قومی زبان

کب کہاں ہم نے کہ معمار غزل ہم بھی ہیں

کب کہاں ہم نے کہ معمار غزل ہم بھی ہیں ہاں سنبھالے ہوئے مینار غزل ہم بھی ہیں غالبؔ و میرؔ شہنشاہ سخن ہیں لیکن اپنے خطے میں زمیندار غزل ہم بھی ہیں ہم نے بھی خون جگر دے کے سنوارا ہے اسے صاحبو غازۂ رخسار غزل ہم بھی ہیں ہم سمجھتے ہیں غزل کیسے کہی جاتی ہے واقف عظمت و معیار غزل ہم بھی ...

مزید پڑھیے

اک بٹا دو کو کروں کیوں نہ رقم دو بٹا چار

اک بٹا دو کو کروں کیوں نہ رقم دو بٹا چار اس غزل پر ہے قوافی کا کرم دو بٹا چار شعلۂ گل سے چمن میں کہیں لگ جائے نہ آگ اب تو شبنم بھی نظر آتی ہے نم دو بٹا چار کون کہتا ہے کہ جنگل میں نہیں شیر کو غم میں نے ضیغم میں ملا دیکھا ہے غم دو بٹا چار اس کے سینے سے لگے بیٹھے ہیں زخموں کے ...

مزید پڑھیے

مدعا حاصل مرا ہو کر رہا

مدعا حاصل مرا ہو کر رہا درد دل دل کی دوا ہو کر رہا حوصلہ ہی آسرا ہو کر رہا کوئی در ہو ہم کو وا ہو کر رہا راس ہم کو آ گئے سارے الم عمر کا طے مرحلہ ہو کر رہا لعل اگل کر آگ اگلا ہے سدا لالہ رو کس کا سگا ہو کر رہا وصل ہمدم سے رہے محروم ہم لکھا طالع کا سدا ہو کر رہا صدمے ہر لمحہ سہے حد ...

مزید پڑھیے

لگتا ہے ان دنوں کے ہے محشر بکف ہوا

لگتا ہے ان دنوں کے ہے محشر بکف ہوا ہیں سر بکف چراغ تو خنجر بکف ہوا جب سے چمن میں رکھا ہے بلبل نے آشیاں شعلہ بکف ہے برق تو اخگر بکف ہوا رخسار گل کے تل سے ہیں حیران خوشبوئیں ہے موسم بہار میں عنبر بکف ہوا علم و عمل سے ہوتی ہے کردار کی پرکھ اعلان کر رہی ہے یہ محضر بکف ہوا فرعون اور ...

مزید پڑھیے

بھولی باتوں سے بھی اب دل کو لگانا کیسا

بھولی باتوں سے بھی اب دل کو لگانا کیسا راہ جو چھوڑ چکے پھر وہاں جانا کیسا عقل اور عشق کا باہم یہ ملانا کیسا آپ پہلو میں ہیں پھر ہوش میں آنا کیسا تار دامن سے الجھتی رہی الجھن میری کیسی بے چارگی دامن کا بڑھانا کیسا پرکھے ہی جانے کا احسان لیے پھرتا ہوں کیسی مقبولیت اور دل میں ...

مزید پڑھیے

خیال و خواب کی دنیا نہیں سنجونے کا

خیال و خواب کی دنیا نہیں سنجونے کا ادھار مانگ کے رسوا نہ اب کے ہونے کا کوئی تو آئے گا سرخی کا عیب بتلانے لہو کے داغ بھی چہرے سے اب نہ دھونے کا محبتوں میں محبت کی کوئی آس نہ رکھ یہ کاروبار تو پانے کا ہے نہ کھونے کا بچھڑتے وقت جو تلقین بھی نہ کر پایا پھر اس کی یاد میں آنچل نہیں ...

مزید پڑھیے

جو اپنے خواب کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں

جو اپنے خواب کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں مرے مزاج کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں کوئی سنے نہ سنے پھر بھی ہر صدا اپنی ہم ان فضاؤں میں تحلیل کرنا چاہتے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ ہر اشک اک چراغ بنے ہم اپنی آنکھوں کو قندیل کرنا چاہتے ہیں وہ جن کی کوئی بھی تاویل معتبر نہ ہوئی وہ پیش پھر نئی تاویل ...

مزید پڑھیے

ہر رسم ہر رواج سے تنگ آ چکے ہیں اب

ہر رسم ہر رواج سے تنگ آ چکے ہیں اب ہم اپنے ہی سماج سے تنگ آ چکے ہیں اب کچھ ہم سے زندگی کے تقاضے بھی گھٹ گئے کچھ ہم بھی کام کاج سے تنگ آ چکے ہیں اب چلئے کہ دیکھتے ہیں کسی اور کی طرف ہم اپنے ہم مزاج سے تنگ آ چکے ہیں اب ہم کو مرض وہ ہے کہ پریشان ہیں طبیب اور ہم بھی ہر علاج سے تنگ آ چکے ...

مزید پڑھیے

بغیر شبدوں کی ایک رچنا سنا رہی ہیں تمہاری آنکھیں

بغیر شبدوں کی ایک رچنا سنا رہی ہیں تمہاری آنکھیں تمہارے سینے میں کیا تڑپ ہے بتا رہی ہیں تمہاری آنکھیں نہیں ہے یہ کوئی گیت میرا یہ کوئی میری غزل نہیں ہے وہی میں کاغذ پہ لکھ رہا ہوں جو گا رہی ہیں تمہاری آنکھیں مری محبت کے آئنے سے تم اپنی آنکھیں چرا رہی ہو مگر مرے دل کو چپکے چپکے ...

مزید پڑھیے

خیال و فکر کے کچھ زاویے تلاش کرو

خیال و فکر کے کچھ زاویے تلاش کرو غزل کہو تو نئے قافیے تلاش کرو جو طاق طاق بھڑکتے ہیں ان کو گل کر دو اجالے بخشنے والے دیے تلاش کرو کتاب دل کی عبارت میں ہو اگر ابہام تو پھر جبیں پہ لکھے حاشیے تلاش کرو ٹھہر سکے گی نہ شام و سحر کی یہ گردش قیام گاہ نہ اپنے لیے تلاش کرو غموں کی شان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 372 سے 6203