چاہتا ہوں کہ مرا درد جگر اور بڑھے
چاہتا ہوں کہ مرا درد جگر اور بڑھے تیرگیٔ شب غم تا بہ سحر اور بڑھے دور ہے مجھ سے ابھی دامن صد رنگ ان کا کارواں اشکوں کا اے دیدۂ تر اور بڑھے یوں تو تنہا ہی چلا جاؤں گا میں منزل تک تم اگر ساتھ چلو عزم سفر اور بڑھے کتنی رنگین ہے جس راہ پہ اٹھا ہے قدم چاہتا ہوں کہ تری راہ گزر اور ...