قومی زبان

ہر لحظہ مری زیست مجھے بار گراں ہے

ہر لحظہ مری زیست مجھے بار گراں ہے وہ میرا لہو ہے کہ مرا دشمن جاں ہے اس دور میں جینے کی سزا کاٹ رہا ہوں ہر سانس کی رفتار میں احساس زیاں ہے اڑ جاتے ہیں شاخوں سے سحر ہوتے ہی طائر بس رین بسیرا ہے یہاں جو بھی مکاں ہے دونوں ہی جنوں خیزی کے طوفاں میں گرفتار تہذیب عبادت نہ یہاں ہے نہ ...

مزید پڑھیے

درد کی خوشبو سے یہ مہکا رہا

درد کی خوشبو سے یہ مہکا رہا جب کبھی کمرے میں میں تنہا رہا عمر کی ندی چڑھی، اتری، گئی جسم کا صحرا مگر جلتا رہا دن کو تپتی فائلوں کی ریت پر میں تو ابرق کی طرح بکھرا رہا رات بھر اک جسم کی دیوار سے میں کلینڈر کی طرح چپکا رہا شب پلنگ پر ہانپتے سائے رہے خواب دروازے کھڑا تکتا رہا یاد ...

مزید پڑھیے

جانے کتنی دیر چلے گی ساتھ مرے چمکیلی دھوپ

جانے کتنی دیر چلے گی ساتھ مرے چمکیلی دھوپ آنے والا موسم لائے شاید گیلی گیلی دھوپ قریہ قریہ کانپ رہا ہے سرد ہوا کے جھونکوں سے کتنے آنگن گرمائے گی تنہا ایک اکیلی دھوپ چنچل شوخ ادا کرنیں تو دور دشا تک جا پہنچیں بیٹھی خود کو کوس رہی ہے آنگن کی شرمیلی دھوپ عظمت کی مستحکم چوٹی شاید ...

مزید پڑھیے

پٹریوں کی چمکتی ہوئی دھار پر فاصلے اپنی گردن کٹاتے رہے

پٹریوں کی چمکتی ہوئی دھار پر فاصلے اپنی گردن کٹاتے رہے دوریاں منزلوں کی سمٹتی رہیں لمحہ لمحہ وہ نزدیک آتے رہے زندہ مچھلی کی شاید تڑپ تھی انہیں سارے بگلے سمندر کی جانب اڑے ریت کے زرد کاغذ پہ کچھ سوچ کر نام لکھ لکھ کے تیرا مٹاتے رہے نرم چاہت کی پھیلی ہوئی گھاس کو وقت کے سخت پتھر ...

مزید پڑھیے

رات چوپال اور الاؤ میاں

رات چوپال اور الاؤ میاں اب کہاں گاؤں کا سبھاؤ میاں شعر کہنا تو خیر مشکل ہے شعر پڑھنا ہی سیکھ جاؤ میاں درس و تدریس جب کہ منصب ہے کچھ پڑھو اور کچھ پڑھاؤ میاں یہ جو پھیلی تو تم بھی جھلسو گے آگ کا کھیل مت رچاؤ میاں یہ سفر درد کا ہے رستے میں کیسا رکنا کہاں پڑاؤ میاں

مزید پڑھیے

گھٹی گھٹی ہی سہی میری چاہ لے لینا

گھٹی گھٹی ہی سہی میری چاہ لے لینا سفر طویل ہے کچھ زاد راہ لے لینا میں بے ثمر ہی سہی پھر بھی سایہ دار تو ہوں کڑی ہو دھوپ تو مجھ میں پناہ لے لینا ابھی تو ساتھ چلو ہاں جہاں میں رک جاؤں تم اس مقام سے پھر اپنی راہ لے لینا کسی مقام پہ ممکن ہے کام آ جائے ہمارے بیچ جو تھی رسم و راہ لے ...

مزید پڑھیے

مرے بھی سرخ رو ہونے کا اک موقع نکل آتا

مرے بھی سرخ رو ہونے کا اک موقع نکل آتا غم جاناں کے ملبے سے غم دنیا نکل آتا یہ مانا میں تھکا ہارا مسافر ہوں مگر پھر بھی تمہارے ساتھ چلنے کا کوئی رستہ نکل آتا تری یادوں کی پتھریلی زمیں شاداب ہو جاتی اگر آنکھوں کے صحرا سے کوئی دریا نکل آتا چلو اچھا ہوا ٹھہرا نہ وہ بھی آخر شب تک کہ ...

مزید پڑھیے

دل میں جب کبھی تیری یاد سو گئی ہوگی

دل میں جب کبھی تیری یاد سو گئی ہوگی چاند بجھ گیا ہوگا رات رو پڑی ہوگی کیا خبر کہ ایسے میں تم نے کیا کیا ہوگا مجھ سے ترک الفت کی بات جب چلی ہوگی بے قرار دنیا میں تیرے لوٹ آنے تک جاگتی تمنا بھی تھک کے سو چکی ہوگی کون ایسے قصوں کا اختتام چاہے گا جن میں تیری زلفوں کی بات آ گئی ...

مزید پڑھیے

حال کچھ اب کے جدا ہے ترے دیوانوں کا

حال کچھ اب کے جدا ہے ترے دیوانوں کا شہر میں ڈھیر نہ لگ جائے گریبانوں کا یہ مرا ضبط ہے یا تیری ادا کی تہذیب رنگ آنکھوں میں جھلکتا نہیں ارمانوں کا میکدے کے یہی آداب ہیں رندو سن لو غم نہیں کرتے ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کا سانس لینے کو کوئی اور ٹھکانا ڈھونڈو شہر جنگل سا ہوا جاتا ہے ...

مزید پڑھیے

برسوں بعد جو دیکھا اس کو سر پر الجھا جوڑا تھا

برسوں بعد جو دیکھا اس کو سر پر الجھا جوڑا تھا جسم بھی تھوڑا پھیل گیا تھا رنگ بھی کچھ کچھ میلا تھا تم بھی جس کو دیکھ رہے تھے وہ جو ایک اکیلا تھا دبلا پتلا الجھا حیراں ارمانوں کا میلا تھا جھیل کا شیشہ نیلے بادل کے ہونٹوں سے بھیگا تھا دور تلک شاخوں کے نیچے سبز اندھیرا پھیلا تھا بن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 341 سے 6203