کورے کاغذ کی طرح بے نور بابوں میں رہا
کورے کاغذ کی طرح بے نور بابوں میں رہا تیرگی کا حاشیہ بن کر کتابوں میں رہا میں اذیت ناک لمحوں کے عتابوں میں رہا درد کا قیدی بنا خانہ خرابوں میں رہا جس قدر دی جسم کو مقروض سانسوں کی زکوٰۃ کیا بتاؤں جسم اتنا ہی عذابوں میں رہا بے صفت صحرا ہوں کیوں صحرا نوردوں نے کہا ہر قدم پر جب کہ ...