قومی زبان

یہ مجھ میں جو بے انتہا تنہائی ہے

یہ مجھ میں جو بے انتہا تنہائی ہے اس دشت کی آب و ہوا تنہائی ہے میں درد کے نغمے سناؤں گا تمہیں تم جان لینا مدعا تنہائی ہے مجھ تک پہنچنے کو ہے اک راہ عمل اور جان لو وہ راستہ تنہائی ہے جو بھیڑ میں چہرے کہیں گم ہو گئے ان سے مرا اب رابطہ تنہائی ہے میں اس مقام ذات تک لایا گیا ہر ابتدا ...

مزید پڑھیے

اور پھر چہرۂ خاشاک بدل جائے گا

اور پھر چہرۂ خاشاک بدل جائے گا ایک دن موسم سفاک بدل جائے گا جب یہ ہنگام خوش ادراک بدل جائے گا آپ کا پیرہن خاک بدل جائے گا کوئی بے داغ قبا پوش ہے قاتل اپنا قتل کر لے گا تو پوشاک بدل جائے گا دام امید میں باندھے گا تمنائے خام وقت آنے پہ وہ چالاک بدل جائے گا

مزید پڑھیے

آتش غم میں بھبھوکا دیدۂ نمناک تھا

آتش غم میں بھبھوکا دیدۂ نمناک تھا آنسوؤں میں جو زباں پر حرف تھا بیباک تھا چین ہی کب لینے دیتا تھا کسی کا غم ہمیں یہ نہ دیکھا عمر بھر اپنا بھی دامن چاک تھا ہم شکستہ دل نہ بہرہ مند دنیا سے ہوئے ورنہ اس آلودگی سے کس کا دامن پاک تھا جوہر فن میرا خود میری نظر سے گر گیا حرف دل پر بھی ...

مزید پڑھیے

چند گھنٹے شور و غل کی زندگی چاروں طرف

چند گھنٹے شور و غل کی زندگی چاروں طرف اور پھر تنہائی کی ہمسائیگی چاروں طرف گھر میں ساری رات بے آواز ہنگامہ نہ پوچھ میں اکیلا نیند غائب برہمی چاروں طرف دیکھنے نکلا ہوں اپنا شہر جنگل کی طرح دور تک پھیلا ہوا ہے آدمی چاروں طرف میرے دروازے پہ اب تختی ہے میرے نام کی اب نہ بھٹکے گی ...

مزید پڑھیے

کیا ہے

گیہوں کیا شے ہے باجرا کیا ہے اور چاول ہے کیا چنا کیا ہے اف یہ بستہ مرے خدا کیا ہے مری تقدیر میں لکھا کیا ہے یہ اسکول اور مدرسہ کیا ہے ان کے کھلنے کا مدعا کیا ہے آج تک یہ سمجھ میں آ نہ سکا لکھنے پڑھنے سے فائدہ کیا ہے یہ کتابیں یہ کاپیاں یہ قلم ان میں کچھ تو کہو دھرا کیا ہے بس کتابوں ...

مزید پڑھیے

کتنے آزار مقدر سے لگے رہتے ہیں

کتنے آزار مقدر سے لگے رہتے ہیں تیرے بیمار تو بستر سے لگے رہتے ہیں کبھی تجھ بالا نشیں کو بھی خبر پہنچے گی کتنے سر ہیں جو ترے در سے لگے رہتے ہیں شام ہوتی ہے تو کام اور بھی بڑھ جاتا ہے ان گنت یادوں کے دفتر سے لگے رہتے ہیں تیری فرقت میں کسے جادہ و منزل کا دماغ غم کے مارے کسی پتھر سے ...

مزید پڑھیے

دل کو کتنا سمجھایا ہے سب مایا ہے

دل کو کتنا سمجھایا ہے سب مایا ہے کون کسی کا ہو پایا ہے سب مایا ہے جب بھی خواب سے باہر آنے کی کوشش کی نیند کا عالم گہرایا ہے سب مایا ہے ہم نے اپنی خاطر اک سولی بنوا کر خود کو اس پر لٹکایا ہے سب مایا ہے کیا مظہر کی نسبت ہوتی ہے منظر سے کیا سورج ہے کیا سایا ہے سب مایا ہے راہ میں ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھو زیست فسانہ تمام ہونے تک

نہ پوچھو زیست فسانہ تمام ہونے تک دعاؤں تک تھی سحر اور شام رونے تک مجھے بھی خود نہ تھا احساس اپنے ہونے کا تری نگاہ میں اپنا مقام کھونے تک ہر ایک شخص ہے جب گوشت نوچنے والا بچے گا کون یہاں نیک نام ہونے تک چہار سمت سے رہزن کچھ اس طرح ٹوٹے کہ جیسے فصل کا تھا اہتمام بونے تک بتا رہا ...

مزید پڑھیے

اگرچہ حال و حوادث کی حکمرانی ہے

اگرچہ حال و حوادث کی حکمرانی ہے ہر ایک شخص کی اپنی بھی اک کہانی ہے میں آج کل کے تصور سے شاد کام تو ہوں یہ اور بات کہ دو پل کی زندگانی ہے نشان راہ کے دیکھے تو یہ خیال آیا مرا قدم بھی کسی کے لیے نشانی ہے خزاں نہیں ہے بجز اک تردد بے جا چمن کھلاؤ اگر ذوق باغبانی ہے کبھی نہ حال ہوا ...

مزید پڑھیے

کیا ہوا ہم سے جو دنیا بد گماں ہونے لگی

کیا ہوا ہم سے جو دنیا بد گماں ہونے لگی اپنی ہستی اور بھی نزدیک جاں ہونے لگی دھیرے دھیرے سر میں آ کر بھر گیا برسوں کا شور رفتہ رفتہ آرزوئے دل دھواں ہونے لگی باغ سے آئے ہو میرا گھر بھی چل کر دیکھ لو اب بہاروں کے دنوں میں بھی خزاں ہونے لگی چند لوگوں کی فراغت شہر کا چہرہ نہیں یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 323 سے 6203