قومی زبان

آزادی

جب ہم نے چلنا سیکھا ہمیں دوڑنا سکھایا گیا جب ہم دوڑنے لگے ہمیں بیساکھیاں تحفہ میں ملیں جب ہم نے سوچنا شروع کیا ہمارے چہرے مسخ کر دئے جب ہم نے بولنا چاہا ہمیں موت دے دی گئی

مزید پڑھیے

یمن اور شام کے بچوں کے لئے

نماز وحشت قبر سفید خون والے لوگ سیاہ دشت میں اجل کی روشنی بکھیرتے رہے ہم اپنی قبر میں پڑے ہوئے اجل کی روشنی سے بچ گئے مگر نئے کھلے ہوئے گل آفتاب اس کی بھینٹ چڑھ گئے ہم اپنی قبر میں پڑے پڑے یہ سوچتے ہیں اب امید کیا کریں کہ اپنے واسطے کوئی پڑھے نماز وحشت قبر

مزید پڑھیے

آسماں آتش ظلمات میں جل جائے تو

آسماں آتش ظلمات میں جل جائے تو خندۂ صبح کی تصویر بدل جائے تو اب تو آرام قیامت پہ ہوا ہے موقوف اور یہ آخری امید بھی ٹل جائے تو عکس آئینے میں اور عکس میں روپ اس کا ہے کبھی یہ آئنہ آنکھوں سے بدل جائے تو یہ جو دم سادھ کے بیٹھے ہیں اسے دیکھنے کو پتھروں کی بھی کہیں آہ نکل جائے تو ہم ...

مزید پڑھیے

تیری سانسوں کا زیر و بم جانم

تیری سانسوں کا زیر و بم جانم توڑ دے صبر کا بھرم جانم یہ بدن کوئی پر خطر رستہ فتنہ ساماں ہے خم بہ خم جانم ایسی نازک کمر کہ جلتے ہیں بہتی ندیوں کے پیچ و خم جانم تم نے بس مسکرا کے دیکھ لیا لڑکھڑانے لگے قدم جانم اتنی مدت کے بعد ملتی ہو حال پوچھو گی کم سے کم جانم

مزید پڑھیے

کسی بھی خانماں برباد سے نہیں ہوگا

کسی بھی خانماں برباد سے نہیں ہوگا ہمارا عشق تو فرہاد سے نہیں ہوگا تمہاری داد یا بے داد سے نہیں ہوگا ہمارا شعر ہے امداد سے نہیں ہوگا یہ لفظیات یہ بندش یہ فکر فرسائی یہ کام وہ ہے جو نقاد سے نہیں ہوگا یوں کھینچتا ہوں غزل میں ترے بدن کے خطوط یہ جان من کسی بہزاد سے نہیں ہوگا اگر ...

مزید پڑھیے

دل سے نکل نہ پائے گی موج ہوس کہ بس

دل سے نکل نہ پائے گی موج ہوس کہ بس اس طرح کھینچتی ہے یہ تار نفس کہ بس پھر یوں ہوا کہ روشنی نازل ہوئی وہاں پھر دیکھتے ہی کھل گیا چاک قفس کہ بس میں برف کی چٹان ہوں تو گرم رو چراغ مت پوچھ مجھ پہ کیا ہے تری دسترس کہ بس دم ساز تو بہت ہیں کوئی دم شناس ہو کوئی تپش سی ہے تہہ موج نفس کہ ...

مزید پڑھیے

اک لمحہ جو فرقت کے سوا اور بھی کچھ تھا

اک لمحہ جو فرقت کے سوا اور بھی کچھ تھا اک غم جو قیامت کے سوا اور بھی کچھ تھا اک چہرہ نگاہوں کے لیے فیض رساں تھا اک خواب زیارت کے سوا اور بھی کچھ تھا اک نقش تصور کے پرے بھی تھا مجسم اک وہم حقیقت کے سوا اور بھی کچھ تھا اک داغ جو رکھتا تھا مرے سینے کو روشن اک نام جو تہمت کے سوا اور ...

مزید پڑھیے

درد کے سامنے دولت نہیں دیکھی جاتی

درد کے سامنے دولت نہیں دیکھی جاتی جنگ میں صرف غنیمت نہیں دیکھی جاتی سر میں سودا ہو تو فرصت نہیں دیکھی جاتی دل کے کاموں میں سہولت نہیں دیکھی جاتی نقد جاں بیچ دی ہم نے ترے وعدے کے عوض مال اچھا ہو تو قیمت نہیں دیکھی جاتی سوچنا مت کبھی انجام سر راہ طلب دامن تیغ پہ قسمت نہیں دیکھی ...

مزید پڑھیے

اس کے شوخ لبوں کی لالی ڈس لے گی

اس کے شوخ لبوں کی لالی ڈس لے گی ناگن جیسی آنکھوں والی ڈس لے گی اس کے زہر نگاہ میں کوئی مستی ہے لگتا ہے وہ چشم غزالی ڈس لے گی شہزادی کا جسم خزانے جیسا ہے پہرے داروں کو رکھوالی ڈس لے گی دن بھر تو آفس میں بک بک کرتا ہوں شام کو پھر تنہائی سالی ڈس لے گی کون کسی کا بوجھ یہاں پر سہتا ...

مزید پڑھیے

تمہاری یاد میں کچھ یوں نئے موسم بناتا ہوں

تمہاری یاد میں کچھ یوں نئے موسم بناتا ہوں میں صحرائے جنوں میں ریت سے شبنم بناتا ہوں وہ مجھ کو زخم دینے کے لیے خنجر بناتے ہیں میں ان کو ٹھیک کرنے کے لیے مرہم بناتا ہوں تری صورت نگاہ و ذہن میں چھائی ہوئی ہے یار میں صبح و شام تصویروں کا اک البم بناتا ہوں میں خود کو ریشہ ریشہ فکر و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 322 سے 6203