قومی زبان

تفسیر

میں یوسف ہوں مجھے بھی بھائیو کنویں میں پھنکواؤ کہ میں نے خواب میں دیکھے ہیں سورج چاند اور تارے مجھے کنویں میں پھنکواؤ کہ مجھے کو قافلے والے بھرے بازار میں بیچیں مجھے پھر قید میں ڈالے وہ جس کو مجھ سے رغبت ہے مجھے جب قید میں ڈالے تو میں خوابوں کی تعبیروں سے پھر وہ مرتبہ پاؤں کہ ...

مزید پڑھیے

بدن کی فصیلیں

رات پھر یوں ہوا ادھ کھلے آسماں پر پرندوں کی چیخوں میں لپٹے ہوئے خواہشوں کے بدن تلملانے لگے میرے کانوں میں میرے دہکتے ہوئے خون کی رنگ کی نور کی سیٹیاں سی بجیں پھر ارادوں کی چھاتی میں نیلی رگیں منجمد ہو گئیں پھر بدن کی فصیلوں کے سائے بنے جنبشوں میں وہی سرسراہٹ ہوئی پھر مرے جسم کی ...

مزید پڑھیے

میں اور وہ

میں تنہا تھا میں تنہا ہوں میں تنہا ہی رہوں شاید مرے کمرے کی دیواریں مجھے کھانے کو آتی ہیں ابھی کچھ دیر پہلے لوگ ملنے کو بہت آئے ابھی کچھ اور آئیں گے مرے اور ان کے سب کے درمیاں دیوار حائل ہے مگر وہ میں جسے چاہوں کہ آ جائے نہ آئے گی

مزید پڑھیے

وطن کے لیے دعا

یہاں نہ کوئی درخت ہوگا نہ پھول پتے نہ گھاس شبنم نہ چاند راتوں کو اپنا چہرہ دکھا سکے گا نہ دن کو سورج ہوا سلاخوں سے سر پٹخ کر گلے میں پھندا لیے یوں ہی در بدر پھرے گی یہ میری دھرتی یوں ہی رہے گی خزاں ہواؤں نے اس کی شادابیوں کے منظر اجاڑنے کو وہ گل کھلائے قضا بھی قسطوں میں آ رہی ہے مرا ...

مزید پڑھیے

دو پیادے

سردیوں کے موسم میں پچھلی رات کو چھت پر ہم جو ایک دوجے سے چاندنی کی بارش میں بے زبان جذبوں کی خوشبوؤں سے ملتے تھے حسن دل ربا تیرا لفظ کی حقیقت سے کتنا بے تعلق تھا ان کہا سنا سب کچھ لمحۂ مسرت تھا جب سے لب کشائی کے سلسلے ہوئے جاری تیری میری بحثوں نے ان کہا سنا سب کچھ منطقوں دلیلوں کے ...

مزید پڑھیے

پالتو جانور

ایک چھوٹے سے قد کا ہتھوڑا لیے میں بھی اک پالتو جانور کی طرح ورکشاپ کی خندق میں پھینکا گیا میرے اجداد نے ان روایات کو زندہ رکھنے کی خاطر مرے جسم پر ٹائروں اور سڑکوں کی مٹی ملی ٹین کی چھت کے نیچے بدن پک گیا جسم و جاں بے اماں الجھنوں میں گھرا اب مشینوں کے پرزوں میں دن رات یوں موبل ...

مزید پڑھیے

موت

وہ جنہیں آتا نہ تھا دنیا میں جینے کا شعار مر گئے تو بڑھ گیا ان کا وقار موت کتنی خوب صورت چیز ہے

مزید پڑھیے

پچھتاوا

میں نے دیکھے ہیں وہ مرحلے کہ جہاں زندگی موت کا باہمی فاصلہ دو قدم بھی نہ تھا ایسے لمحوں کی ساری اذیت کو میں کس قدر حوصلوں سے سنبھالے رہا جب تلک مجھ میں جینے کے آزار سے منسلک سانس لینے کی خواہش رہی میری فکر و نظر کی سبھی کاوشیں تیرہ و تار موجوں سے لڑتی رہیں اور میں موت کی سیڑھیوں پہ ...

مزید پڑھیے

زندگی

زندگی کیا ہے میں کچھ سوچ کے خاموش سا ہوں لوگ کہتے ہیں عناصر کا ظہور ترتیب میں سمجھتا ہوں کہ اک وہم مسلسل کے سوا زندگی کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں لیکن اجداد کی حکمت سے تفاوت توبہ اپنے افکار کی جدت مجھے منظور نہیں لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے

مزید پڑھیے
صفحہ 343 سے 6203