قومی زبان

اسی یقین اسی دست و پا کی حاجت ہے

اسی یقین اسی دست و پا کی حاجت ہے امام وقت کو پھر کربلا کی حاجت ہے کہیں نہ تجھ کو ترا شوق بے لباس کرے ترے جنوں کو جو میری قبا کی حاجت ہے کہاں سے آئے ابابیل ابرہہ کے لئے ترے بشر کو تو مال و غنا کی حاجت ہے عجیب طرز تکلم ہے اہل منصب کا بہت دنوں سے کسی خوش ادا کی حاجت ہے تمام حرب و جدل ...

مزید پڑھیے

ویسے تو تھے یار بہت پر کسی نے مجھے پہچانا تھا

ویسے تو تھے یار بہت پر کسی نے مجھے پہچانا تھا تم نے بس اک سمجھا مجھ کو تم نے بس اک جانا تھا تم بن سجنی جیون اپنا سونا آنگن ٹوٹا سپنا دل کو تم سے راہ تھی اتنی ہم نے کب یہ جانا تھا میں تو پاپی میری خاطر اپنا سب کچھ دان کیا کیوں دنیا جیسی پیاری بستی ایسے چھوڑ کے جانا تھا موت اور دل ...

مزید پڑھیے

اتنا کرم کہ عزم رہے حوصلہ رہے

اتنا کرم کہ عزم رہے حوصلہ رہے اس دل کے ساتھ درد کا رشتہ سدا رہے اپنی انا کے ساتھ جیے کج ادا رہے اب اس کا کیا ملال کہ بے دست و پا رہے خود ساختہ خداؤں کا مجھ کو نہیں ہے خوف تیری نوازشوں کا بس اک سلسلہ رہے آداب دوستی سے تو واقف کبھی نہ تھے تہذیب دشمنی سے بھی نا آشنا رہے یہ بھی ہمارے ...

مزید پڑھیے

ریت پر لکیریں

مرے سامنے آئنہ ہے کہ جس میں مجھے اپنی صورت نظر آ رہی ہے میں اپنے ہی چہرے پہ لکھی ہوئی داستانوں کو پڑھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ جن اجتماعی مسائل کو میں نے نگاہوں کے پھیلے ہوئے کھنڈروں میں سمویا ہوا ہے انہیں کون سمجھے انہیں کون جانے مجھے مردہ نسلوں کے اسلوب سے ہٹ کے کہنے کی پاداش ...

مزید پڑھیے

بناوٹی دلاسے

یہ آگ پانی ہوا یہ مٹی یہ واہموں کی کرشمہ سازی یہ علم و فن کے تمام قصے یہ عقل و دانش کی ساری باتیں یہ سب دلاسے بناوٹی ہیں میں دوستوں دشمنوں کی زد میں ہوں ہر کوئی پیش گوئیوں کے دراز قصے سنا رہا ہے کہ سب کو اپنے کرنسی نوٹوں کی فکر ہے ہر کوئی طلب اور رسد کے چکر میں اپنے بھاؤ چڑھا رہا ...

مزید پڑھیے

مشورہ

گلی کے موڑ پر غلیظ نالیوں کی ریت میں سفید پانیوں میں ہاتھ ڈال کر وہ لڑکیاں نہ جانے ڈھونڈھتی ہیں کیا میں ٹافیوں کے پیکٹوں کی رنگتیں دکھا دکھا کے منتوں سماجتوں سے ہاتھ جوڑ جوڑ کے انہیں بلا کے اپنی سمت کہہ رہا ہوں کان میں تمہیں میں چار آنے والی قلفیاں خرید دوں مگر اس ایک شرط پر کوئی ...

مزید پڑھیے

کتابوں کا رسیا

کتابوں کا رسیا وہ اک شخص جو چپ کی چادر لپیٹے بہت دل گرفتہ یہاں گھومتا ہے اسے میری جانب سے اتنا بتا دو کتابوں میں لفظوں کی جادوگری کے سوا کچھ نہیں ہے کتابیں جلا دو

مزید پڑھیے

زندگی کا ساز

تو کبھی راتوں کی تنہائی میں میرے پاس آ میرے کانوں سے مری خاموشیوں کے ساز سن تو مری آواز سن میری آنکھوں میں مچلتے موتیوں کے رنگ دیکھ تو کبھی قلب و نظر کی جنگ دیکھ دیکھ میں کن احتیاطوں کے سنہری جال کو درد میں ڈوبی ہوئی چھاؤں کے اس جنجال کو آرزوؤں کے جھروکوں میں سلگتی ہڈیوں کے گرد ...

مزید پڑھیے

سانسوں کے بندھن

سجا سجایا یہ گھر سلیقے کی ساری چیزیں تمام کمروں میں کس قرینے سے سج رہی ہیں یہ بند الماریوں میں رکھی ہوئی کتابیں یہ ٹیلی ویژن یہ ریڈیو یہ فریج یہ صوفے یہ میز کرسی یہ نرم بستر یہ بستروں کی گداز راتیں حسین صبحیں یہ میری بیوی یہ میرے بچے یہ ساری آسائشیں یہ رسمیں یہ سارے رشتے یہ سارے ...

مزید پڑھیے

تلاش

میں تجھے ڈھونڈنے نکلا ہوں مری جان نظر جانتا ہوں کہ تری راہ گزر کون سی ہے دیکھتا بھی ہوں کہ تو پاس سے گزری ہے مرے پر جو چھونے کو بڑھوں تجھ کو تو یہ تند ہوا راہ میں اک کڑی دیوار سی بن جاتی ہے کس طرف جاؤں کوئی نقش کف پا بھی نہیں ان فضاؤں میں فقط تیری مہک پاتا ہوں راہ بھولا ہوں کچھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 342 سے 6203