قومی زبان

کون کہتا ہے کے ہر شخص فرشتہ ہو جائے

کون کہتا ہے کے ہر شخص فرشتہ ہو جائے آدمی تھوڑا تو انسان کے جیسا ہو جائے کتنا معصوم نظر آتا تھا بچپن میں مرے آئنے میں مرا پھر سے وہی چہرہ ہو جائے پھر بلا کوئی میرے پاس سے گزرے کیسے جب دعا ماں کی مرے سر کا دوپٹہ ہو جائے آندھیوں کو یہ گماں ہے کہ بجھا دیں گی چراغ اور چراغوں کو یہ ضد ...

مزید پڑھیے

ان کے سب جھوٹ معتبر ٹھہرے

ان کے سب جھوٹ معتبر ٹھہرے جو میرے سچ تھے بے اثر ٹھہرے ہم بھی سو جاں نثار کر دیں گے ان کی ہم پر جو اک نظر ٹھہرے تنکا تنکا بکھر گیا آخر کیسے طوفاں میں کوئی گھر ٹھہرے دن کی خوشیاں نہ غم کی رات بنیں وقت کا بھی کبھی سفر ٹھہرے مسئلے ایک پل میں حل ہو جائیں تو اگر میرا چار‌ گر ٹھہرے اس ...

مزید پڑھیے

لب ہیں خاموش زباں سلب نگاہیں قیدی

لب ہیں خاموش زباں سلب نگاہیں قیدی زندگی نام کے زنداں میں ہیں سانسیں قیدی کل جو کھلتیں تھیں محبت کی حرارت پا کر ہو گئیں آج وہ بے باق سی باہیں قیدی کوئی آواز نہ سسکی نہ کوئی چیخ کہیں درد محبوس ہے سہمی ہوئی آہیں قیدی دو گھڑی کو ہی حقیقت یہ بھلانے کے لئے خواب دیکھے کوئی کیسے کہ ہیں ...

مزید پڑھیے

جب سے اک شوخ نظر پھیل گئی چہرے پر

جب سے اک شوخ نظر پھیل گئی چہرے پر آتش برق و شرر پھیل گئی چہرے پر بات چپکے سے محبت نے میرے کان میں کی اور خوشیوں کی خبر پھیل گئی چہرے پر راہ میں اس کی جلائے تھے امیدوں نے چراغ روشنی کی تھی کدھر پھیل گئی چہرے پر کس نے شیشے کی طرح توڑ دیا تھا اس کو چوٹ دل میں تھی مگر پھیل گئی چہرے ...

مزید پڑھیے

کھٹکھٹاتا ہے در دل کی بھلا زنجیر کون

کھٹکھٹاتا ہے در دل کی بھلا زنجیر کون دے رہا ہے میرے خوابوں کو نئی تعبیر کون میری آنکھوں کے حوالے سے مرے رخسار پر لکھ گیا کاجل سے اپنے درد کی تحریر کون جس کو پانے کے لیے مر مر کے جیتے ہیں سبھی قبر تک لے کر گیا دنیا کی وہ جاگیر کون جب خدا نے ہی نہیں لکھا اسے میرے لیے اس کو دنیا میں ...

مزید پڑھیے

جو سچ ہی بیچنا پڑے تو مول بھاؤ کیا کریں

جو سچ ہی بیچنا پڑے تو مول بھاؤ کیا کریں ہیں عکس عکس آئنے تو رکھ رکھاؤ کیا کریں ہیں شہر بھر میں شادیاں ہر ایک شخص شادماں کسی کے سامنے ہم اپنے دل کے گھاؤ کیا کریں تھی مطمئن نگاہ بھی کے بہہ چکا ہے سیل غم ہوا مگر جو سہن دل میں جل بھراؤ کیا کریں یہ کس کے غم کی آنچ سے سلگ رہا ہے ...

مزید پڑھیے

وہ آسماں ہے تو ہو میں زمین ہوں خوش ہوں

وہ آسماں ہے تو ہو میں زمین ہوں خوش ہوں انا کے شہر میں جب سے مکین ہوں خوش ہوں یہ جانتی ہوں کے رہتے ہیں سانپ اس میں مگر ابھی بھی پہنے وہی آستین ہوں خوش ہوں خزاں کے دشت میں جشن بہار بھی ہوگا نہ جانے کس لیے یوں پر یقین ہوں خوش ہوں سنا ہے چھوڑ کے مجھ کو وہ کچھ اداس سا ہے میں اس کی یاد ...

مزید پڑھیے

مسلمان اور ہندوستان

تاریخ بہ ہر دور الٹتی ہے ورق اور مذہب میں ہے لیکن وطنیت کا سبق اور تو مرد مسلماں ہے تو اک بات ذرا سن آگوش تیقن سے حقیقت کی صدا سن یہ سچ ہے مسلمان تباہی سے گھرا ہے اک وسوسۂ لا متناہی سے گھرا ہے آلام کی حد اپنے شکنجے میں لئے ہے اک دور مصائب ہے کہ نرغے میں لئے ہے آرام ہے مفقود سکوں پاس ...

مزید پڑھیے

مزدور بے چارا

ہوتا نہیں دم بھر بھی سکوں اس کو گوارا جس خاطر بیتاب کی فطرت ہی ہے پارا مظلوم کی فریاد سے جل جائے گا عالم صد شعلہ بہ داماں ہے ان آہوں کا شرارا غم‌ دیدوں کو دے عیش و طرب اور عطا کر تاج سر سلطانیٔ تیمور گدا را گرما دے رگیں اس کی امارت کے لہو سے جس ہستیٔ بے مایہ کا غربت ہے سہارا تخریب ...

مزید پڑھیے

ایک رنگین کہانی ہے ترے شہر کی رات

ایک رنگین کہانی ہے ترے شہر کی رات ہائے یہ کس کی جوانی ہے ترے شہر کی رات بس یوں ہی زلف بکھیرے ہوئے آ جا اے دوست آج کس درجہ سہانی ہے ترے شہر کی رات ریگزار دل شاعر کے لئے جان غزل موج دریا کی روانی ہے ترے شہر کی رات دل کی اس کہر زدہ یاس بھری بستی میں تجھ سے ہی مانگ کے لانی ہے ترے شہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3863 سے 6203