قومی زبان

علم کو اپنے با وقار کرو

علم کو اپنے با وقار کرو جاہلوں میں مرا شمار کرو دوست سب کام کر چکے اپنا سوچتے کیا ہو تم بھی وار کرو فن کسے چاہیے سو ایسے میں بس ترنم کا کاروبار کرو پگڑی آئی تو سر بھی آئے گا اور کچھ دیر انتظار کرو دن میں تعبیریں ٹوٹتی دیکھو رات بھر خواب کا شکار کرو بوجھ ہے سر بھی جن کے کاندھوں ...

مزید پڑھیے

جب کی نظر تلاش فریب نظر ملا

جب کی نظر تلاش فریب نظر ملا داد ہنر کے نام پہ زخم ہنر ملا خود اپنے سر پہ اپنی صلیبیں اٹھا چلو آوارگان شہر کو کار دگر ملا انعام قد کی نشو و نما سے مکر گیا دستار تو ملی ہے مگر کس کو سر ملا تم مل سکے نہ ترک تعلق کے بعد پھر یادوں کا اک ہجوم مجھے عمر بھر ملا میرے دل تباہ نے سو سو جتن ...

مزید پڑھیے

تختۂ مشق بنوں جاں بہ سپر ہو جاؤں

تختۂ مشق بنوں جاں بہ سپر ہو جاؤں تو بتا کون سا چہرہ لوں کدھر ہو جاؤں بے زبانوں کی رفاقت بھی میسر کر لی بولئے آپ کا منظور نظر ہو جاؤں راہ تکتے ہوئے آنکھیں تو ادھوری ٹھہریں کہیے سرکار کہ اب راہ گزر ہو جاؤں میری آواز سے ہمت کو جلا ملتی ہے بے کسی ٹوٹ پڑے میں کہ جدھر ہو جاؤں خیر ...

مزید پڑھیے

تختۂ مشق بنوں جاں بہ سپر ہو جاؤں

تختۂ مشق بنوں جاں بہ سپر ہو جاؤں تو بتا کون سا چہرہ لوں کدھر ہو جاؤں بے زبانوں کی رفاقت بھی میسر کر لی بولئے آپ کا منظور نظر ہو جاؤں راہ تکتے ہوئے آنکھیں تو ادھوری ٹھہریں کہیے سرکار کہ اب راہ گزر ہو جاؤں میری آواز سے ہمت کو جلا ملتی ہے بے کسی ٹوٹ پڑے میں کہ جدھر ہو جاؤں خیر ...

مزید پڑھیے

اپنی ہر ہار پہ اک جشن مناتے رہئے

اپنی ہر ہار پہ اک جشن مناتے رہئے زندگی بوجھ سہی بوجھ اٹھاتے رہئے کوئی آنے کے لیے کوئی تو ہو اندر بھی فلسفے چھوڑیئے زنجیر ہلاتے رہیے راہ چلنے کے لیے پاؤں ضروری تو نہیں سر نہیں نہ سہی دستار سجاتے رہیے کیا ضروری ہے کہ ہر کام سلیقے سے ہو جذبے ٹھنڈے سہی سگریٹ جلاتے رہیے کوشش ...

مزید پڑھیے

تمہاری یاد کے ہر شے سے نظارے نکلتے ہیں

تمہاری یاد کے ہر شے سے نظارے نکلتے ہیں جو مجھ سے فرض چھوٹے ان کے کفارے نکلتے ہیں دعاؤں کا اثر ماں کے لبوں سے پھوٹ پڑتا ہے میں جب بے چارہ ہوتا ہوں کئی چارے نکلتے ہیں کبھی مسجد کی بے حرمت کبھی اپمان مندر کا امیر شہر کے گھر سے کئی دھارے نکلتے ہیں کہاں کا علم کیسی ڈگریاں یہ حال ہے ...

مزید پڑھیے

بھولی باتوں سے بھی اب دل کو لگانا کیسا

بھولی باتوں سے بھی اب دل کو لگانا کیسا راہ جو چھوڑ چکے پھر وہاں جانا کیسا عقل اور عشق کا باہم یہ ملانا کیسا آپ پہلو میں ہیں پھر ہوش میں آنا کیسا تار دامن سے الجھتی رہی الجھن میری کیسی بے چارگی دامن کا بڑھانا کیسا پرکھے ہی جانے کا احسان لیے پھرتا ہوں کیسی مقبولیت اور دل میں ...

مزید پڑھیے

کسی نظر میں سماؤں وہ ولولہ بھی دے

کسی نظر میں سماؤں وہ ولولہ بھی دے نکھار بخشا ہے تو نے تو آئنا بھی دے تمام لفظ ہی خاموش مصلحت کے شکار زبان دی ہے تو کہنے کا حوصلہ بھی دے گمان و وہم کے مابین تھک کے بیٹھ گیا کہاں تلاش کروں کچھ اتا پتا بھی دے نفس نفس کی اذیت سے بات کیا بنتی مرے عزیز مجھے زخم جاں فزا بھی دے چراغ ...

مزید پڑھیے

لوٹتے وقت کی بے کیف تھکن کو بھولیں

لوٹتے وقت کی بے کیف تھکن کو بھولیں کس کے گھر جائیں کہ اس وعدہ شکن کو بھولیں سہمی آنکھوں کے سوالوں کی تپن یاد رکھیں تھرتھراتے ہوئے ہونٹوں کی کپن کو بھولیں گرم سانسوں کی جلن سرد سی آہوں کی تپن کیسے ممکن ہے کہ اس شعلہ بدن کو بھولیں شعر کہنے ہی نہیں دیتی ہیں یادیں تیری تجھ کو ...

مزید پڑھیے

خیال و خواب کی دنیا نہیں سنجونے کا

خیال و خواب کی دنیا نہیں سنجونے کا ادھار مانگ کے رسوا نہ اب کے ہونے کا کوئی تو آئے گا سرخی کا عیب بتلانے لہو کے داغ بھی چہرے سے اب نہ دھونے کا محبتوں میں محبت کی کوئی آس نہ رکھ یہ کاروبار تو پانے کا ہے نہ کھونے کا بچھڑتے وقت جو تلقین بھی نہ کر پایا پھر اس کی یاد میں آنچل نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 373 سے 6203