو سے سجا رہتا ہے

تیرے گلزار کی خوشبو سے سجا رہتا ہے میرے دربار کا جو در ہے کھلا رہتا ہے ہر قدم ساتھ رہا کرتی ہیں یادیں تیری دھیان تیرا ہی در دل پہ دھرا رہتا ہے وسوسے یوں تو ڈراتے ہیں اندھیروں سے مگر میری راہوں میں بھی اک دیپ جلا رہتا ہے پھر مخالف کو میں دل دار بناؤں کیسے اب عنایات کا انداز جدا ...

مزید پڑھیے

کبھی بہاروں کے موسموں میں جو دل کی بستی غزل سرا تھی

کبھی بہاروں کے موسموں میں جو دل کی بستی غزل سرا تھی وہیں کہیں ایک آرزو کے مچلنے کی بھی بڑی کتھا تھی جلا کے جب ساری کشتیاں میں سمندروں کی بنی غذا تھی اسی گھڑی تو جبین شب پر لکھی گئی میری بھی دعا تھی بنا سہاروں کے زیست مشکل گزار آئے تو پھر یہ جانا کہ میں ہی اپنے حسیں چمن کا زمین نم ...

مزید پڑھیے

جو معترض کھڑے ہیں مری اس اڑان پر

جو معترض کھڑے ہیں مری اس اڑان پر شکوہ نہ ان سے ہے نہ شکایت زبان پر وہ ہم سے پھر ملے گا کسی آسمان پر ہم ہیں کہ جی رہے ہیں فقط اس گمان پر پہنچے گا تیر میرا یہ اپنے نشان پر اتنا یقین مجھ کو ہے اپنی کمان پر تارے مری زمیں پہ جو سارے اتار دے میں اس کے سنگ سنگ اڑوں آسمان پر کب میں نے ...

مزید پڑھیے

کوئی بستی نئی ہم تم کہیں آباد کرتے ہیں

کوئی بستی نئی ہم تم کہیں آباد کرتے ہیں چلو آؤ کوئی رستہ نیا ایجاد کرتے ہیں سمندر ہو کہ صحرا ہو گل و گلزار ہو چاہے یہ ہم ہی لوگ ہیں جو ہر نگر آباد کرتے ہیں یہی خواہش تمہاری ہے کہ تم ہم سے بچھڑ جاؤ تو پھر جاؤ ابھی سے ہم تمہیں آزاد کرتے ہیں ہمیں تو آرزو یہ تھی قفس کو توڑ ڈالو ...

مزید پڑھیے

آرزو

آج پھر مرے دل کو یہ آرزو ہے نہ بچھڑے جو مرے روبرو ہے یہ مجھ سے چاہت کے وعدے جتا رہا ہے میرا ہے یقیں دل ربا ہے یہ دل کشمکش میں مبتلا ہے کہ اس کیفیت سے گزر چکا ہے یہ چاہت کے دعوے بھی سن چکا ہے اور بکھرے جذبے بھی چن چکا ہے اس چاہنے والے کے دل میں میں ہوں میں اس کا ارماں دل و جگر ہوں میرے ...

مزید پڑھیے

نیا عشق

خزاں کے موسم کی پہلی پت جھڑ حسین رنگوں سنہرے پتوں کی رہ گزر پر گزشتہ برسوں کا گیت سننے میں یوں مگن ہے خزاں کے موسم کی پہلی بارش بکھرتے خوابوں کا دکھ سمو کر برس رہی ہے شجر پہ ہر سو بکھرتی کرنیں یوں ٹہنیوں پر سنہرے آنچل سجا سجا کر نمو کا سپنا دکھا رہی ہیں عجیب مشکل سی آ پڑی ہے شجر کا ...

مزید پڑھیے

آنے والا سرد موسم

اک خاموشی چھا رہی ہے خشک پتے ہر طرف بکھرتے جا رہے ہیں اور آنے والے سرد موسم کا پیغام سنا رہے ہیں ساتھ ہی اک عجیب بے یقینی اداسی بن کر چھا رہی ہے آسمان کا نیلا پن اور اڑتے پرندے بھی شام کی گہری چپ پر خاموش ہیں سرد موسم کی خبریں گرم ہیں

مزید پڑھیے

اجالے بانٹ دینا تم

سفر پہ جب بھی نکلو تم دیا جب بھی جلاؤ تم ہمیشہ من میں رکھو تم دیے کی لو بڑھانا ہے اجالا بانٹ دینا ہے سفر میں جب بڑھو گے تم یقیناً جان لو گے تم اجالے بانٹ دینے سے سفر میں ساتھ دینے سے محبت ساتھ رہنے سے کبھی بھی کم نہیں ہوتی مسافت من نہیں چھوتی نئی کرنیں ابھرتی ہیں نئی راہیں بلاتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3865 سے 6203