قومی زبان

تمہاری یاد کے ہر شے سے نظارے نکلتے ہیں

تمہاری یاد کے ہر شے سے نظارے نکلتے ہیں جو مجھ سے فرض چھوٹے ان کے کفارے نکلتے ہیں دعاؤں کا اثر ماں کے لبوں سے پھوٹ پڑتا ہے میں جب بے چارہ ہوتا ہوں کئی چارے نکلتے ہیں کبھی بے حرمتی مسجد کی اور اپمان مندر کا امیر شہر کے گھر سے کئی دھارے نکلتے ہیں کہاں کا علم کیسی ڈگریاں یہ حال ہے ...

مزید پڑھیے

میں تجھے آیا ہوں ایماں بوجھ کر

میں تجھے آیا ہوں ایماں بوجھ کر باعث جمعیت جاں بوجھ کر بلبل شیراز کوں کرتا ہوں یاد حسن کوں تیرے گلستاں بوجھ کر دل چلا ہے عشق کا ہو جوہری لب ترے لعل بدخشاں بوجھ کر ہر نہ کرتی ہے نظارے کی مشق خط کوں تیرے خط ریحاں بوجھ کر اے سجن آیا ہوں ہو بے اختیار تجھ کوں اپنا راحت جاں بوجھ ...

مزید پڑھیے

جس دل ربا سوں دل کوں مرے اتحاد ہے

جس دل ربا سوں دل کوں مرے اتحاد ہے دیدار اس کا میری انکھاں کی مراد ہے رکھتا ہے بر میں دلبر رنگیں خیال کوں مانند آرسی کے جو صاف اعتقاد ہے شاید کہ دام عشق میں تازہ ہوا ہے بند وعدے پہ گل رخاں کے جسے اعتماد ہے باقی رہے گا جور و ستم روز حشر لگ تجھ زلف کی جفا میں نپٹ امتداد ہے مقصود دل ...

مزید پڑھیے

بھڑکے ہے دل کی آتش تجھ نیہ کی ہوا سوں

بھڑکے ہے دل کی آتش تجھ نیہ کی ہوا سوں شعلہ نمط جلا دل تجھ حسن شعلہ زا سوں گل کے چراغ گل ہو یک بار جھڑ پڑیں سب مجھ آہ کی حکایت بولیں اگر صبا سوں نکلی ہے جست کر کر ہر سنگ دل سوں آتش چقماق جب پلک کی جھاڑا ہے توں ادا سوں سجدہ بدل رکھے سر سر تا قدم عرق ہو تجھ با حیا کے پگ پر آ کر حنا حیا ...

مزید پڑھیے

علم کو اپنے با وقار کرو

علم کو اپنے با وقار کرو جاہلوں میں مرا شمار کرو دوست سب کام کر چکے اپنا سوچتے کیا ہو تم بھی وار کرو فن کسے چاہیے سو ایسے میں بس ترنم کا کاروبار کرو پگڑی آئی تو سر بھی آئے گا اور کچھ دیر انتظار کرو دن میں تعبیریں ٹوٹتی دیکھو رات بھر خواب کا شکار کرو بوجھ ہے سر بھی جن کے کاندھوں ...

مزید پڑھیے

اپنی ہر ہار پہ اک جشن مناتے رہیے

اپنی ہر ہار پہ اک جشن مناتے رہیے زندگی بوجھ سہی بوجھ اٹھاتے رہیے کوئی آنے کے لیے کوئی تو ہو اندر بھی فلسفے چھوڑیئے زنجیر ہلاتے رہیے راہ چلنے کے لیے پاؤں ضروری تو نہیں سر نہیں نہ سہی دستار سجاتے رہیے کیا ضروری ہے کہ ہر کام سلیقے سے ہو جذبے ٹھنڈے سہی سگریٹ جلاتے رہیے کوشش ...

مزید پڑھیے

کسی نظر میں سماؤں وہ ولولہ بھی دے

کسی نظر میں سماؤں وہ ولولہ بھی دے نکھار بخشا ہے تو نے تو آئینہ بھی دے تمام لفظ ہی خاموش مصلحت کے شکار زبان دی ہے تو کہنے کا حوصلہ بھی دے گمان و وہم کے مابین تھک کے بیٹھ گیا کہاں تلاش کروں کچھ اتا پتا بھی دے نفس نفس کی اذیت سے بات کیا بنتی مرے عزیز مجھے زخم جاں فزا بھی دے چراغ ...

مزید پڑھیے

مشتاق ہیں عشاق تری بانکی ادا کے

مشتاق ہیں عشاق تری بانکی ادا کے زخمی ہیں محباں تری شمشیر جفا کے ہر پیچ میں چیرے کے ترے لپٹے ہیں عاشق عالم کے دلاں بند ہیں تجھ بند قبا کے لرزاں ہے ترے دست اگے پنجۂ خورشید تجھ حسن اگے مات ملائک ہیں سما کے تجھ زلف کے حلقے میں ہے دل بے سر و بے پا ٹک مہر کرو حال اپر بے سر و پا کے تنہا ...

مزید پڑھیے

سجن ٹک ناز سوں مجھ پاس آ آہستہ آہستہ

سجن ٹک ناز سوں مجھ پاس آ آہستہ آہستہ چھپی باتیں اپس دل کی سنا آہستہ آہستہ غرض گویاں کی باتاں کوں نہ لا خاطر منیں ہرگز سجن اس بات کوں خاطر میں لا آہستہ آہستہ ہر اک کی بات سننے پر توجہ مت کر اے ظالم رقیباں اس سیں ہوئیں گے جدا آہستہ آہستہ مبادا محتسب بدمست سن کر تان میں آوے طنبورہ ...

مزید پڑھیے

ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ

ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ کہ جیوں گلشن میں آتی ہے بہار آہستہ آہستہ کیا ہوں رفتہ رفتہ رام اس کی چشم وحشی کوں کہ جیوں آہو کوں کرتے ہیں شکار آہستہ آہستہ جو اپنے تن کوں مثل جوئبار اول کیا پانی ہوا اس سرو قد سوں ہم کنار آہستہ آہستہ برنگ قطرۂ سیماب میرے دل کی جنبش سوں ہوا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 374 سے 6203