قومی زبان

آنکھوں میں تھا پیار لبوں پر نام وفا کا تھا

آنکھوں میں تھا پیار لبوں پر نام وفا کا تھا کل تک تو وہ شخص بھی بالکل میرے جیسا تھا اپنی اپنی مٹھی میں سب جگنو رکھے تھے لیکن سب کی راہوں میں کتنا اندھیارا تھا آندھی آنے سے پہلے ہی بچے جاگ گئے رات ہواؤں کے چلنے میں شور بلا کا تھا ہلکی سی بوچھار نے سارے نقش مٹا ڈالے رنگ ہماری ...

مزید پڑھیے

تمہارے شہر میں دیکھوں تو کیا نہیں ملتا

تمہارے شہر میں دیکھوں تو کیا نہیں ملتا بس اپنے گھر کے لیے راستہ نہیں ملتا عروج پر ہے نئے موسموں کا جاہ و جلال شجر پہ کوئی بھی پتہ ہرا نہیں ملتا ابھی ابھی کوئی آندھی ادھر سے گزری ہے رہ حیات مجھے نقش پا نہیں ملتا بچھڑ کے تجھ سے طبیعت اچاٹ رہتی ہے خود اپنے گھر میں بھی گھر کا مزا ...

مزید پڑھیے

کھڑکیاں کھولیں تو مجھ کو آج اندازہ ہوا

کھڑکیاں کھولیں تو مجھ کو آج اندازہ ہوا میرا ہی سایہ تھا وہ دیوار سے لپٹا ہوا آج کی شب بھی پلٹ آئے بنا دستک دئے سو رہا تھا گھر میں کوئی رات کا جاگا ہوا اس گلی کے موڑ پہ بیٹھا ہوں کتنی دیر سے جس طرح کوئی مسافر ہوں تھکا ہارا ہوا جس طرف بھی اب اڑا لے جائیں مجھ کو آندھیاں ایک پتہ ہوں ...

مزید پڑھیے

فیصلہ کوئی بلندی پہ پہنچ کر ہوگا

فیصلہ کوئی بلندی پہ پہنچ کر ہوگا جب مرے سامنے ہر شہر کا منظر ہوگا اور کچھ دیر اسے روند کے خوش ہو جاؤں آنکھ کھلتے ہی یہ سورج مرے سر پر ہوگا کشتیاں آج سے پہلے ہوئیں کتنی غرقاب اس کا اندازہ سمندر میں اتر کر ہوگا اک نجومی نے بتائی ہے بڑے کام کی بات کل کا دن آج سے ہر حال میں بہتر ...

مزید پڑھیے

جو تاب دید ملی بھی تو کیا دکھائی دیا

جو تاب دید ملی بھی تو کیا دکھائی دیا دلوں کے بیچ عجب فاصلہ دکھائی دیا سحر کا نکلا ہوا میں جو شام کو لوٹا تو میرے گھر میں کوئی دوسرا دکھائی دیا خلا میں بس گئے سب لوگ ایک اک کر کے زمیں پہ جانے یہ کیا حادثہ دکھائی دیا اڑاتے جاتے ہو خود کو یہ کس طرف یارو سفر میں کیا کوئی رستہ نیا ...

مزید پڑھیے

اس طرح ٹوٹ کر گرا پانی

اس طرح ٹوٹ کر گرا پانی بادلوں میں نہیں بچا پانی گھر بنایا تو تھا بلندی پر پھر بھی آنگن میں بھر گیا پانی لڑ جھگڑ کر کبھی تو آگ بنا اور کبھی برف بن گیا گیا پانی مجھ کو اپنے ہی شہر کا یارو راس آیا نہیں ہوا پانی لوگ دیوانہ وار ٹوٹ پڑے مدتوں بعد جب ملا پانی ہاتھ تھامے ہوئے ہواؤں ...

مزید پڑھیے

ہمارے گھر کا عجیب و غریب منظر ہے

ہمارے گھر کا عجیب و غریب منظر ہے کہیں تو آگ لگی ہے کہیں سمندر ہے وہ فاصلے ہیں کہ مٹتے نہیں کسی صورت سفر کا بھوت شب و روز میرے سر پر ہے وہ ایک لفظ جو عنوان گفتگو بنتا وہ ایک لفظ مری دسترس سے باہر ہے کسی کی آہٹیں دل کو ہلائے دیتی ہیں ضرور کوئی میرے جسم و جاں کے اندر ہے

مزید پڑھیے

قدم قدم پہ عجب خوف سا گزرتا ہے

قدم قدم پہ عجب خوف سا گزرتا ہے وہ اپنے گاؤں میں جاتے ہوئے بھی ڈرتا ہے ہوائیں چلنے لگی ہیں چہار جانب سے سنبھالنا کہ ہر اک سلسلہ بکھرتا ہے کبھی جھنجھوڑ کے رکھ دیتا ہے تمام بدن کبھی وہ دل میں دبے پاؤں بھی اترتا ہے بجائے اس کے کہ مجھ کو بھی جگمگا دیتا وہ چاند ہو کے مری تیرگی سے ڈرتا ...

مزید پڑھیے

بجا تھا زعم اگر اپنے بال و پر کا تھا

بجا تھا زعم اگر اپنے بال و پر کا تھا کہ شوق بھی تو اسے چاند کے سفر کا تھا کہاں سے ٹوٹ پڑی بیچ میں فصیل جہاں معاملہ تو فقط میرے بام و در کا تھا میں لوٹ آیا دبے پاؤں گھر کے آنگن سے مکان غیر کا دروازہ اپنے گھر کا تھا خود اپنے سائے کو گھیرے میں لے کے بیٹھ گیا کہ اہتمام مرے آخری سفر کا ...

مزید پڑھیے

تمہارے شہر میں تھا بھی تو اک مسافر میں

تمہارے شہر میں تھا بھی تو اک مسافر میں سو تھک کے بیٹھ گیا راستے میں آخر میں میں ہر لحاظ سے سیراب تھا خدا کی قسم یہ اور بات کہ پیاسا رہا بظاہر میں حروف ملتے ہی آواز ڈوب جاتی ہے جو چپ رہوں نہ بتاؤ تو کیا کروں پھر میں کسی بھی سمت بھٹکتا پھروں یمین و یسار تلاش راہ کروں بھی تو کس کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 306 سے 6203