قومی زبان

نہ پھل نہ پھول نہ سایا شجر میں باقی ہے

نہ پھل نہ پھول نہ سایا شجر میں باقی ہے مگر وہ سوکھا ہوا پیڑ گھر میں باقی ہے گرے مکان کو صدیاں گزر گئیں لیکن پر اب بھی خوف سا دیوار و در میں باقی ہے ابھی ہے دیر یہاں انقلاب آنے میں بڑا سکوت ابھی شور و شر میں باقی ہے تم آنا چاہو پلٹ کر تو آ بھی سکتے ہو ہر ایک نقش قدم رہ گزر میں باقی ...

مزید پڑھیے

دل و دماغ میں پھر مشورہ سا ہونے لگا

دل و دماغ میں پھر مشورہ سا ہونے لگا میں اپنے آپ سے خود ہی لپٹ کے رونے لگا ستارے ٹوٹ کے گرنے لگے بچھونے پر میں لے کے چاند کو بانہوں میں جب بھی سونے لگا ادھر نظر نے تعارف کا ابر دکھلایا ادھر میں اپنی امیدوں کی فصل بونے لگا

مزید پڑھیے

حقیقتیں ہوں میسر تو خواب کیوں دیکھوں

حقیقتیں ہوں میسر تو خواب کیوں دیکھوں میں تشنگی میں بھی سمت سراب کیوں دیکھوں تمام عمر گزرنی ہے جب اندھیروں میں تو ایک شب کے لیے ماہتاب کیوں دیکھوں مرے مکان کے دروازے بند رہنے دو میں اپنی آنکھ سے موسم خراب کیوں دیکھوں ورق ورق ترے دل کی کتاب روشن ہو تو چہرہ چہرہ نیا انتساب کیوں ...

مزید پڑھیے

بعد اس کے میرے گھر میں اور کیا رہ جائے گا

بعد اس کے میرے گھر میں اور کیا رہ جائے گا بس کسی کے نام کا پتھر لگا رہ جائے گا کان بھر جائیں گے میرے خلوتوں کے شور سے اس کی یادوں کا پیمبر بولتا رہ جائے گا قید کر لے گا کوئی بچہ پروں کو کاٹ کر آسماں کی سمت طوطا دیکھتا رہ جائے گا قتل کر ڈالوں میں خود کو سوچتا ہوں بار بار میرے ...

مزید پڑھیے

دشت کا لمبا سفر تھا دور تک سایہ نہ تھا

دشت کا لمبا سفر تھا دور تک سایہ نہ تھا لوٹ جانے کے سوا آگے کوئی رستہ نہ تھا آندھیاں بے جان شاخوں سے الجھتیں بھی تو کیا پیڑ کے ننگے بدن پر ایک بھی پتہ نہ تھا کھل کے دونوں لڑ رہے تھے اک ذرا سی بات پر روکنے کے واسطے گھر میں کوئی بوڑھا نہ تھا سو گیا آنگن میں میں پھر چپ کی چادر اوڑھ ...

مزید پڑھیے

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے یہ بھی ممکن ہے بتا دے وہ کوئی کام کی بات اک نجومی کو چلو ہاتھ دکھایا جائے دیکھنا یہ ہے کہ کون آتا ہے سایہ بن کر دھوپ میں بیٹھ کے لوگوں کو بلایا جائے یا مری زیست کے آثار نمایاں کر دے یا بتا دے کہ تجھے کیسے ...

مزید پڑھیے

اب اس کے ملنے کا کوئی گمان بھی تو نہیں

اب اس کے ملنے کا کوئی گمان بھی تو نہیں کہ میرے شہر میں اس کا مکان بھی تو نہیں سلگنا دھوپ میں ہے بھیگنا ہے بارش میں کہ میرے سر پہ کوئی سائبان بھی تو نہیں انہوں نے پوچھا جو مجھ سے سبب خموشی کا کہوں گا کیا مرے منہ میں زبان بھی تو نہیں میں اپنے آپ سے رہتا ہوں بے تعلق سا نظر میں میری ...

مزید پڑھیے

رات کو میں نے خواب عجب سا دیکھا ہے

رات کو میں نے خواب عجب سا دیکھا ہے آگے آگ ہے روشن پیچھے دریا ہے کمرے کے اندر تو گھٹن ہے الجھن ہے باہر جھانک کے دیکھیں موسم کیسا ہے سارے رشتے توڑ کے ہم تو آئے تھے پھر یہ بیچ ہمارے جھگڑا کیسا ہے

مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ نیا پھر کوئی حملہ ہو جائے

اس سے پہلے کہ نیا پھر کوئی حملہ ہو جائے جاگتے رہیے یہاں تک کہ سویرا ہو جائے خود کو ہر سمت سے پانی میں گھرا پاتا ہوں مجھ پہ اللہ کرے پیاس کا غلبہ ہو جائے جسم میں جسم چھپا لیجے کہ اس سے پہلے ٹھنڈ بڑھ جائے ہوا کا کوئی حملہ ہو جائے کب سے وہ سنگ لیے پھرتا ہے بے چین اداس آج اے کاش مرا ...

مزید پڑھیے

ہم اس کے دھیان میں آئیں گے دھیان میں بھی نہ تھا

ہم اس کے دھیان میں آئیں گے دھیان میں بھی نہ تھا یقیں کا ذکر تو کیا ہے گمان میں بھی نہ تھا یہ پست تھی بھی تو کیا وہ بلند تھا بھی تو کیا زمیں کا حسن مگر آسمان میں بھی نہ تھا وہ سایہ جس کے لئے دھوپ سے گریز کیا نشان اس کا کہیں سائبان میں بھی نہ تھا تھکی تھکی سی چھتیں تھیں شکستہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 307 سے 6203