قومی زبان

کورے کاغذ کی طرح بے نور بابوں میں رہا

کورے کاغذ کی طرح بے نور بابوں میں رہا تیرگی کا حاشیہ بن کر کتابوں میں رہا میں اذیت ناک لمحوں کے عتابوں میں رہا درد کا قیدی بنا خانہ خرابوں میں رہا جس قدر دی جسم کو مقروض سانسوں کی زکوٰۃ کیا بتاؤں جسم اتنا ہی عذابوں میں رہا بے صفت صحرا ہوں کیوں صحرا نوردوں نے کہا ہر قدم پر جب کہ ...

مزید پڑھیے

قیام یک شبانہ

وہ چلی گئی وہ چٹاخ چڑیا چلی گئی مرے آشیاں میں گذشتہ شب وہ رکی مگر دم صبح پھر سے وہ اڑ گئی اسے اڑتے رہنا پسند تھا سو چلی گئی بڑی شوخ تھی بڑی تیز رو بڑا چہچہاتی تھی مسکراتی تھی اس کے پنکھوں میں کوئی دام وصال تھا مجھے اس کا نام پتا نہیں وہ کہاں سے آئی نہیں خبر وہ یہیں کہیں پہ چھپی ...

مزید پڑھیے

فصل استادہ

ہماری نسل دشت نا مراد کی وہ فصل ہے جسے اندھیروں سے نمو ملی یہ وحشتوں کا نم کشید کر جڑوں کو سینچتی رہی یہ خوف کی فضاؤں میں بھی پھلتی پھولتی رہی یہ فصل نا ترس جو اب تمام ہے کمال ہے جہان خوش معاش کے کسی نئے فریب کی ہے منتظر

مزید پڑھیے

سپنولے

بنی آدم تمہیں کچھ یاد بھی ہے جب تمہیں روشن نشانی دی گئی تھی گھمنڈی تیرگی کو جب گپھاؤں میں جلا کر مرغزاروں کو بہاروں سے سجایا جا رہا تھا تم اپنے ساتھ اک روشن نشانی اور گپھاؤں کی وراثت لے کے آئے تھے تمہارے ساتھ تھوڑے سانپ بھی تھے جنہوں نے اپنے ورثے کو گپھاؤں سے مہکتے مرغزاروں ...

مزید پڑھیے

یہ ہم نے مانا کہ ہوگا وصال یار نصیب

یہ ہم نے مانا کہ ہوگا وصال یار نصیب دل حزیں کو مگر ہے کہاں قرار نصیب یہ اپنا اپنا مقدر ہے اور کیا کہیے خزاں نصیب کوئی ہے کوئی بہار نصیب کوئی تو ایک نظر کے لیے ترستا ہے کسی کو ہوتا ہے دیدار بار بار نصیب نہ آرزو تری کرتے نہ آبرو کھوتے خود اپنے دل پہ اگر ہوتا اختیار نصیب سنا تو ہے ...

مزید پڑھیے

داغہائے دل کی تابانی گئی

داغہائے دل کی تابانی گئی ان کے جلووں کی فراوانی گئی آشنا نا آشنا سے ہو گئے اپنی صورت بھی نہ پہچانی گئی ایک دل میں سیکڑوں غم کا ہجوم پھر بھی اس گھر کی نہ ویرانی گئی اب کہاں وہ جذبۂ مہر و وفا آدمی سے خوئے انسانی گئی آئینے میں وقت کے اے ہم نفس دوستوں کی شکل پہچانی گئی رہ گئے ہوش ...

مزید پڑھیے

تری یادوں کے چراغوں میں یہ جلتی ہوئی رات

تری یادوں کے چراغوں میں یہ جلتی ہوئی رات مری آنکھوں سے چھلکتی رہی ڈھلتی ہوئی رات سم امروز سے مارا ہوا ہارا ہوا دن کسی فردا کی امیدوں پہ بہلتی ہوئی رات کبھی آنکھوں میں رکے کوئی گزرتا ہوا پل کبھی سانسوں میں اٹک جاتی ہے چلتی ہوئی رات نہ ٹلا ہے کبھی زخموں میں سلگتا ہوا دن نہ تھمی ...

مزید پڑھیے

کوئی سرمایہ کب رہا محفوظ

کوئی سرمایہ کب رہا محفوظ اک فقیری کا راستہ محفوظ گوشۂ دل ہے عالم حیرت بڑا معمور ہے بڑا محفوظ دشت پھر کیوں نہیں رہے آباد ابر آزاد ہے ہوا محفوظ کشمکش میں ہے طائر فردوس زمیں آباد اور خلا محفوظ جو ہوا کی پناہ میں آئے وہی رہ جائے گا دیا محفوظ

مزید پڑھیے

اپنے مٹ جانے کا ادراک لئے پھرتا ہوں

اپنے مٹ جانے کا ادراک لئے پھرتا ہوں ختم ہوتی ہوئی املاک لئے پھرتا ہوں آسماں میرا اک امکان لئے پھرتا ہے اور میں منطق افلاک لئے پھرتا ہوں خاک پاؤں سے نہ لگتی تھی کبھی لیکن اب خاک اور باد کی پوشاک لئے پھرتا ہوں کتنی ٹوٹی ہوئی بکھری ہوئی دنیا ہے یہ خاک اڑاتا ہوں جگر چاک لئے پھرتا ...

مزید پڑھیے

دل سے نکل نہ پائے گی موج ہوس کہ بس

دل سے نکل نہ پائے گی موج ہوس کہ بس اس طرح کھینچتی ہے یہ تار نفس کہ بس پھر یوں ہوا کہ روشنی نازل ہوئی وہاں پھر دیکھتے ہی کھل گیا چاک قفس کہ بس میں برف کی چٹان ہوں تو گرم رو چراغ مت پوچھ مجھ پہ کیا ہے تری دسترس کہ بس دم ساز تو بہت ہیں کوئی شناس ہو کوئی تپش سی ہے تہہ موج نفس کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 321 سے 6203