آزادی
جب ہم نے چلنا سیکھا ہمیں دوڑنا سکھایا گیا جب ہم دوڑنے لگے ہمیں بیساکھیاں تحفہ میں ملیں جب ہم نے سوچنا شروع کیا ہمارے چہرے مسخ کر دئے جب ہم نے بولنا چاہا ہمیں موت دے دی گئی
جب ہم نے چلنا سیکھا ہمیں دوڑنا سکھایا گیا جب ہم دوڑنے لگے ہمیں بیساکھیاں تحفہ میں ملیں جب ہم نے سوچنا شروع کیا ہمارے چہرے مسخ کر دئے جب ہم نے بولنا چاہا ہمیں موت دے دی گئی
نماز وحشت قبر سفید خون والے لوگ سیاہ دشت میں اجل کی روشنی بکھیرتے رہے ہم اپنی قبر میں پڑے ہوئے اجل کی روشنی سے بچ گئے مگر نئے کھلے ہوئے گل آفتاب اس کی بھینٹ چڑھ گئے ہم اپنی قبر میں پڑے پڑے یہ سوچتے ہیں اب امید کیا کریں کہ اپنے واسطے کوئی پڑھے نماز وحشت قبر
آسماں آتش ظلمات میں جل جائے تو خندۂ صبح کی تصویر بدل جائے تو اب تو آرام قیامت پہ ہوا ہے موقوف اور یہ آخری امید بھی ٹل جائے تو عکس آئینے میں اور عکس میں روپ اس کا ہے کبھی یہ آئنہ آنکھوں سے بدل جائے تو یہ جو دم سادھ کے بیٹھے ہیں اسے دیکھنے کو پتھروں کی بھی کہیں آہ نکل جائے تو ہم ...
تیری سانسوں کا زیر و بم جانم توڑ دے صبر کا بھرم جانم یہ بدن کوئی پر خطر رستہ فتنہ ساماں ہے خم بہ خم جانم ایسی نازک کمر کہ جلتے ہیں بہتی ندیوں کے پیچ و خم جانم تم نے بس مسکرا کے دیکھ لیا لڑکھڑانے لگے قدم جانم اتنی مدت کے بعد ملتی ہو حال پوچھو گی کم سے کم جانم
کسی بھی خانماں برباد سے نہیں ہوگا ہمارا عشق تو فرہاد سے نہیں ہوگا تمہاری داد یا بے داد سے نہیں ہوگا ہمارا شعر ہے امداد سے نہیں ہوگا یہ لفظیات یہ بندش یہ فکر فرسائی یہ کام وہ ہے جو نقاد سے نہیں ہوگا یوں کھینچتا ہوں غزل میں ترے بدن کے خطوط یہ جان من کسی بہزاد سے نہیں ہوگا اگر ...
دل سے نکل نہ پائے گی موج ہوس کہ بس اس طرح کھینچتی ہے یہ تار نفس کہ بس پھر یوں ہوا کہ روشنی نازل ہوئی وہاں پھر دیکھتے ہی کھل گیا چاک قفس کہ بس میں برف کی چٹان ہوں تو گرم رو چراغ مت پوچھ مجھ پہ کیا ہے تری دسترس کہ بس دم ساز تو بہت ہیں کوئی دم شناس ہو کوئی تپش سی ہے تہہ موج نفس کہ ...
اک لمحہ جو فرقت کے سوا اور بھی کچھ تھا اک غم جو قیامت کے سوا اور بھی کچھ تھا اک چہرہ نگاہوں کے لیے فیض رساں تھا اک خواب زیارت کے سوا اور بھی کچھ تھا اک نقش تصور کے پرے بھی تھا مجسم اک وہم حقیقت کے سوا اور بھی کچھ تھا اک داغ جو رکھتا تھا مرے سینے کو روشن اک نام جو تہمت کے سوا اور ...
درد کے سامنے دولت نہیں دیکھی جاتی جنگ میں صرف غنیمت نہیں دیکھی جاتی سر میں سودا ہو تو فرصت نہیں دیکھی جاتی دل کے کاموں میں سہولت نہیں دیکھی جاتی نقد جاں بیچ دی ہم نے ترے وعدے کے عوض مال اچھا ہو تو قیمت نہیں دیکھی جاتی سوچنا مت کبھی انجام سر راہ طلب دامن تیغ پہ قسمت نہیں دیکھی ...
اس کے شوخ لبوں کی لالی ڈس لے گی ناگن جیسی آنکھوں والی ڈس لے گی اس کے زہر نگاہ میں کوئی مستی ہے لگتا ہے وہ چشم غزالی ڈس لے گی شہزادی کا جسم خزانے جیسا ہے پہرے داروں کو رکھوالی ڈس لے گی دن بھر تو آفس میں بک بک کرتا ہوں شام کو پھر تنہائی سالی ڈس لے گی کون کسی کا بوجھ یہاں پر سہتا ...
تمہاری یاد میں کچھ یوں نئے موسم بناتا ہوں میں صحرائے جنوں میں ریت سے شبنم بناتا ہوں وہ مجھ کو زخم دینے کے لیے خنجر بناتے ہیں میں ان کو ٹھیک کرنے کے لیے مرہم بناتا ہوں تری صورت نگاہ و ذہن میں چھائی ہوئی ہے یار میں صبح و شام تصویروں کا اک البم بناتا ہوں میں خود کو ریشہ ریشہ فکر و ...