قومی زبان

چاہتا ہوں کہ مرا درد جگر اور بڑھے

چاہتا ہوں کہ مرا درد جگر اور بڑھے تیرگیٔ شب غم تا بہ سحر اور بڑھے دور ہے مجھ سے ابھی دامن صد رنگ ان کا کارواں اشکوں کا اے دیدۂ تر اور بڑھے یوں تو تنہا ہی چلا جاؤں گا میں منزل تک تم اگر ساتھ چلو عزم سفر اور بڑھے کتنی رنگین ہے جس راہ پہ اٹھا ہے قدم چاہتا ہوں کہ تری راہ گزر اور ...

مزید پڑھیے

یہ دل مرا مرے پہلو سے عنقریب چلا

یہ دل مرا مرے پہلو سے عنقریب چلا شکست کھا کے غموں سے مرا رقیب چلا جب ان کی بزم سے اٹھ کر کوئی غریب چلا فضائیں چیخ اٹھیں حسن کا نقیب چلا وہ پھر سمیٹ کے بانہوں میں کائنات کا رنگ گلے صراحی سے مل کر مرا حبیب چلا جہاں جہاں متصادم ہوئی جنوں سے خرد بڑی ادا سے وہاں خامۂ ادیب ...

مزید پڑھیے

اپنی جب وفاؤں پر ان کو بد گماں دیکھا

اپنی جب وفاؤں پر ان کو بد گماں دیکھا ہم نے کتنی حسرت سے سوئے آسماں دیکھا تیلیوں سے ٹکرا کر کیا کہا ہواؤں نے چونک کر اسیروں نے سوئے گلستاں دیکھا ساز حال پر چھیڑا ہر ترانۂ ماضی دل کو جب کبھی ہم نے مائل فغاں دیکھا تیرگی کے پردے میں مرگ تیرگی ہے ہوشؔ جب اٹھا حجاب شب مہر ضو فشاں ...

مزید پڑھیے

دلوں سے ترک تعلق کا ڈر نکل جائے

دلوں سے ترک تعلق کا ڈر نکل جائے ترا مزاج ذرا سا اگر بدل جائے سبھی کے سامنے ہے اک ہجوم رشتوں کا وہ کامراں ہے جو اس بھیڑ سے نکل جائے اس ارتکاب تمنا پہ کیا سزا دو گے تمہارے قدموں پہ کوئی اگر مچل جائے مرے سلام کا رسماً بھی دیجئے نہ جواب مری طرف سے کبھی ذہن اگر بدل جائے سوائے اک ترے ...

مزید پڑھیے

اک نئی شان سے پھر جشن بہاراں ہونا

اک نئی شان سے پھر جشن بہاراں ہونا گلستاں تجھ کو مبارک ہو بیاباں ہونا پھول کے روپ میں کانٹوں نے ہمیں پالا ہے ہم کو آیا نہ کبھی غم سے پریشاں ہونا میرے اشعار نے پگھلا دیں کسی کی آنکھیں ایک بت کو بھی میسر ہوا انساں ہونا رامپور اے مرے تہذیب و تمدن کے دیار ہو مبارک تجھے اردو کا ...

مزید پڑھیے

دل پر نہیں ہم چھائے ہیں ذہنوں کے جہاں تک

دل پر نہیں ہم چھائے ہیں ذہنوں کے جہاں تک تم نے ابھی پائے نہیں منزل کے نشاں تک پھر بحث ہے تفصیل سے ہر چائے کدے میں زردار کے ایوان سے مفلس کے جہاں تک یہ وقت سے پہلے کی صدا رنگ نہ لائے سونا نہ پہنچ جائے کہیں رود گراں تک بکھری ہوئی تاریخ کی پھر جلد بندھے گی مظلوم کی فریاد سے ظالم کے ...

مزید پڑھیے

زندگی اس لئے شاید ہے پشیماں اے ہوشؔ

زندگی اس لئے شاید ہے پشیماں اے ہوشؔ کہ فقط موت ہے سرمایۂ انساں اے ہوشؔ خشک ہونٹوں پہ بھی رکھتے ہیں تبسم کی چمک کون کہتا ہے ہمیں بے سر و ساماں اے ہوشؔ وقت کی آنچ سکھا دیتی ہے جسموں کا لہو دل میں رہتے ہیں مگر خون کے طوفاں اے ہوشؔ ان کے سینوں میں دہکتے ہوئے انگارے ہیں تم نے دیکھے ...

مزید پڑھیے

خواب تو دیکھ چکے یار سہانے کتنے

خواب تو دیکھ چکے یار سہانے کتنے اب یہ بتلا کہ ترے غم ہیں اٹھانے کتنے پھول کھلنے بھی نہ پائے تھے کہ چپکے چپکے گشت کرنے لگے خوشبو کے دوانے کتنے تجھ کو معلوم نہیں ایک ترے دل کے سوا تیرے جوگی ہوے دنیا میں ٹھکانے کتنے دھوپ اس جسم کے سورج کی چرانے کے لیے ہجر کی رات تراشے ہے بہانے ...

مزید پڑھیے

تلاش منزل راحت میں ہم جہاں گزرے

تلاش منزل راحت میں ہم جہاں گزرے فریب خوردہ امیدوں کے درمیاں گزرے کئی حسین امیدوں نے پاؤں تھام لیے تری گلی سے جو اک بار ناگہاں گزرے بھٹک کے رہ گئے راہوں میں سوچنے والے مگر جو اہل عمل تھے رواں دواں گزرے ہزار بزم کی سرگوشیوں نے اکسایا مگر ہم اہل زباں ہو کے بے زباں گزرے

مزید پڑھیے

میرا تجھ سے ستارہ مل رہا تھا

میرا تجھ سے ستارہ مل رہا تھا کنارے سے کنارہ مل رہا تھا لکھا تھا نام میں نے جو خدا کا اسی کا بس سہارا مل رہا تھا تمہارے بعد ملنے ہجر آیا دکھی ہو کر دوبارہ مل رہا تھا نگاہوں میں کسی کی آس لے کر کسی سے دل ہمارا مل رہا تھا جو تھا اونچا تمہارا سلسلہ تو وہیں شجرہ ہمارا مل رہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3864 سے 6203